Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ چیف ایکزیکٹیو آفیسر کی میعاد میں توسیع کو روکنے مافیا سرگرم

وقف بورڈ چیف ایکزیکٹیو آفیسر کی میعاد میں توسیع کو روکنے مافیا سرگرم

چیف منسٹر کے دفتر سے مقامی سیاسی جماعت کے نام نہاد نمائندے کی شکایت
حیدرآباد۔/27اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے محمد اسد اللہ کی میعاد میں توسیع کو روکنے کیلئے مقامی سیاسی جماعت اور وقف مافیا سرگرم ہوچکا ہے اور چیف منسٹر کے دفتر کو مختلف الزامات کے ساتھ شکایات روانہ کی جارہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کے بعض عوامی نمائندوں نے چیف منسٹر سے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف بعض شکایات کی ہیں جس پر چیف منسٹر کے دفتر نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے جواب طلب کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر پر جو الزامات عائد کئے گئے وہ بے بنیاد ہیں اور سکریٹری اقلیتی بہبود بھی اس موقف میں نہیں کہ کسی کارروائی کی سفارش کرسکیں۔ رقومات کے بیجا استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے شکایت کی گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وقف کرایوں کی وصولی میں اہم رول ادا کرنے والے ملازمین  کو رقمی انعام دیا جاتا ہے جس کی روایت پہلے بھی رہی ہے اور اسی کے تحت چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بعض ملازمین کو رقمی انعام پیش کیا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ اس کارروائی کو رقمی تغلب قراردیتے ہوئے حکومت سے شکایت کی گئی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ سابق میں جبکہ بورڈ موجود تھا اس میں اس طرح رقمی انعام کی منظوری دی گئی تھی اور شکایت کرنے والے فرد خود بورڈ کے اس فیصلہ میں شامل تھے۔ وقف مافیا ہرگز نہیں چاہتا کہ بورڈ میں کوئی بھی اصول پسند اور دیانتدار عہدیدار برقرار رہے۔ ایسے وقت جبکہ حکومت نے اسد اللہ کی خدمات میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے اس طرح کی شکایات وقف مافیا کی نیت کو ظاہر کرتی ہے۔ وقف مافیا نے چیف منسٹر کے دفتر میں شکایتوں کے علاوہ مقامی ٹی وی چینل پر سی ای او کے خلاف پروپگنڈہ مہم چھیڑ رکھی ہے جس میں سید عمر جلیل کو قصوروار کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ حالانکہ سید عمر جلیل نے اس چینل کو چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔ قواعد کے اعتبار سے کسی شکایت کی صورت میں سید عمر جلیل وضاحت طلب کرنے کے بعد الزامات ثابت ہونے پر سی ای او کے متعلقہ محکمہ مال کو لکھنے کیلئے پابند ہیں وہ اپنے طور پر کوئی کارروائی نہیں کرسکتے لیکن نیوز چینل یہ تاثر دے رہا ہے کہ عمر جلیل غلطیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے کارروائی سے گریز کررہے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ وہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے جواب کا جائزہ لیں گے۔ اسد اللہ کے خلاف وقف بورڈ میں ریٹائرڈ ملازمین کے تقرر کی بھی شکایت کی گئی جس کے بارے میں اسد اللہ نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو وضاحتی رپورٹ روانہ کردی ہے۔ یہ تمام تقررات سابق اسپیشل آفیسر اور موجودہ عہدیدار مجاز کی منظوری سے کئے گئے تھے۔ سید عمر جلیل نے اعتراف کیا کہ وقف بورڈ میں قابل افراد کی کمی ہے جس کے باعث ریٹائرڈ عہدیداروں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں تاکہ فائیلوں کی تحریر اور دیگر سرکاری اُمور کی تکمیل میں مدد ملے ۔انہوں  نے کہا کہ بورڈ میں کم تعلیم یافتہ افراد کے باعث فائیلوںکی تحریر اور دیگر معاملات میں دشواری ہورہی ہے لہذا دیگر محکمہ جات کے ریٹائرڈ افراد کے تقرر کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں وقف بورڈ میں 40 ملازمین کے غیر مجاز تقررات کی بھی سی ای او کی جانب سے رپورٹ حاصل کی گئی ہے اور وہ اس فائیل کا جائزہ لیتے ہوئے جلد کارروائی کریں گے۔ واضح رہے کہ بورڈ کی موجودگی کے وقت 40افراد کا قواعد کے برخلاف تقرر کیا گیا اور ان سے بھاری رقومات حاصل کی گئیں۔ انہیں تیقن دیا گیا تھا کہ جلد ان کی خدمات باقاعدہ بنادی جائیں گی لیکن وعدہ کی عدم تکمیل پر ان افراد نے اعلیٰ عہدیداروں سے شکایت کی ہے۔ اس اسکام میں بعض صحافیوں نے درمیانی افراد کا رول ادا کیا تھا اور ان کے بعض رشتہ دار بھی وقف بورڈ میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اسی دوران محمد اسد اللہ کی میعاد میں توسیع کے احکامات توقع ہے کہ اندرون دو یوم جاری کردیئے جائیں گے۔ میعاد میں توسیع کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر کی جانب سے فائیل موصول ہوچکی ہے اور صرف چیف منسٹر کے دفتر کی منظوری کا انتظار ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی میعاد کے بارے میں جو احکامات جاری کئے گئے تھے ان میں میعاد کی تاریخ 28 اکٹوبر ہے۔

TOPPOPULARRECENT