Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں اصلاحات و ورک کلچر کی مساعی میں ملازمین کا عدم تعاون

وقف بورڈ میں اصلاحات و ورک کلچر کی مساعی میں ملازمین کا عدم تعاون

کارکردگی ٹھپ ، بائیو میٹرک سسٹم میں تبدیلیاں ، کمپیوٹر سیکشن کے افراد کی ملی بھگت
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جون (سیاست نیوز) وقف بورڈ میں اصلاحات اور ورک کلچر کے آغاز کیلئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کی جانب سے شروع کی گئی مساعی کو بورڈ کے ملازمین کا تعاون حاصل نہیں ہے جس کے نتیجہ میں کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کے بعض شعبوں میں بے قاعدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جو کام کسی اور محکمہ میں ممکن نہیں ، وہ وقف بورڈ میں بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے جلال الدین اکبر نے ملازمین کی بروقت حاضری کو یقینی بنانے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کیا تھا لیکن اس سسٹم کو بھی متاثر کرتے ہوئے من مانی طور پر حاضری کے وقت میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور یہ سسٹم عملاً برائے نام ہوکر رہ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ شعبہ قضات میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں کی اطلاعات ہیں اور عہدیداروں نے جب اس شعبہ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی کوشش کی تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرناپڑا ۔ بتایا جاتا ہے کہ بائیو میٹرک حاضری کی مشینوں میں جو وقت فیڈ کیا گیا ہے وہ مقررہ وقت سے پانچ منٹ پیچھے بتایا جاتا ہے تاکہ تاخیر سے آنے والے ملازمین کو بچایا جاسکے۔ اس سسٹم کے مطابق اگر 10 بجکر 45 منٹ کے بعد حاضری درج ہوتی ہے تو این آر میں شمار کیا جاتا ہے اور 3 این آر ایک رخصت میں شمار ہوتے ہیں۔ اس طرح سسٹم میں الٹ پھیر کرتے ہوئے 5 منٹ پیچھے کا وقت فیڈ کرنے کی اطلاعات ملی ہیں ۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر سیکشن میں عہدیداروں اور ملازمین کی حاضری شیٹ کی تیاری کے وقت تاخیر سے آنے والے عہدیداروں کا وقت تبدیل کرتے ہوئے مقررہ وقت پر حاضری درج کی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں کمپیوٹر سیکشن کے افراد کی دیگر شعبہ جات سے ملی بھگت کی اطلاعات ملی ہیں جس کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ کمپیوٹر کے ماہرین کے ذریعہ اس معاملہ کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا جاتاہے کہ دھاندلی طویل عرصہ سے جاری ہے اور ملازمین دوپہر 12 اور ایک بجے دفتر پہنچنے کے باوجود ان کا وقت 10.30 بجے درج کیا جاتا ہے ۔ دوسری طرف شعبہ قضات میں درخواست گزاروں سے بھاری رقومات حاصل کرنے کی شکایات کے علاوہ بوگس میاریج سرٹیفکٹس کی اجرائی کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کی اطلاع کے بغیر اس شعبہ کے ملازمین اپنے طور پر بغیر کسی دستاویزات کے غیر ملکیوں کو میاریج اور طلاق کے بوگس سرٹیفکٹس بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے جاری کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک پاکستانی شخص کو سرٹیفکٹ جاری کردیا گیا جس کی جانچ پولیس کی جانب سے کی جارہی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ اس معاملہ میں شہر میں کنٹراکٹ میاریجس میں ملوث قاضیوں کی ٹولی شامل ہے، جس کی شعبہ قضات کے ملازمین سے ملی بھگت ہے۔ اس شعبہ پر درمیانی افراد اور بروکرس کا کنٹرول ہے جو درخواست گزاروں سے بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے سرٹیفکٹس جلد جاری کرتے ہیں۔ اس شعبہ پر اعلیٰ عہدیداروں کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نہ وہاں سی سی کیمرہ نصب ہے جبکہ دیگر تمام شعبہ جات میں کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس شعبہ سے وابستہ ملازمین کس قدر بااثر ہیں کہ وہ کیمرہ نصب کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ کئی درخواست گزاروں نے شکایت کی کہ انہیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق درخواستیں داخل کرنے کی صورت میں کئی دن تک سرٹیفکٹ کیلئے گھمایا جاتا ہے اور رقم کی ادائیگی کے بعد ہی سرٹیفکٹ جاری کیا جارہا ہے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے ان معاملات کی جانچ اور کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT