Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی تقسیم کا عمل تقریباً مکمل ، عنقریب باقاعدہ احکامات

وقف بورڈ کی تقسیم کا عمل تقریباً مکمل ، عنقریب باقاعدہ احکامات

بورڈ کی تقسیم پر تلنگانہ کے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ممکن ، کمپیوٹرائزیشن کا کام قریب الختم
حیدرآباد۔/11ستمبر، (سیاست نیوز) مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے وقف بورڈکی تقسیم کے عمل کو تقریباً منظوری دے دی ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد اس سلسلہ میں باقاعدہ احکامات جاری کئے جائیں گے۔ وقف بورڈ کی تقسیم کا عمل مکمل ہونے کے بعد بورڈ کے ملازمین، اثاثہ جات اور فنڈز کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ تلنگانہ حکومت نے مرکز سے خواہش کی کہ وہ بورڈ کی تقسیم کو جلد سے جلد منظوری دے تاکہ تلنگانہ میں بورڈ کی تشکیل اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی کے اقدامات میں مدد ملے۔ تلنگانہ حکومت وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے شہر اور اضلاع میں مرکزی مقامات پر موجود جائیدادوں کو ترقی کیلئے خانگی شعبہ کو لیز پر حوالے کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اس طرح وقف بورڈ کی آمدنی میں زبردست اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ بورڈ نے بعض کھلی اراضیات اور جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں خانگی شعبہ کو ڈیولپمنٹ کیلئے 30سال کی لیز پر دیا جاسکتا ہے۔ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ لیز کی مدت 30سال کرتے ہوئے خانگی کمپنیوں کو حوالے کیا جاسکتا ہے۔ وقف بورڈ کی تقسیم میں تاخیر کے سبب اس اسکیم کو حکومت کی منظوری حاصل نہیں ہوسکی۔ اب جبکہ بورڈ کی تقسیم کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے، وقف بورڈ کے عہدیداروں کو یقین ہے کہ حکومت آمدنی میں اضافہ کیلئے اراضیات کو لیز پر دینے کی تجویز کو منظوری دے گی۔ وقف بورڈ نے حج ہاوز سے متصل 8 منزلہ کامپلکس کو ڈیولپمنٹ کیلئے خانگی ادارہ کو لیز پر دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز حکومت کے زیر غور ہے۔ اس کامپلکس کی تعمیر میں تلنگانہ کے علاوہ آندھرا پردیش کی بعض اہم درگاہوں کے فنڈز کا استعمال کیا گیا۔ آندھرا پردیش حکومت نے حج ہاوز اور اس سے متصل کامپلکس کی تعمیر میں اس کے اداروں کے خرچ کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسی دوران وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز جلال الدین اکبر نے اوقافی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے اور دوسرے سروے کا کام جلد مکمل کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ کمپیوٹرائزیشن کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور دوسرے سروے کا کام بھی اختتامی مراحل میں ہے۔ وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہو اور ریونیو ریکارڈ میں انہیں بحیثیت وقف درج کیا جائے۔ جلال الدین اکبر نے وقف بورڈ میں بعض محکمہ جات کے ریٹائرڈ عہدیداروں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ریکارڈز کے تحفظ اور عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی موثر پیروی کا آغاز کیا ہے۔ اس بات کا انکشاف ہوا کہ کئی اہم اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات برسوں سے عدالتوں میں زیر دوران ہیں لیکن بورڈ کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل نہیں کیا گیا۔ اس طرح کے کئی مقدمات کا فیصلہ وقف بورڈ کے خلاف آیا کیونکہ بورڈ کی جانب سے موثر پیروی نہیںکی گئی۔ ریونیو اور دیگر محکمہ جات کے ریٹائرڈ عہدیداروں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وقف بورڈ کو کئی اداروں بالخصوص گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے اراضیات کے حصول کیلئے کروڑہا روپئے وصول طلب ہیں اس کے لئے خصوصی مہم شروع کی گئی۔ بورڈ کے ملازمین کی تعداد میں اضافہ اور سرویس رول کے تعین کیلئے بھی حکومت سے سفارش کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT