Tuesday , May 23 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ مسئلہ ، حکومت اور مقامی جماعت میں ٹکراؤ

وقف بورڈ مسئلہ ، حکومت اور مقامی جماعت میں ٹکراؤ

وقف مافیا کے رول کو کم کرنے اقدام ، اسد اللہ کے ساتھ بدتمیزی پر چیف منسٹر برہم
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے یکطرفہ فیصلہ پر حکومت اور مقامی سیاسی جماعت میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے اور حکومت نے مقامی جماعت کے دباؤ کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وقف بورڈ کی کارکردگی میں وقف مافیا کے رول کو کم کیا جاسکے۔ بورڈ کے پہلے اجلاس میں ہفتہ کے دن ایجنڈہ کے بغیر ہی مقامی جماعت کے ارکان نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی خدمات متعلقہ محکمہ کو واپس کرنے کیلئے قرارداد پیش کرتے ہوئے دیگر ارکان کو تائید کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ مقامی جماعت کے ارکان نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے ساتھ جس طرح غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا اس پر چیف منسٹر کافی برہم ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم رول ادا کرنے والے محمد اسد اللہ کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر رپورٹ کی بنیاد پر کسی بھی وقت فیصلہ کرتے ہوئے بورڈ کی قرارداد کو مسترد کردیں گے۔ وقف بورڈ کے کسی بھی فیصلہ یا قرارداد کو مسترد کرنے کا حق حکومت کو حاصل ہے۔ چیف منسٹر کو رپورٹ کی روانگی کے بعد سے مقامی جماعت اور وقف مافیا نے حکومت اور حکومت میں شامل افراد پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے تاکہ قرارداد کو مسترد کرنے کی کارروائی کو روکا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کے ارکان وقف بورڈ کی کارکردگی میں مسائل پیدا کرنے کی صدرنشین کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے بھی بورڈ کی صورتحال سے چیف منسٹر کو آگاہ کردیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بورڈ کے ارکان شخصی عناد کے تحت عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے بجائے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کام کریں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے بجائے کسی اور عہدیدار کی تلاش کے سلسلہ میں ڈپٹی کلکٹر رینک کے بعض عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا لیکن کوئی بھی مسلم عہدیدار وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ محمد اسد اللہ سے قبل سی ای او کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایم اے حمید نے بھی دوبارہ اس عہدہ پر کام کرنے سے صاف انکار کردیا۔ ان حالات میں اسد اللہ کی بازماموری کے مخالفین کو زبردست دھکہ لگا ہے۔ دوسری طرف غیر قانونی طریقہ سے اپنے طور پر انچارج چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی ذمہ داری سنبھالنے والے وقف بورڈ ملازم کے خلاف کارروائی کی فائیل تیار کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے اصل فائیل کی واپسی کے ساتھ ہی مذکورہ ملازم کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوگا اور سکریٹری اقلیتی بہبود کے مطابق غیر قانونی طریقہ سے فائیلوں کی یکسوئی اور اقلیتی بہبود کی اجازت کے بغیر عہدہ سنبھالنے پر ایف آئی آر درج کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انچارج سی ای او کا ہر فیصلہ غیر قانونی ہے اور اقلیتی بہبود ان تمام فائیلوں کا جائزہ لے گا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب وقف بورڈ میں روز مرہ کے کام کاج ٹھپ ہوچکے ہیں اور مختلف کاموں سے رجوع ہونے والے افراد کو مایوسی کا سامنا ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین کی اکثریت بھی بورڈ کی قرارداد کی مخالفت کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد اللہ جیسے اصول پسند عہدیدار کی بورڈ کو ضرورت ہے اور گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے نہ صرف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیا بلکہ کئی اہم جائیدادوں کے تحفظ میں کامیابی حاصل کی۔ بورڈ کے ملازمین اور عہدیداروں کے جذبات و احساسات سے اعلیٰ عہدیداروں کو واقف کردیا گیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT