Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی فائیلوں کو پرانی تواریخ میں یکسوئی کی تردید

وقف بورڈ کی فائیلوں کو پرانی تواریخ میں یکسوئی کی تردید

کرمن گھاٹ وقف اراضی کے تحفظ کے لیے وکیل سے خدمات کی ہدایت کا اعتراف ، سید عمر جلیل
حیدرآباد۔/9مارچ، ( سیاست نیوز) سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے وقف بورڈ سے متعلق فائیلوں کی پرانی تاریخوں میں یکسوئی کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل جی او ایم ایس 9 کے تحت عمل میں آئی ہے اور صدرنشین کے انتخاب کیلئے 24 فبروری کو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جناب محمد سلیم صدرنشین منتخب ہوئے۔ انہوں نے سکریٹری کی جانب سے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے فائیلوں کی یکسوئی کی تردید کی تاہم ’ سیاست ‘ سے بات چیت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ کرمن گھاٹ میں اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے انہوں نے خانگی وکیل کی خدمات حاصل کرنے وقف بورڈ کو ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی منظوری کے حصول اور بورڈ کی جانب سے اس معاملہ کو سمجھنے تک اراضی کا مقدمہ وقف بورڈ کے خلاف جاسکتا ہے اسی لئے انہوں نے یہ ہدایت دی تھی۔ سکریٹری نے ورنگل میں انارم شریف درگاہ کے ٹنڈر کے الاٹمنٹ سے متعلق احکامات کی اجرائی کا بھی اعتراف کیا۔ بظاہر سکریٹری اقلیتی بہبود فائیلوں کی یکسوئی کی تردید کررہے ہیں تاہم آج بھی بورڈ کی کئی فائیلیں سکریٹری کے پاس موجود ہیں جن کی واپسی کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے ان سے خواہش کی ہے۔ بعض مساجد کمیٹیوں کی منظوری کے احکامات بھی بورڈ کی تشکیل کے بعد ہی جاری کئے گئے ہیں۔ دراصل اس مسئلہ پر صدرنشین اور بورڈ کے ارکان کی ناراضگی اور بے چینی کو دیکھتے ہوئے سکریٹری نے وضاحت کو ضروری سمجھا تاکہ مزید کسی تنازعہ سے خود کو بچایا جاسکے۔ متنازعہ فیصلوں کے سلسلہ میں سکریٹری نے درگاہ حضرات یوسفینؒ کے سات ماہ قبل جاری کردہ احکامات کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ وقف بورڈ کے معاملات میں سکریٹری اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے درمیان تال میل کی کمی کی کئی مثالیں موجود ہیں اور کئی متنازعہ فیصلے بھی حالیہ عرصہ میں کئے گئے جو بورڈ کے اجلاس میں موضوع بحث بن سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT