Tuesday , September 19 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کارکردگی پر سی بی آئی تحقیقات مقدمہ، محکمہ اقلیتی بہبود میں ہلچل

وقف بورڈ کارکردگی پر سی بی آئی تحقیقات مقدمہ، محکمہ اقلیتی بہبود میں ہلچل

صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خان سے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی ملاقات
حیدرآباد 13 مئی (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی کارکردگی پر سی بی آئی تحقیقات سے متعلق ہائیکورٹ میں جاری مقدمہ سے محکمہ اقلیتی بہبود میں ہلچل پائی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں سے اچانک ملاقات سے سرکاری حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں۔ سید عمر جلیل کسی اپائنٹمنٹ یا اطلاع کے بغیر اچانک عابد رسول خاں کے چیمبر پہونچ گئے اور تقریباً دو گھنٹے تک تنہائی میں بات چیت ہوئی۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران سکریٹری اقلیتی بہبود کی صدرنشین اقلیتی کمیشن سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اِس ملاقات میں دیگر اُمور کے علاوہ ہائیکورٹ میں جاری مقدمہ بھی زیربحث رہا۔ اطلاعات کے مطابق سکریٹری نے عابد رسول خاں سے اِس بات کی خواہش کی کہ ہائیکورٹ میں سی بی آئی تحقیقات سے متعلق مقدمہ کی پیروی میں شدت نہ کریں۔ تاہم اِس بارے میں عابد رسول خاں کے جواب کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں کی اِس ملاقات کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے حلقوں میں یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ سی بی آئی تحقیقات کے معاملہ کو برفدان کی نذر کردیا جائے گا۔ دوسری طرف حال ہی میں عابد رسول خان نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سرکاری تقاریب میں اُنھیں مدعو نہ کرنے اور پروٹوکول کی خلاف ورزی سے واقف کرایا تھا۔ اگرچہ محکمہ کی جانب سے اِس سلسلہ میں باقاعدہ تحریری جواب نہیں دیا گیا تاہم اطلاعات کے مطابق عمر جلیل نے ملاقات کے دوران پروٹوکول کی خلاف ورزی کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل میں غلطی کا اعادہ نہ کرنے کا تیقن دیا۔ سیاست کے ربط پیدا کرنے پر عابد رسول خاں نے سکریٹری اقلیتی بہبود کی آمد اور طویل ملاقات کا اعتراف کیا۔ تاہم اُنھوں نے سی بی آئی تحقیقات سے متعلق مقدمہ پر بات چیت سے انکار کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ وقف بورڈ کے گزشتہ 25 برسوں کے معاملات کی سی بی آئی تحقیقات اور آلیر انکاؤنٹر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہائیکورٹ میں مقدمہ واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عابد رسول خاں نے کہاکہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے بارے میں اُنھیں 20 تا 25 شکایات ملی تھیں جس کا جائزہ لینے پر وقف بورڈ کی کارکردگی کے نقائص منظر عام پر آئے۔ اُنھوں نے تمام ثبوت عدالت میں پیش کرتے ہوئے گزشتہ 25 برسوں کی کارکردگی کی سی بی آئی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔ اِس مقدمہ میں آندھراپردیش و تلنگانہ حکومت کے علاوہ مرکزی حکومت، سی بی آئی، دونوں ریاستوں کے وقف بورڈ اور دونوں ریاستوں کے محکمہ اقلیتی بہبود کو فریق بنایا گیا ہے۔ پہلی سماعت میں عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کی ہے۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 8 جون کو مقرر ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ آلیر انکاؤنٹر کے معاملہ میں اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے بارہا توجہ دہانی کے بعد آج تک کمیشن کو رپورٹ پیش نہیں کی ہے۔ تحقیقات کے جاری رہنے کا بہانا بنایا جارہا ہے لہذا کمیشن نے انکاؤنٹر کے بارے میں موجود شواہد کی بنیاد پر آئندہ ہفتہ اپنی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس میں حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔ عابد رسول خاں نے اندیشہ ظاہر کیاکہ آلیر انکاؤنٹر کے اِس مسئلہ پر ابھی تک باقاعدہ تحقیقات شروع نہیں ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT