Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی لیگل ٹیم کو مکمل تبدیل کرنے کا فیصلہ

وقف بورڈ کی لیگل ٹیم کو مکمل تبدیل کرنے کا فیصلہ

اوقافی جائیدادوں کے مقدمات میں شکست پر صدرنشین محمد سلیم کی ماہرین قانون سے مشاورت

حیدرآباد۔13 جولائی (سیاست نیوز) عدالتوں میں اوقافی جائیدادوں کے مقدمات میں وقف بورڈ کی شکست کے لیے کون ذمہ دار ہیں؟ صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے ماہرین قانون سے مشاورت کے ذریعہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ عدالتوں میں بورڈ کی جانب سے مکمل ریکارڈ پیش کرنے کے باوجود فیصلے بورڈ کے خلاف آرہے ہیں۔ اس صورتحال کے لیے عدالتوں میں موثر پیروی کی کمی، اہل اور قابل وکلاء کی قلت، وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل کی مقدمات کے سلسلہ میں عدم دلچسپی اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کا عدم تعاون کا رویہ جیسے امور کو ذمہ دار پایا گیا۔ گزشتہ دنوں انوارالعلوم کالجس کے سلسلہ میں حیدرآباد ہائی کورٹ نے جس طرح وقف بورڈ کے احکامات کو معطل کیا ہے اس سے مقدمات کی پیروی میں بورڈ کی عدم دلچسپی کی مثال سامنے آئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جائزہ کے دوران حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ 2014ء سے اس ایک ادارے سے متعلق 15 سے زائد مقدمات ہائی کورٹ میں دائر کئے گئے جن میں بہت کم مقدمات کی یکسوئی ہوئی اور زیادہ تر مقدمات ابھی بھی زیر دوران ہیں۔ وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل یا لیگل ڈپارٹمنٹ نے کبھی بھی ان مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کے سلسلہ میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ بتایا جاتا ہے کہ جس وقت وقف بورڈ کے اجلاس میں انوارالعلوم تعلیمی اداروں کو راست تحویل میں لینے کے لیے قرارداد منظور کی گئی اس وقت بھی لیگل ڈپارٹمنٹ نے زیر التوا مقدمات اور بعض فیصلوں سے واقف نہیں کرایا جس کو بنیاد بناکر بورڈ کے فیصلوں کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض مقدمات میں اسٹینڈنگ کونسل نے اندرونی طور پر فریق ثانی سے مفاہمت کرلی جس کے باعث بورڈ کو بھاری نقصان ہوا۔ وقف بورڈ کے مقدمات کی پیروی کے لیے بعض ایسے وکلاء کو منتخب کیا گیا ہے جن کے مقدمات کی کامیابی کا ریکارڈ انتہائی کم ہے اور وقف بورڈ سے متعلق مقدمات میں انہیں زیادہ تر ناکامی ہوئی ہے۔ منی کونڈا جاگیر اور دیگر اہم مقدمات میں مذکورہ وکلاء کی بحث سے وقف بورڈ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انوارالعلوم کالجس کے سلسلہ میں بھی مذکورہ وکیل کو ذمہ داری دی گئی اور یہ فیصلہ بورڈ کے صدرنشین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے مشورہ کیئے بغیر لیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے مقدمات کی موثر پیروی کے لیے لیگل ٹیم کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے مقدمات کی پیروی کے لیے نامور وکلاء پر مشتمل ٹیم تیار کی جارہی ہے اور اس سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک پانچ وکلاء نے اپنی رضامندی دے دی ہے۔ ان وکلاء کی فیس اگرچہ لاکھوں روپئے میں ہے لیکن مقدمات میں کامیابی ان کے نام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی جائیداوں کو بچانے کے لیے بورڈ بھاری رقم بطور فیس ادا کرنے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں بورڈ کی ناکامی سے مسلسل دشواری ہورہی ہے اور وہ اس صورتحال کو بدلنا چاہتے ہیں۔ تمام درکار دستاویزات رکھنے کے باوجود بورڈ کے خلاف عدالتوں کے فیصلے باعث حیرت ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وکلاء مدلل بحث کرنے اور جج کو دستاویزات اور وقف بورڈ کے موقف کے حق میں سمجھانے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام اہم مقدمات کے سلسلہ میں جلد ہی نامور وکلاء کی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ یہی ٹیم انوارالعلوم کالجس کے مقدمہ کی پیروی کرے گی جس کی آئندہ سماعت 8 اگست کو مقرر ہے۔

TOPPOPULARRECENT