Tuesday , May 23 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی جانب سے عصری ہاسپٹل کے قیام کا منصوبہ

وقف بورڈ کی جانب سے عصری ہاسپٹل کے قیام کا منصوبہ

بیواؤں کیلئے وظائف شروع کرنے کی تجویز‘ غریبوں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات
حیدرآباد۔ 10 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے غریب افراد کے مفت علاج کیلئے ہاسپٹل کی تعمیر ، شہر کے مضافاتی علاقہ میں میڈیکل کالج کا قیام اور بیواؤں کیلئے وظائف شروع کرنے کی تجویز ہے۔ بورڈ کے صدرنشین محمد سلیم نے آج میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں کی آمدنی میں اضافہ کرکے وہ چاہتے ہیں کہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی اہم اوقافی جائیدادوں کا منشائے وقف تعلیمی و غریبوں کی امداد سے متعلق سرگرمیاں ہیں۔ ایسے اداروں کی آمدنی کو استعمال میں لاتے ہوئے وقف بورڈ ایک عصری ہاسپٹل کی تعمیر کا منصوبہ رکھتا ہے، جہاں غریبوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ محمد سلیم نے کہا کہ صدرنشین کی حیثیت سے وہ ہاسپٹل کی تعمیر اور میڈیکل کالج کے قیام پر خصوصی توجہ دیں گے اور اس سلسلے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے بھی مشاورت کرتے ہوئے منظوری حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندان آج علاج کے سلسلے میں کافی پریشان ہیں، کیونکہ کارپوریٹ دواخانوں میں علاج کافی مہنگا ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں جب وہ وقف بورڈ کے صدرنشین تھے، انہوں نے میڈیکل کالج کے قیام کی تحریک شروع کی تھی، آج وہ اس کا احیاء کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیکل کالج کیلئے اراضی اور دیگر سہولتیں حکومت سے حاصل کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تعداد اور ان کی مالیت کئی ہزار کروڑ روپئے ہے لہذا اگر ان اداروں کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے تو میڈیکل کالج کے قیام میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے کسی موزوں مقام پر غریبوں کیلئے ہاسپٹل تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ سے مطلقہ خواتین کو وظائف کی اجرائی کا نظم تھا، جو اب مسدود ہوچکا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بیواؤں کو بھی ماہانہ وظائف جاری کئے جائیں۔ اس سلسلے میں وہ آئندہ بورڈ کے اجلاس میں منظوری حاصل کریں گے کہ جن خواتین کو حکومت کی جانب سے وظائف نہیں ہیں، وہ وقف بورڈ کے وظیفہ کیلئے اہل ہوں گی۔ اسی دوران باوثوق ذرائع کے مطابق بورڈ نے 70 سال سے زائد عمر کے 6 ملازمین کی خدمات برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں بعض دیگر محکمہ جات سے ریٹائرمنٹ کے بعد آئے تھے، ان میں واحد خان، صاحب خان، نجم الدین (کریم نگر)، محمد قاسم اور افتخار مشرف (تمام ایگزیکٹیو آفیسرس) شامل ہیں۔ بورڈ نے 3 ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات عارضی طور پر ایک سال کیلئے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جن میں فلاح الدین، محمد بشیرالدین اور اعجازالدین شامل ہیں۔ وقف بورڈ کے اُمور کے بارے میں ان کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ نے منی کونڈہ اوقافی اراضی کے مقدمہ میں سپریم کورٹ کے وکلا کو لاکھوں روپئے بطور فیس ادائیگی کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ مقدمہ کے قطعی مرحلہ میں ہونے کے باعث اس معاملے کو لیگل کمیٹی سے رجوع کیا گیا۔ بورڈ نے بتایا جاتا ہے کہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے ایم اے منّان کے حکومت کی جانب سے تقرر کو قبول کرلیا ہے جبکہ طریقہ کار کے مطابق بورڈ عہدیداروں کے نام کا پیانل روانہ کرتا ہے اور حکومت کو کسی ایک نام کی منظوری دینی ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں حکومت نے راست سی ای او کا تقرر کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تولیت ، لیگل اور دیگر ذیلی کمیٹیاں آئندہ اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT