Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے ڈپٹی سکریٹری اور ایم آر او رتبہ کے عہدیداروں کی خدمات

وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے ڈپٹی سکریٹری اور ایم آر او رتبہ کے عہدیداروں کی خدمات

محکمہ مال سے عہدیداروں کا ڈیپیوٹیشن ، قابل عہدیداروں کی کمی سے بورڈ کی کارکردگی متاثر
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے محکمہ مال سے ڈپٹی سکریٹری اور ایم آر او رتبہ کے تقریباً 15 عہدیداروں کو ڈپیوٹیشن پر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وقف بورڈ میں قابل اور اہل عہدیداروں کی کمی کے باعث روز مرہ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہورہی ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے آج حج ہاؤز پہنچ کر صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے بورڈ میں اسٹاف کی کمی کے باعث درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔ بورڈ میں کلرک رتبہ کے بعد کوئی دوسرا عہدہ نہیں ہے۔ لہذا کلرک کے بعد چیف اگزیکیٹیو آفیسر واحد عہدیدار ہیں ، لہذا بورڈ کی کارکردگی اور فائلوں کی یکسوئی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ بورڈ میں سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سکریٹری رتبہ کے عہدیدار نہیں ہے، لہذا محکمہ مال سے تقریباً 15 عہدیداروں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کلکٹر اور ایم ار او رتبہ کے یہ عہدیدار اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے محکمہ مال کے ماہرین کی ضرورت ہے جو دونوں ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے جائیدادوں کا تحفظ یقینی بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود ڈیپیوٹیشن پر عہدیداروں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انہیں وقف بورڈ میں تقرر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے کاموں میں اعانت کیلئے درکار اہل اسٹاف دستیاب نہیں ہے۔ بورڈ کے ماتحت عملے کی جانب سے عدم تعاون کے رویہ کی بھی شکایات ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی کمی ہے ، لہذا دیگر محکمہ جات سے عہدیداروں کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیڈ آفس کے علاوہ اضلاع میں بھی وقف بورڈ کے عہدیدار دستیاب نہیں، جس کے باعث اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کے اقدامات میں دشواری ہورہی ہے۔ بورڈ کی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے آمدنی میں اضافہ کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بورڈ میں جو ملازمین اور عہدیدار فرائض کی انجام دہی میں تساہل اور غفلت سے کام لیں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ جبکہ وقف بورڈ میں ورک کلچر کو متعارف کرنے کی ضرورت ہے ۔ عہدیداروں کے علاوہ خود ملازمین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے ۔ کیونکہ بورڈ کی عدم کارکردگی کے بارے میں حکومت کو کئی شکایات ملی ہیں۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ آمدنی میں اضافہ کیلئے حکومت نے 11 اہم جائیدادوں کو 30 سالہ لیز پر دینے کی اجازت دیدی ہے۔ اس سلسلہ میں گلوبل ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ عمر جلیل نے بتایا کہ حج ہاؤز کی دونوں جانب واقع اراضی کو ترجیحی بنیادوں پر لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ٹنڈرس کی طلبی کی تیاری کریں۔ زیر تعمیر کامپلکس اور کھلی اراضی کو لیز پر دیتے ہوئے آمدنی میں اضافہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حالیہ اسمبلی اجلاس میں حج ہاؤز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس میں اقلیتی بہبود کے دفاتر منتقل کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ تاہم اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو تحریری ہدایات جاری نہیں کی گئی ۔ عمر جلیل نے بتایا کہ وقف بورڈ کے کرایہ دار کی وصولی کے سلسلہ میں خصوصی مہم چلائی جائے گی ۔ انہوں نے صدرنشین اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو مشورہ دیا کہ وہ بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مکمل تعاون حاصل رہے گا۔ انہوں نے بورڈ کے بعض شعبہ جات میں بے قاعدگیوں کی شکایات کا فوری ازالہ کرنے اور عوامی مسائل کی فوری یکسوئی کا مشورہ دیا ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور کرایہ کی وصولی کے سلسلہ میں شروع کی گئی مہم سے واقف کرایا اور کہا کہ ملازمین میں ڈسپلن پیدا کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں اور بہت جلد ملازمین کی قابلیت کی بنیاد پر انہیں ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔ تمام عہدیداروں اور ملازمین کی تعلیمی قابلیت اور تقرر سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی ہیں جس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT