Friday , March 31 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے انسپکٹر آڈیٹرس کو ٹریننگ

وقف بورڈ کے انسپکٹر آڈیٹرس کو ٹریننگ

تلنگانہ وقف بورڈ میں ضلعی آڈیٹرس کی طلبی، ماہرین سے خدمات کا حصول
حیدرآباد۔/19نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے 31 اضلاع میں موجود 38000 اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے تلنگانہ وقف بورڈ نے اپنے انسپکٹر آڈیٹرس کو ٹریننگ کا آغاز کیا ہے۔ حج ہاوز میں آج تمام 31 اضلاع کے انسپکٹر آڈیٹرس کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے انہیں جی پی اے سسٹم کے استعمال کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں اور اس کے تحت موجود اراضی کی نشاندہی کی تربیت دی ہے۔ اضلاع کی تعداد میں اضافہ کے بعد انسپکٹر آڈیٹرس کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ ماہرین کے ذریعہ انسپکٹرس کو اس بات کی تربیت دی گئی کہ وہ جی پی اے سسٹم کے ذریعہ کس طرح جائیدادوں کی نشاندہی اور ان کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ تمام انسپکٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ضلع میں موجود تمام اوقافی اداروں اور جائیدادوں کی نشاندہی کریں۔ اس کے علاوہ ان اداروں کے متولیوں اور ان کی آمدنی اور خرچ کے بارے میں بھی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ ان تفصیلات کے حصول کا مقصد آمدنی کا اندازہ کرنا ہے تاکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ وقف بورڈ کی جانب سے ہر ضلع میں اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات انسپکٹرس کو حوالے کی جارہی ہیں اور وہ ہر ادارہ کی آمدنی کے مطابق وقف فنڈ کا تعین کریں گے۔ اس کے علاوہ فنڈ کے حصول اور باقی رقم کی تفصیلات بھی درج کی جائیں گی، اس سے نہ صرف وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ تمام اضلاع سے تفصیلات حاصل کئے جانے کے بعد وقف بورڈ کے بجٹ کی تیاری میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے انسپکٹر آڈیٹرس کو ہدایت دی کہ کسی بھی جائیداد پر ناجائز قبضہ یا اراضی کی فروخت کی صورت میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کرائیں اور ہیڈ آفس کو رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی کوتاہی یا بے قاعدگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ اوقافی اداروں کے کرایہ جات کی وصولی کیلئے سافٹ ویر سسٹم سے مربوط مشین تمام انسپکٹرس کے حوالے کی جائے گی اور ریاست کے کسی بھی ادارہ سے کرایہ کی وصولی کے ساتھ ہی اس کا ریکارڈ وقف بورڈ میں جمع ہوجائے گا۔ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ اکثر یہ شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بعض ریٹائرڈ ملازمین اور وقف بورڈ سے معطل کردہ افراد ابھی بھی خود کو وقف بورڈ کا ملازم ظاہر کرتے ہوئے کرایہ جات وصول کررہے ہیں۔ ایسے بعض افراد کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے معاملات کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور فوجداری مقدمات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ محمد اسد اللہ نے انسپکٹر آڈیٹرس کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری سنجیدگی اور دیانتداری کے ساتھ انجام دیں تاکہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت کے عہد کی تکمیل ہوسکے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT