Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی تقسیم کے باوجود فنڈس کی عدم تقسیم

وقف بورڈ کی تقسیم کے باوجود فنڈس کی عدم تقسیم

آندھرا پردیش وقف بورڈ کو بحران کا سامنا ، حکومت تلنگانہ کو مکتوب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جنوری (سیاست نیوز) وقف بورڈ کو تقسیم ہوئے دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا لیکن آج تک دونوں ریاستوں کے درمیان فنڈس کی تقسیم عمل میں نہیں آئی جس کے باعث آندھراپردیش وقف بورڈ کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ کمشنر اقلیتی بہبود آندھراپردیش شیخ محمد اقبال نے فنڈس کی تقسیم کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ انہوں نے آندھراپردیش کی اوقافی جائیدادوں کی رقم سے تلنگانہ میں جائیدادوں کی ترقی میں استعمال کی گئی رقم اور فکسڈ ڈپازٹ کی رقم جاری کرنے کی خواہش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ حکومت نے تقریباً 75 کروڑ روپئے کی اجرائی کا مطالبہ کیا ہے جس میں 24 کروڑ روپئے درگاہ حضرت اسحق مدنیؒ وشاکھاپٹنم کی رقم ہے جسے حج ہاؤز سے متصل کامپلکس کی تعمیر کیلئے استعمال کیا گیا۔ وقف بورڈ میں 40 کروڑ روپئے کے فکسڈ ڈپازٹ ہیں جن کی تقسیم آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے مطابق عمل میں آئے گی ۔ آندھراپردیش کو 55 فیصد اور تلنگانہ کو 45 فیصد رقم حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ میں موجود دیگر رقومات کی بھی تقسیم ابھی باقی ہے۔ آندھراپردیش کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ فوری حساب کرتے ہوئے 30 تا 40 کروڑ روپئے واجب الادا ہیں لیکن تلنگانہ کے عہدیدار رقم کی اجرائی میں تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ آندھراپردیش کو شکایت ہے کہ وقف بورڈ میں ملازمین کی تنخواہوں اور روز مرہ کے اخراجات کیلئے بھی دشواری کا سامناہے۔ اگر فنڈس کو تقسیم کیا گیا تو آندھراپردیش میں اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ شیخ محمد اقبال نے ایک سال میں 400 کروڑ روپئے آمدنی میں اضافہ کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت آندھراپردیش کی اہم اوقافی جائیدادوں کو ترقی دینے کی تجویز حکومت کو پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کئی اوقافی اراضیات کے تحفظ کیلئے قابضین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا اور بتایا جاتا ہے کہ بعض قابضین کا تعلق برسر اقتدار تلگو دیشم پارٹی سے ہے ، اس کے باوجود شیخ محمد اقبال نے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ سید عمر جلیل نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فنڈس کی تقسیم کا عمل شروع کریں اور وقف بورڈ میں موجود فکسڈ ڈپازٹ اور دیگر رقومات کا حساب کرتے ہوئے اس کی تقسیم عمل میں لائیں۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو آندھراپردیش کے حصہ کی رقم جاری کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ دونوں ریاستوں کے درمیان رقم کی تقسیم کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ دونوں ریاستوں نے وقف بورڈ سے متصل زیر تعمیر کامپلکس پر اپنی دعویداری پیش کی ہے ۔ اس بارے میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں بہت جلد فیصلہ کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT