Tuesday , May 30 2017
Home / شہر کی خبریں / !وقف بورڈ کی تشکیل سے عین قبل متنازعہ فیصلہ

!وقف بورڈ کی تشکیل سے عین قبل متنازعہ فیصلہ

مشہور درگاہ کے متولی کی میعاد میں توسیع کا منفرد معاملہ باعث حیرت
حیدرآباد۔/18 فبروری، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود میں اگر اعلیٰ عہدیدار آپ کے حق میں ہوں تو پھر کچھ بھی ممکن ہے۔ عہدیدار اپنے قریبی افراد کیلئے قانون اور قواعدکو بالائے طاق رکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر وقف بورڈ میں اس طرح کے معاملات عام ہیں اور انتہائی راز داری کے ساتھ کئی اہم اور متنازعہ فیصلے کئے جارہے ہیں۔ وقف بورڈ کی تشکیل سے عین قبل اس طرح کی متنازعہ کارروائیاں باعث حیرت ہیں۔ یوں تو گذشتہ دو ماہ کے دوران اعلیٰ عہدیداروں کی مداخلت پر وقف بورڈ سے وقف قواعد کے خلاف احکامات صادر کئے گئے لیکن نامپلی میں واقع مشہور درگاہ کے متولی کی میعاد میں توسیع کا منفرد معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ عام طور پر کسی بھی درگاہ یا ادارہ کے متولی کی میعاد میں اس وقت توسیع کی جاتی ہے جب میعاد ختم ہوجائے یا بالکل ہی قریب الختم ہو۔ لیکن نئے وقف بورڈ کی تشکیل سے خائف اور اپنے قریبی افراد کی مدد کرنے کیلئے عہدیدار مجاز وقف بورڈ نے میعاد کی تکمیل سے 7 ماہ قبل توسیع کے احکامات جاری کردیئے۔ یہ احکامات اس قدر رازدارانہ انداز میں جاری کئے گئے کہ وقف بورڈ کے عہدیدار خود بھی لاعلم ہیں اور قواعد کے اعتبار سے جن عہدیداروں کو اس کی کاپی روانہ کی جانی چاہیئے انہیں بھی احکامات کی کاپی حوالے نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز ہیں انہوں نے شخصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آناً فاناً اس کارروائی کی تکمیل کی اور یکم ڈسمبر کو متولی کی میعاد میں 3 سالہ توسیع کے احکامات جاری کردیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد میعاد میں توسیع میں امکانی دشواریوں اور وقف ٹریبونل میں زیر دوران مقدمہ کے فیصلہ کے خدشات کو دیکھتے ہوئے یہ کارروائی کی گئی۔ پہلی مرتبہ 29 جولائی 2015کو عارضی متولی کی حیثیت سے تقرر کرتے ہوئے دو سالہ میعاد مقرر کی گئی تھی لیکن تازہ ترین احکامات میں نہ صرف میعاد کو تین سالہ کردیا گیا بلکہ درگاہ کی 11 ہنڈیوں کے منجملہ 2 ہنڈی متولی کے ذمہ کردیئے گئے۔ اس کے علاوہ مالیاتی اختیارات بھی خاموشی سے منتقل کردیئے گئے ہیں۔ تازہ ترین احکامات میں عارضی طور پر تقرر کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جبکہ اصولاً یہ تقرر عارضی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں سے قربت رکھنے والے ایک شخص نے سات ماہ قبل میعاد میں توسیع کے احکامات کی اجرائی میں اہم رول ادا کیا کیونکہ عارضی متولی ان کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔ وقف اُمور کے ماہرین اور خود وقف بورڈ کے عہدیدار بھی اس بات پر حیرت میں ہے کہ کس طرح 7 ماہ قبل توسیع کے احکامات جاری کئے گئے اور بتدریج اختیارات کو منتقل کیا جانے لگا ہے۔ عارضی متولیوں کے تقرر کے سلسلہ میں مالیاتی اختیارات نہیں دیئے جاتے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ وقف بورڈ کیلئے منتخب ایک مشہور متولی کو بحال کرتے ہوئے وقف بورڈ نے مالیاتی اختیارات سے محروم رکھا ہے پھر نامپلی درگاہ کے معاملہ میں عدالت میں مقدمہ کے باوجود اس قسم کی مہربانیاں کیوں۔؟ اعلیٰ عہدیدار کی ہدایت پر دو ہنڈیوں کی چابی حوالے کردی گئی اور درگاہ کے تحت مکانات اور ملگیات کے کرائے بھی متولی کے ذمہ کردیئے گئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT