Wednesday , March 29 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ پر کنٹرول حاصل کرنے مقامی جماعت کے ارکان کی کوشش ناکام

وقف بورڈ پر کنٹرول حاصل کرنے مقامی جماعت کے ارکان کی کوشش ناکام

چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف کارروائی کی کوشش، حکومت کے ارکان نے مخالفت کی
حیدرآباد۔/11مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کا پہلا اجلاس آج ہنگامہ خیز ثابت ہوا، اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ کے خلاف مجلس کے ارکان نے معطلی کی تحریک پیش کی جس کی حکومت کے نامزد اور منتخب ارکان نے مخالفت کی۔ جناب محمد سلیم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں 4 گھنٹوں تک گرما گرم مباحث کے بعد بورڈ نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی خدمات ان کے متعلقہ محکمہ مال کو واپس کرنے کی قرارداد منظور کی جبکہ بورڈ کے ایک رکن ایم اے وحید ایڈوکیٹ نے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے بائیکاٹ کردیا۔ مقامی جماعت کے ارکان مکمل تیاری کے ساتھ پہنچے تھے اور وہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر پر مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی معطلی اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ ایک مرحلہ پر مذکورہ ارکان نے قرارداد بھی تیار کرلی۔ تاہم حکومت کے نامزد ارکان نے اس کی سختی سے مخالفت کی اور کہا کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف کسی بھی کارروائی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر بورڈ کے ارکان کو اُن کی خدمات پسند نہیں تو متعلقہ محکمہ کو واپس کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح اجلاس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کو حکومت کے ارکان نے ناکام بنادیا۔ بورڈ کے اجلاس کے آغاز پر مقامی جماعت کے تین ارکان نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف الزامات عائد کرتے ہوئے اس پر مباحث کی صدرنشین سے اجازت طلب کی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ ان حالات میں اجلاس سے باہر ہوگئے جس کے بعد مختلف فائیلوں کو طلب کرتے ہوئے جائزہ لیا گیا۔ مقامی جماعت کے ارکان اس بات پر بضد تھے کہ کسی طرح چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف کارروائی کی جائے تاہم حکومت کے نامزد ارکان آئی پی ایس عہدیدار تفسیر اقبال، ملک معتصم خاں، ایم اے وحید ایڈوکیٹ، صوفیہ بیگم اور منتخب رکن مرزا انور بیگ نے مخالفت کی۔ جب مقامی جماعت کے ارکان کا دباؤ بڑھنے لگا تو ایم اے وحید ایڈوکیٹ بائیکاٹ کرتے ہوئے اجلاس سے باہر چلے گئے۔ بعد میں جب مقامی جماعت کے ارکان کو اپنے منصوبہ کی کامیابی کے امکانات دکھائی نہیں دیئے تو انہوں نے خدمات واپس کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا اور یہ قرارداد منظور کرلی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا اکبر نظام الدین، رکن اسمبلی معظم خاں اور زیڈ ایچ جاوید ایڈوکیٹ نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف کارروائی کی تحریک پیش کی تھی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر نشین وقف بورڈ جناب محمد سلیم نے کہا کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی خدمات کو متعلقہ محکمہ واپس کرنے کیلئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد عہدیداروں کی جانب سے بعض فیصلے کرتے ہوئے پروسیڈنگ جاری کی گئی۔ یہ معاملات انتظامی، متولی اور فینانشیل شعبہ جات سے متعلق ہیں۔ متعلقہ فائیلوں کا جائزہ لینے کے بعد بورڈ نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی خدمات واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ یوسفینؒ کے متولی کی میعاد میں 6 ماہ قبل ہی 3 سال کیلئے توسیع کی گئی۔ اس کے علاوہ انارم شریف درگاہ کے ٹنڈر کی منظوری اور اسٹاف کے تقرر جیسے معاملات حالیہ عرصہ میں کئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں صدرنشین وقف بورڈ نے اعتراف کیا کہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز سید عمر جلیل کی منظوری کے بعد ہی چیف ایکزیکیٹو آفیسر احکامات جاری کرتے ہیں لیکن بورڈ ان کے خلاف کارروائی کا مجاز نہیں ہے تاہم ان کے متنازعہ فیصلوں کی جانچ کرتے ہوئے حکومت کو ضروری کارروائی کیلئے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے متنازعہ فیصلوں کے احکامات کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں منسوخ کیا جائے گا۔ جناب محمد سلیم نے بتایا کہ اجلاس نے صدرنشین کو اختیارات تفویض کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے۔ اس کے علاوہ 5 ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کے اسسٹنٹ سکریٹری ضیاء الدین غوری کو انچارج چیف ایکزیکیٹو آفیسر مقرر کیا گیا اور حکومت کی جانب سے کسی مستقل عہدیدار کے تقرر تک وہ برقرار رہیں گے۔ اجلاس میں رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کے سواء دیگر تمام ارکان نے شرکت کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT