Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ میں 10 اپریل 2017 کو تین افراد کے تقررات

وقف بورڈ میں 10 اپریل 2017 کو تین افراد کے تقررات

تقررات اسکام کو حق بجانب قرار دینے مقامی جماعت کوشاں ، بورڈ کا دوہرا معیاربے نقاب
حیدرآباد۔15 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں تقررات کے اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد غیر قانونی طور پر موجود ملازمین کے خلاف کارروائی کے دعوے کیے جارہے ہیں لیکن بعض ارکان جن کا تعلق مقامی سیاسی جماعت سے ہے، اس اسکام اور تقررات کو حق بجانب قرار دینے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف بورڈ خود کو بے قصور اور معصوم ثابت کرنے میں مصروف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بورڈ نے بھی قواعد کی پرواہ کیے بغیر تقررات کیے تھے بھلے ہی وہ عارضی نوعیت کے کیوں نہ ہوں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بورڈ کے دیگر ارکان کے ساتھ ایک سے زائد مرتبہ یہ دعوہ کیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایک بھی تقرر نہیں کیا گیا اور اسکام سے متعلق تمام تقررات سابقہ حکومتوں اور بورڈ کی عدم موجودگی کے وقت انجام دیئے گئے تھے۔ ’سیاست‘ کے پاس 10 اپریل 2017ء کو بورڈ کے اجلاس میں منظورہ قرارداد نمبر 45/2017 کی نقل موجود ہے جس میں تین افراد کے تقرر کو منظوری دی گئی۔ بورڈ کے اجلاس میں ایٹم نمبر 39 کے تحت اس مسئلہ کو پیش کیا گیا تھا اور قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جناب سید اکبر نظام الدین حسینی نے اس مسئلہ کو پیش کیا اور تین افراد محمد بشیر الدین، احمد فلاح الدین انصاری اور اعجاز الدین کو ماہانہ 20 ہزار روپئے پر ایک سال کی مدت کے لیے تقرر کی سفارش کی گئی۔ تمام ارکان نے متفقہ طور پر اس قرارداد کو منظوری دی۔ قرارداد پر صدرنشین سمیت تمام ارکان کی دستخطیں موجود ہیں۔ اس طرح بورڈ کا یہ دعوی غلط ثابت ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران عارضی اور مستقل نوعیت کا ایک بھی تقرر نہیں کیا گیا۔ اگر بورڈ اپنی کارکردگی میں شفاف اور دیانتدار ہے تو اسے ان حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے تقررات کے اسکام کی جانچ کرنی چاہئے تھی۔ بورڈ کے کل منعقدہ اجلاس میں تقررات میں بے قاعدگیوں کے لیے سابق سی ای اوز اور اسپیشل آفیسرس کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی۔ ان کے خلاف کارروائی سے قبل قرارداد نمبر 45 کے تحت کیے گئے 3 افراد کے تقرر پر بورڈ کو وضاحت کرنی چاہئے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران مذکورہ تین افراد کے علاوہ بھی بعض تقررات عمل میں لائے گئے ہیں جو مختلف ا رکان کی سفارش پر کیے گئے۔ تقررات کے اسکام کو ایوان کی کمیٹی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی نے منظر عام پر لایا تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ بورڈ میں موجود مقامی جماعت کے ارکان تحقیقات میں رکاوٹ اور غیر مجاز افراد کی سرپرستی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فلور لیڈر کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے بعض ارکان نے صدرنشین کو باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ ایوان کی کمیٹی کے امور کو سنجیدگی سے نہ لیں۔ وہ یہ استدلال پیش کررہے ہیں کہ اسمبلی کی کمیٹی کو وقف کے معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کے ارکان کے موجودہ موقف کی اہم وجہ وہ ملازمین ہیں جو ان کی سفارش پر بورڈ میں شامل کیے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ قواعد کی پرواہ کیے بغیر ان ارکان نے بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے تقررات کرائے تھے۔ اب جبکہ ایسے ملازمین پر تلوار لٹک رہی ہے۔ مذکورہ ارکان نے پارٹی کے موقف کی بھی پرواہ نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ وقف کے معاملات میں دوہرا معیار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پارٹی میں فلور لیڈر کی تائید اور وقف بورڈ پہنچنے پر مخالفت کا رویہ دیکھا جارہا ہے۔ یہ وہ ارکان ہیں جو سابق میں بھی دو مرتبہ بورڈ میں شامل رہ چکے ہیں اور بعض پہلی مرتبہ بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خود مقامی سیاسی جماعت عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے اسکام منظر عام پر لاتی ہے اور بعد میں حکومت سے مفاہمت کے ذریعہ خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT