Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں جعلی کرنسی کے چلن کی شکایت کی جانچ

وقف بورڈ میں جعلی کرنسی کے چلن کی شکایت کی جانچ

معاملہ اے سی بی سے رجوع ہوسکتا ہے ۔ سی ای او کی آواز اور فائیلوں کا بھی افشاء
حیدرآباد۔/12اگسٹ، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے حکام نے جعلی کرنسی کے چلن کے متعلق شکایات کی جانچ کا آغاز کردیا ہے جس کے بعد یہ معاملہ اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے عہدیدار مجاز سید عمر جلیل کے مشورہ پر محکمہ جاتی تحقیقات کا آغاز کردیا جس کے تحت شعبہ قضأت کے تمام ملازمین کے بیانات قلمبند کئے جارہے ہیں۔ اس کی ذمہ داری بورڈ کے دو تجربہ کار عہدیداروں کو دی گئی ہے جنہوں نے ہر ایک ملازم کو علحدہ طور پر طلب کرتے ہوئے ان کا بیان ریکارڈ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بیانات حاصل کرنے کے دوران کئی دلچسپ انکشافات سامنے آئے اور ملازمین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کاؤنٹنگ مشین نصب کئے جانے سے قبل اکثر و بیشتر جعلی نوٹ درخواست گذاروں کی جانب سے داخل کئے جاتے تھے۔ ملازمین نے اسے اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچانے کے بجائے انہیں دوسرے درخواست گذاروں کو جاری کردیا۔ شعبہ قضأت میں سابق میں خدمات انجام دینے والے بعض ملازمین اور خاص طور پر کیاشئیر کو طلب کرتے ہوئے ان کے بیانات بھی ریکارڈ کئے گئے۔ اس معاملہ میں اکاؤنٹ سیکشن کے ملوث ہونے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے مستقل طور پر اس بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے دو نئی کاؤنٹنگ مشینیں حاصل کرلی ہیں اور انہیں قضأت اور اکاؤنٹ سیکشن کے حوالے کیا گیا۔ ان مشینوں کے ذریعہ کرنسی کی اصلیت کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ قضأت میں دیگر غیر مجاز سرگرمیوں اور خاص طور پر بروکرس کی مداخلت میں اضافہ کو روکنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ درخواست گذاروں کی عام شکایت ہے کہ اس شعبہ کے ملازمین بروکرس کی درخواستوں کو وقت مقررہ کے بعد بھی قبول کرتے ہیں اور انہیں فوری طور پر سرٹیفکیٹ جاری کئے جارہے ہیں۔ اس کے برخلاف جب عام آدمی شکایت کرے تو نہ صرف ان سے بدتمیزی کی جاتی ہے بلکہ مارپیٹ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ اس سیکشن پر نگرانی رکھی جاسکتی ہے۔ وقف بورڈ میں غیر مجاز سرگرمیوں کے عروج کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی گفتگو اور تحریر بھی اب راز نہیں رہی۔ مخصوص عناصر چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی آواز کو فون میں ریکارڈ کرتے ہوئے متعلقہ پارٹی تک سوشیل میڈیا کے ذریعہ بھیج رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فائیلوں پر درج کئے گئے نوٹ اور احکامات کی سوشیل میڈیا کے ذریعہ منتقلی عام بات ہوچکی ہے۔ اس سرگرمی پر قابو پانا وقف بورڈ کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ گذشتہ دنوں چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے جعلی کرنسی کے معاملہ میں وقف بورڈ کے ملازمین کو طلب کرتے ہوئے پوچھ تاچھ کی۔ بتایا جاتاہے کہ ایک ملازم نے ساری گفتگو کو فون میں ریکارڈ کرلیا۔ سی ای او دفتر کے ملازمین نے جیسے ہی اس سرگرمی کو بھانپ لیا تو فوری ریکارڈنگ کو ڈیلیٹ کردیا گیا۔ وقف بورڈ میں غیر مجاز سرگرمیاں اور اس سلسلہ میں سرگرم ٹولیوں کے اثر کو زائل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر تبادلے اور ذمہ داریوں کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس سلسلہ میں وقف بورڈ کے حکام حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT