Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں ورک کلچر اور ڈسپلن کا فقدان

وقف بورڈ میں ورک کلچر اور ڈسپلن کا فقدان

چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا اچانک دورہ، کئی ملازمین نشستوں سے غائب، میمو جاری کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔/27مئی، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ میں ورک کلچر اور ڈسپلن پیدا کرنے کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر ایم اے منان فاروقی ہر ممکن مساعی کررہے ہیں۔ انہوں نے بورڈ کے مختلف سیکشنوں میں عہدیداروں اور ملازمین کی اوقات کار میں دستیابی یقینی بنانے اور غیر متعلقہ افرادکی مداخلت روکنے کیلئے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ منان فاروقی نے بورڈ کے مختلف سیکشنوں کا اچانک دورہ کیا تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کئی ملازمین اپنی نشست پر موجود نہیں تھے۔ اگرچہ انہوں نے دفتر آمد کے بعد رجسٹر میں دستخط کئے لیکن اپنی نشست پر موجود نہیں تھے۔ بیشتر سیکشنوں میں یہی صورتحال دیکھ کر چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے اپنی نشستوں پر غیر موجود ملازمین کو میمو جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تمام سیکشنوں میں نشستوں پر غیر حاضر ملازمین اور عہدیداروں کی فہرست تیار کی گئی ہے جنہیں میمو جاری کیا جائے گا تاکہ انہیں آئندہ فرائض منصبی سے غفلت سے روکا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے اس اقدام سے ملازمین کے بعض گوشے ناراض ہیں کیونکہ انہیں عادت ہوچکی ہے کہ دفتر حاضری کے بعد وہ دیگر کاموں کے سلسلہ میں دوسرے سیکشنوں کا رُخ کرتے ہیں۔ وقف بورڈ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ملازمین صبح آمد کے بعد اپنے شخصی کاموں کیلئے دفتر سے باہر بھی روانہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر متعلقہ افراد مختلف سیکشنوں میں پیروی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے تمام سیکشن انچارجس کو ہدایت دی کہ وہ غیر متعلقہ افراد کے داخلہ پر روک لگائیں۔ کسی بھی کام کے سلسلہ میں عوام کو چیف ایکزیکیٹو آفیسر سے ملاقات کرنی چاہیئے۔ اگر دوبارہ سیکشنوں میں عوام کو داخلہ یا پھر ان سے کوئی معاملت کی گئی تو ایسے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم بارہا کہہ چکے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران انہیں بورڈ کے ملازمین کا تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں بورڈ کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ملازمین اپنے رویہ میں تبدیلی نہ لائیں تو بورڈ ان کی خدمات ختم کرنے کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔ ایم اے منان فاروقی نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرنے کے بعد کئی اصلاحی قدم اٹھائے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT