Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ ملازمین کی ذمہ داریوں میں تبدیلی کا منصوبہ

وقف بورڈ ملازمین کی ذمہ داریوں میں تبدیلی کا منصوبہ

ڈسپلن اور ورک کلچر پیدا کرنے کے لیے باقاعدہ رول بک پر عمل : چیف ایکزیکٹیو آفیسر کا بیان
حیدرآباد۔/14جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے ملازمین کی ذمہ داریوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت موجودہ ذمہ داریوں کو تبدیل کرتے ہوئے دیگر شعبہ جات میں متعین کیا جائے گا۔ ملازمین میں ڈسپلن اور ورک کلچر پیدا کرنے کیلئے باقاعدہ رول بک جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ قواعد کے مطابق ہر شعبہ میں ہر شخص کی اپنی ذمہ داری کو بحسن خوبی انجام دے سکے۔ ملازمین میں جوابدہی کا احساس پیدا کرنے کیلئے ان کے کام کی روزانہ رپورٹ طلب کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے جلال الدین اکبر نے بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اصلاحی قدم اٹھائے تھے لیکن ان کے تبادلے کے بعد حالات جوں کے توں ہوگئے۔ وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات کے بارے میں بے قاعدگیوں کی شکایات یوں تو عام ہیں لیکن ان میں سرفہرست شعبہ قضأت ہے۔ یہ شعبہ اگرچہ وقف بورڈ کے تحت آتا ہے لیکن اس پر عملاً کسی کا کوئی کنٹرول نہیں۔ بورڈ کے تمام شعبہ جات میں سب سے زیادہ کرپشن اور بے قاعدگیاں اسی شعبہ میں پائی جاتی ہیں اور وہاں جاری سرگرمیوں کے بارے میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس شعبہ پر عملاً بروکرس کا قبضہ ہے جو روزانہ ہزاروں روپئے بطور رشوت حاصل کررہے ہیں۔ میریج، طلاق، خلع اور تبدیلی مذہب جیسے سرٹیفکیٹ کیلئے رجوع ہونے والے افراد کا استحصال کرتے ہوئے بھاری رقومات حاصل کی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس شعبہ میں موجود چند افراد ایک رنگ کی طرح کام کررہے ہیں اور ہر ایک کے تحت روزانہ 20تا 30 درخواستیں داخل کی جاتی ہیں جن کا وہ کمیشن حاصل کرتے ہیں۔ اس بات کی شکایت ملی ہے کہ گولکنڈہ قضأت علاقہ سے ایک ایجنٹ روزانہ درخواستوں کے بنڈل کے ساتھ رجوع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قضأت میں کئی ایجنٹس موجود ہیں جن کی قضأت کے ملازمین سے ملی بھگت ہے۔ مقررہ وقت سے قبل کاؤنٹرس بند کرتے ہوئے عوام سے جلد سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیلئے بھاری رقم حاصل کی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تتکال کی فیس حاصل کرتے ہوئے یہ ایجنٹس جنرل زمرہ میں سرٹیفکیٹ حاصل کرتے ہیں جس سے وہاں کے ملازمین کو روزانہ ہزاروں روپئے حاصل ہورہے ہیں۔ درخواستوں کی جانچ کا کام کوئی قابل شخص نہیں بلکہ ایک اٹینڈر کے ذمہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سیکشن سے تعلق رکھنے والے اس قدر مضبوط ہیں کہ کوئی بھی ان کا تبادلہ دوسرے سیکشن میں نہیں کرسکتا کیونکہ اوپری سطح تک ان کی ملی بھگت ہوتی ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ اسنادات کے بغیر غیر ملکی افراد کو بھی چوری چھپے سرٹیفکیٹ کی اجرائی کی شکایات ملی ہیں اور حال ہی میں ایک پاکستانی شخص کو میریج سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا جس کی جانچ ابھی جاری ہے۔ کرپشن اور بے قاعدگیوں کے اس اہم مرکز کے خلاف کارروائی کرنا چیف ایکزیکیٹو آفیسر کیلئے بھی آسان نہیں تاہم انہوں نے اس شعبہ میں کرپشن کے خاتمہ اور سدھار کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس سیکشن سے رجوع ہونے والے ضرورتمند افراد نے شکایت کی کہ ملازمین کا رویہ ان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کا ہوتا ہے اور جب تک انہیں مطلوبہ رقم نہیں دی جاتی اس وقت تک سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا۔ چونکہ عوام اس شعبہ کو صرف ایک مرتبہ رجوع ہوتے ہیں لہذا وہ کسی بھی طرح رقم دے کر سرٹیفکیٹ حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح شعبہ قضأت روزانہ نئے افراد سے بھاری آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے جس کے سبب غریب اور متوسط طبقات کو کافی دشواری ہورہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں بعض درخواست گذاروں سے مارپیٹ کی بھی شکایت ملی تھی جس کے بعد اس شعبہ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم وہاں کے بااثر ملازمین نے اس تجویز کو عمل آوری سے روک دیا۔

TOPPOPULARRECENT