Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت

وقف بورڈ ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت

معمولی کرایہ ادا کر کے اراضیات اور مکانات پر قبضہ برقرار رکھنے والوں کی معطلی بھی ممکن
حیدرآباد۔/20 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اوقافی جائیدادوں کو تحویل میں رکھنے والے وقف بورڈ کے ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ وقف بورڈ کے بعض عہدیدار اور ملازمین اوقافی مکانات اور اراضیات اپنے قبضہ میں رکھے ہوئے ہیں جن کا معمولی کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں انہوں نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر سے رپورٹ طلب کی اور مکان کی تعمیر کے نام پر فی کس 10 لاکھ روپئے قرض حاصل کرنے والے 2 سابق عہدیداروں سے رقم واپس لینے اور مکانات وقف بورڈ کے کنٹرول میں لینے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مسجد یکخانہ شیخ پیٹ کے پاس اوقافی زمین حاصل کرتے ہوئے مکانات تعمیر کرنے والے ملازمین کو معطل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کے اس فیصلہ نے وقف بورڈ میں ہلچل پیدا کردی کیونکہ تقریباً 8 عہدیدار و ملازمین اوقافی اراضیات اور مکانات پر قابض ہیں اور وہ انتہائی معمولی کرایہ ادا کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں جب رپورٹ طلب کی گئی تو اس بات کا علم ہوا کہ وقف بورڈ کی منظوری کے بغیر ہی ان ملازمین کو اراضی الاٹ کردی گئی جس پر انہوں نے نہ صرف عالیشان مکانات تعمیر کرلئے بلکہ بھاری کرایہ بھی وصول کررہے ہیں۔ دو سابق عہدیداروں کے مکانات جو شہر کے مرکزی مقامات پر واقع ہیں ان کا کرایہ ماہانہ صرف 1300 روپئے بتایا جاتا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ یہ عہدیدار اور ملازمین وقف بورڈ کی جائیدادوں پر قابض ہیں لیکن وہ بورڈ سے ایچ آر اے ( کرایہ الاؤنس ) بھی حاصل کررہے ہیں جو غیر قانونی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے الاٹمنٹ کو فوری منسوخ کرنے اور مکانات اور اراضیات کو فوری اپنے قبضہ میں لینے کی ہدایت دی۔ جن ملازمین کی معطلی کے احکامات جاری کئے ان میں دو ملازمین آندھرا پردیش وقف بورڈ میں ہیں۔ اس کارروائی کے سلسلہ میں آندھرا پردیش وقف بورڈ کو واقف کرایا جائے گا۔ واضح رہے کہ 1999 میں اسوقت کے چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے 6 ملازمین کو صدرنشین کی ہدایت پر مسجد یکخانہ شیخ پیٹ کی اراضی الاٹ کی تھی۔ وقف اراضی کو اس طرح الاٹ کرنے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں کیونکہ وقف اراضی کا استعمال منشائے وقف کے تحت کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 6 ملازمین نے اس اراضی پر مکانات تعمیر کرلئے ہیں جن کا کرایہ بھی حاصل ہورہا ہے۔ وقف بورڈ کے اسٹاف ممبرس کو اراضی اور مکانات کا الاٹمنٹ غیر قانونی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کہا کہ اس طرح کا الاٹمنٹ قواعد اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسوقت کی حکومت سے اجازت لیئے بغیر ہی یکطرفہ طور پر یہ اراضی الاٹ کردی گئی اس کے علاوہ یہ ملازمین ماہانہ صرف 330 روپئے کرایہ ادا کررہے ہیں جبکہ وقف بورڈ سے بھی ایچ آر اے حاصل کررہے ہیں۔ اس طرح الاٹمنٹ اور دیگر سرگرمیاں قانون کے مغائر ہیں لہذا چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی رپورٹ پر سید عمر جلیل نے اراضیات واپس لینے کی ہدایت دی۔ اس فیصلہ کے ساتھ ہی مختلف گوشوں سے وقف بورڈ پر کارروائی سے گریز کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک طرف وقف بورڈ اپنے کرایہ داروں سے بھاری رقومات بطور کرایہ حاصل کررہا ہے اور شہر میں حال ہی میں کرایہ میں اضافہ کی مہم بھی چلائی گئی جبکہ اس کے ملازمین معمولی کرایہ پر قیمتی اراضیات اپنے قبضہ میں رکھے ہوئے ہیں۔ وقف بورڈ کے ملازمین کے ساتھ کئی برسوں سے جانبداری کا معاملہ کیا گیا جس پر مختلف گوشوں نے حکومت سے شکایت کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT