Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں سی ای او کے تقرر کا مسئلہ دفتر چیف منسٹر تک پہونچ گیا

وقف بورڈ میں سی ای او کے تقرر کا مسئلہ دفتر چیف منسٹر تک پہونچ گیا

بورڈ کے عہدیداران و ملازمین نئے سی ای او کے منتظر ، چیف منسٹر سے مشاورت کا امکان
حیدرآباد۔21 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر کا تنازعہ چیف منسٹر کے دفتر پہنچ چکا ہے۔ چیف منسٹر اقلیتی بہبود قلمدان کے ذمہ دار ہیں لہٰذا سکریٹری اقلیتی بہبود نے اس تنازعہ کو چیف منسٹر کے دفتر سے رجوع کردیا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسد اللہ نے بورڈ میں سیاسی مداخلت اور اعلی عہدیداروں کے عدم تعاون کے رویہ کے سبب طویل رخصت حاصل کرلی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے محمد اسد اللہ کے غیاب میں انچارج سی ای او کے طور پر پروفیسر ایس اے شکور کا تقرر کیا اور اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے۔ تاہم پروفیسر ایس اے شکور نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس تنازعہ نے اس وقت نیا رخ اختیار کرلیا جب ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل پر کھلے عام برہمی کا اظہار کیا اور انچارج سی ای او کے تقرر میں مشاورت نہ کرنے کی شکایت کی۔ اس طرح انچارج سی ای او کے تقرر کا معاملہ ڈپٹی چیف منسٹر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کے درمیان ٹکرائو کا سبب بن گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے حج سیزن کے آغاز کے سبب مصروفیات کو دیکھتے ہوئے ایس اے شکور کو زائد ذمہ داری قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ دوسری طرف تقرر سے متعلق سکریٹری کے احکامات جاری ہوچکے تھے۔ ایسے میں ایس اے شکور کے لئے یہ طے کرنا مشکل ہوگیا کہ وہ کس کی ہدایت پر عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حج سیزن کے آغاز کے سبب وہ وقف بورڈ کی ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ریونیو اور وقف امور سے ناواقف ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے صرف دو ہفتوں کی مدت کے لئے اس ذمہ داری کو قبول کرنے کا مشورہ دیا تاہم ایس اے شکور نے تحریری طور پر ذمہ داری قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے سکریٹری کو مکتوب روانہ کردیا۔ اس طرح وقف بورڈ کا معاملہ دن بہ دن بحران کا شکار ہوچکا ہے اور وقف بورڈ کے عہدیدار اور ملازمین نئے سی ای او کے انتظار میں ہیں۔ گزشتہ چار دن سے وقف بورڈ کی تمام سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں اور روز مرہ کے ضروری امور سے متعلق فائلیں بھی یکسوئی کی منتظر ہیں۔ اقلیتی بہبود کے سکریٹری نے اس سلسلہ میں پروفیسر ایس اے شکور سے بات چیت کی۔ ایس اے شکور کا استدلال ہے کہ وہ پہلے ہی تین اداروں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں لہٰذا وہ مزید ایک ادارے اور وہ بھی وقف بورڈ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر پائیںگے۔ وہ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی اور ڈائرکٹر سی ڈی ایم کے عہدوں پر فائز ہیں۔ اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے سکریٹری نے یہ معاملہ چیف منسٹر کے دفتر سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چیف منسٹر کی صلاح حاصل کی جاسکے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی کمی ہے اور حکومت کے پاس ایس اے شکور کو ذمہ داری دیئے جانے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا تھا کہ سکریٹری کو خود یہ ذمہ داری اپنے پاس رکھنی چاہئے۔ واضح رہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ سید عمر جلیل عہدیدار مجاز وقف بورڈ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور ویجلنس آفیسر اقلیتی بہبود کے عہدوں کی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس ڈائرکٹر بی شفیع اللہ کو وقف بورڈ کی ذمہ داری نہیں دی جاسکتی۔ کیوں کہ وہ اردو زبان سے واقف نہیں ہیں اور اقلیتی امور سے ان کا تعلق کم رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر کا دفتر اس معاملہ کی یکسوئی کس طرح کرے گا۔ اگر چیف منسٹر کی آفس سے عمر جلیل کے احکامات کو منظوری حاصل ہوگی تو ایس اے شکور جمعہ کے دن وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔

TOPPOPULARRECENT