Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے انتخابی عمل میں شدت ۔ نمائندگیوں کا بھی آغاز

وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے انتخابی عمل میں شدت ۔ نمائندگیوں کا بھی آغاز

رائے دہندوں کے بارے میں اعتراضات کی پیشکشی ۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے انتخابی عمل کا جائزہ لیا
حیدرآباد۔/13 ڈسمبر ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے انتخابی عمل شدت اختیار کرچکا ہے۔ 186 متولیوں اور منیجنگ کمیٹیوں پر مشتمل فہرست رائے دہندگان کی اشاعت کے ساتھ ہی مختلف گوشوں سے ناموں کی شمولیت کے سلسلہ میں نمائندگی کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ بعض رائے دہندوں کے بارے میں اعتراضات بھی پیش کئے جارہے ہیں۔ مختلف اوقافی اداروں سے وابستہ افراد نے وقف بورڈ کے دفتر پہنچ کر انتخابی عمل کے بارے میں معلومات کا آغاز کردیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں ان کی میعاد 11ڈسمبر کو ختم ہوچکی ہے جو وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے ہائی کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ مہلت کا آخری دن تھا۔ حکومت نے انتخابی عمل کا آغاز کرتے ہوئے عہدیدار مجاز کی برقراری کی راہ ہموار کردی ہے۔ اسی دوران اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے آج انتخابی عمل کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی عمل میں بعض مزید وضاحتوں کیلئے معاملات کو ماہرین قانون اور اسمبلی سکریٹریٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ انتخابی اعلامیہ میں دوسرے زمرے کو ارکان مقننہ تحریر کیا گیا تاہم اس میں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ اسمبلی یا کونسل کے رکن وقف بورڈ کیلئے منتخب ہوسکتے ہیں۔ سنٹرل وقف ایکٹ کے تحت صرف رکن اسمبلی کو وقف بورڈ میں مقابلہ کا حق دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں سکریٹری لیجسلیچر اور وقف بورڈ سے رائے حاصل کی گئی ہے کیونکہ اس زمرے کے تحت 2 ارکان کا انتخاب کرنا ہے۔ اگر سنٹرل ایکٹ پر سختی سے عمل کیا جائے تو قانون ساز کونسل کے ارکان کو انتخاب میں حصہ لینے کا اختیار نہیں رہے گا۔ بار کونسل کے ایک رکن کے انتخاب کا مسئلہ بھی وقف بورڈ کیلئے دشوار کن ہوسکتا ہے کیونکہ بار کونسل کے واحد مسلم رکن کی میعاد 17 ڈسمبر کو ختم ہورہی ہے لہذا حکومت کو یہ طئے کرنا ہوگا کہ بار کونسل کے رکن کی عدم موجودگی کی صورت میں کسے مقابلہ کا اہل قرار دیا جائے۔ وقف ایکٹ کے تحت 2 خواتین کو وقف بورڈ میں شامل کرنا ضروری ہے تاہم اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی رائے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایکٹ کے مطابق رکنیت کی اہل خواتین کی موجودگی کی صورت میں یہ ممکن ہے جبکہ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ وقف ایکٹ میں لازمی نمائندگی کی بات کہی گئی۔ اس سلسلہ میں ماہرین قانون سے رائے حاصل کی جائے گی اور قطعی فیصلہ حکومت کا ہوگا۔ 10 رکنی کمیشن میں 6 ارکان الیکشن کے ذریعہ منتخب ہوں گے جبکہ 4 کو حکومت نامزد کرے گی۔ جن چھ ارکان کا انتخاب الیکشن کے ذریعہ ہوگا ان میں ایک رکن پارلیمنٹ، 2 ارکان مقننہ، ایک رکن بار کونسل، متولی اور منیجنگ کمیٹی کے 2 ارکان شامل ہیں۔ نامزد زمرہ میں شیعہ اور سنی اسکالر کے علاوہ ایک عہدیدار کی شمولیت لازمی ہے۔ نامزد زمرے کے 4 ارکان میں حکومت خواتین کو شامل کرسکتی ہے۔ بورڈ کی فہرست رائے دہندگان میں 3 خاتون متولی شامل ہیں تاہم انکے مقابلہ کے امکانات موہوم ہیں۔ اگر وہ مقابلہ کرتی ہیں تب بھی کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں۔ اس طرح  وقف بورڈ کا الیکشن کافی دلچسپ اور فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ 17 ڈسمبر تک فہرست رائے دہندگان پر اعتراضات پیش کئے جاسکتے ہیں اور 20ڈسمبر کو قطعی فہرست رائے دہندگان شائع کردی جائے گی۔ 27 ڈسمبر تک پرچہ جات نامزدگی داخل کئے جاسکتے ہیں جن کی جانچ 29ڈسمبر کو ہوگی۔ 31 ڈسمبر پرچہ نامزدگی واپس لینے کی تاریخ ہوگی جبکہ 10 جنوری کو رائے دہی اور نتیجہ کا اعلان کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT