Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں وقف مافیا کا دوبارہ راج کرنے کی مساعی

وقف بورڈ میں وقف مافیا کا دوبارہ راج کرنے کی مساعی

مقامی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں میں شدت ، اسد اللہ کی بازماموری نہ کرنے چیف منسٹر پر دباؤ
حیدرآباد۔16 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ سے دیانتدار عہدیداروں کا تبادلہ کرتے ہوئے وقف مافیا کا دوباہ راج قائم کرنے کے لیے مقامی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو پر دبائو بنایا جارہا ہے کہ وہ وقف بورڈ کے موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کی بازماموری کی ہدایات جاری نہ کریں اور کسی نئے عہدیدار کا تقرر کیا جائے۔ سابق میں بھی وقف مافیا اور اس سے وابستہ ٹولے نے دیانتدار عہدیداروں کے خلاف مہم چلاتے ہوئے ان کا تبادلہ کرانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ شیخ محمد اقبال کے بعد جلال الدین اکبر نے جب اوقافی قابضین کے خلاف مورچہ کھولا تو ان پر ڈیزل کے زائد استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے تبادلہ کرایا گیا۔ اب جبکہ گزشتہ دو برسوں سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے محمد اسد اللہ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے کئی کامیاب قدم اٹھائے اور قابضین کے خلاف کارروائی کی۔ لہٰذا اب انہیں نشانہ بنانے کی تیاری ہے۔ وقف بورڈ میں شامل بعض ارکان نے وقف مافیا کے اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منصوبہ بند طریقہ سے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ وقف بورڈ میں جن اہم شخصیتوں کے خلاف معاملات زیر دوران ہیں انہیں کسی بھی طرح کلین چٹ دی جائے۔ اسی دوران باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی خدمات واپس کرنے سے متعلق بورڈ کی قرارداد کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر کے مسئلہ پر مشاورت جاری ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ اسد اللہ کو دوبارہ بازمامور کریں لیکن مقامی سیاسی جماعت ان پر دبائو بنارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈپٹی چیف منسٹر کے ذریعہ ایک ایسے عہدیدار کو وقف بورڈ میں متعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کا ریکارڈ صاف نہیں ہے۔ ایک دیانتدار عہدیدار کی جگہ اپنی پسند کے عہدیدار کو مامور کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں اور فائلوں کے سلسلہ میں من مانی فیصلے کرنے کی تیاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس عہدیدار کے نام پر غور کیا جارہا ہے ان کا سرویس ریکاڈر اس لائق نہیں کہ وقف بورڈ میں تعینات کیا جاسکے۔ وقف بورڈ سے وابستہ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اگر مذکورہ عہدیدار کو وقف بورڈ میں تعینات کیا جائے گا تو اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا دوبارہ آغاز ہوسکتا ہے۔ گزشتہ دو دن سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب بورڈ کی کارکردگی پہلے ہی ٹھپ ہوچکی ہے۔ انچارج چیف ایگزیکٹیو آفیسر غوری نے رخصت حاصل کرلی اور سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے ان کے خلاف میمو جاری کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے صدرنشین محمد سلیم نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ بورڈ کی تشکیل کے عمل کے دوران کیئے گئے تمام فیصلوں کی فائلیں انہیں پیش کی جائیں تاکہ حکومت کو تفصیلات روانہ کی جاسکیں۔

TOPPOPULARRECENT