Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں عہدیداروں کے تقررات پر رپورٹ کی عدم پیشکشی پر میموز کی اجرائی

وقف بورڈ میں عہدیداروں کے تقررات پر رپورٹ کی عدم پیشکشی پر میموز کی اجرائی

مقررہ وقت میں رپورٹ کی عدم پیشکشی پر تادیبی کارروائی کا انتباہ ، سکریٹری اقلیتی بہبود کے احکامات
حیدرآباد ۔ 21۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے وقف بورڈ میں بڑے پیمانہ پر ریٹائرڈ عہدیداروں کے تقررات کے مسئلہ پر رپورٹ طلب کی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے وقف بورڈ میں حکومت کے احکامات کے برخلاف کئے گئے تمام تقررات کی تفصیلات اور متعلقہ فائلوں کو پیش کرنے کیلئے میمو جاری کیا گیا ہے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کو اندرون ایک ہفتہ متعلقہ فائلیں پیش کرنے کی ہدایات کے باوجود آج تک رپورٹ اور فائلیں پیش نہیں کی گئیں جس پر سکریٹری اقلیتی بہبود نے ایک اور میمو جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کو مختلف گوشوں سے شکایات موصول ہوئیں کہ وقف بورڈ میں تقریباً 40 سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کا بڑی تنخواہوں پر تقرر کیا گیا۔ ان میں زیادہ تر تقررات وہاں موجود ملازمین کے رشتہ داروں اور دوستوں کے کئے گئے ۔ اس طرح وقف بورڈ نے محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کردہ جی ایم ایس 55 مورخہ2 مئی  2015 ء کی خلاف ور زی کی ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے ان شکایات کی بنیاد پر 22 ستمبر کو پہلا میمو جاری کیا لیکن وقف بورڈ کی جانب سے ابھی تک جواب نہیں دیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اس سلسلہ میں ناراضگی کا اظہار کیا اور دوسرا میمو جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر وقف بورڈ کے عہدیدار تفصیلات داخل کرنے میں ناکام رہیں تو  ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ سکریٹری کو موصولہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑے پیمانہ پر تقررات کئے گئے جو غیر قانونی ہیں۔ وقف بورڈ میں آؤٹ سورسنگ کام کرنے والے 22 افراد کی خدمات کو ختم کردیا گیا ، جنہیں معمولی تنخواہ دی جاتی تھی۔ سکریری اقلیتی بہبود سے شکایت ہے کہ وہ اپنی مرضی اور پسند کے افراد کا تقرر کرنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا۔ شکایت کنندہ نے نہ صرف ریٹائرڈ ایمپلائیز کی فہرست پیش کی بلکہ انہیں دی جارہی تنخواہوں کی تفصیلات بھی حکومت کے حوالے کی ہیں۔ ریٹائرڈ ایمپلائیز کی تنخواہیں بھی مختلف ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ ان میں بعض ایسے  ہیں جو انہیں دی گئی ذمہ داریوں کی تکمیل کے اہل نہیں ہیں۔ وقف بورڈ کے موجودہ عہدیداروں اور ملازمین کی سفارش پر ان کے رشتہ داروں کا تقرر کیا گیا ۔ ملازمین کی یونین بھی ان تقررات کی مخالفت کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے بھی وقف بورڈ کے اس اقدام کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حالیہ مانسون سیشن میں اسمبلی میں اس مسئلہ پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ نے حکومت کی منظوری کے بغیر  یہ تقررات عمل میں لائے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ عہدیداروں کے تجربہ سے استفادہ کیلئے عبوری بنیادوں پر تقرر کیا گیا جبکہ حکومت کا یہ استدلال ہے کہ ریٹائرڈ ایمپلائیز کے تقررات سے قابل اور نوجوان امیدواروں کی حق تلفی ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان تقررات کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT