Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے تعلیم یافتہ نوجوان عارضی ملازمت سے بے دخل

وقف بورڈ کے تعلیم یافتہ نوجوان عارضی ملازمت سے بے دخل

ریٹائرڈ ملازمین سے خدمات کا حصول ، اردو اکیڈیمی ، اقلیتی کارپوریشن میں اقرباء پروری کا ماحول
حیدرآباد۔/18ڈسمبر، ( سیاست نیوز) یوں تو تمام سرکاری محکمہ جات مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت چلتے ہیں لیکن اقلیتی بہبود ایک خود مختار مملکت کی طرح ہے جہاں حکومت کے قواعد و ضوابط کا کوئی پاس و لحاظ نہیں۔ ماتحت عملے کے تقررات، ترقی کے علاوہ دیگر معاملات میں سرکاری قواعد کی کھلی خلاف ورزی جاری ہے اور اقلیتی ادارے اقرباء پروری کے مرکز بن چکے ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت نے کسی بھی محکمہ اور ادارے میں تقررات حتیٰ کہ عارضی ملازمین کے تقررات پر بھی پابندی عائد کردی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقلیتی بہبود ان احکامات سے مستثنیٰ ہے۔ حکومت کے احکامات کو بے خاطر کرتے ہوئے اقلیتی اداروں میں عارضی ملازمین کے تقررات کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت میں شامل بعض اہم شخصیتوں کی سفارش پر حالیہ عرصہ میں بعض تقررات کئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے احکامات کی آڑ میں وقف بورڈ میں 20سے زائد عارضی ملازمین کی خدمات ختم کردی گئیں اور یہ تمام تعلیم یافتہ نوجوان اچانک بیروزگار کردیئے گئے جبکہ دوسری طرف اسی ادارہ میں تقریباً 40 ریٹائرڈ ملازمین کا عارضی تقرر کیا گیا اور انہیں بھاری تنخواہ ادا کی جارہی ہے جبکہ خدمات سے علحدہ کئے گئے نوجوانوں کی تنخواہ صرف 7 تا 8 ہزار روپئے تھی۔ ریٹائرڈ ملازمین کو اگرچہ کئی ذمہ داریاں دی گئیں لیکن وہ ملازمین اکثر و بیشتر وقف بورڈ کے دفتر میں نظر آتے ہیں اور ان کے پاس فائیلوں کی یکسوئی کا بھی کوئی نظم نہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وقف بورڈ میں ریٹائرڈ ایمپلائز کے تقرر پر ناراضگی کا اظہار کیا جس کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ سے رپورٹ طلب کی لیکن آج تک سکریٹری کو اس بارے میں رپورٹ پیش نہیں کی گئی برخلاف اس کے وقف بورڈ کے ذمہ دار ریٹائرڈ ملازمین کے تقررات کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے حکومت کے احکامات سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں۔ اقلیتی اداروں میں اقرباء پروری کا یہ عالم ہے کہ کئی اداروں میں موجودہ ملازمین اور عہدیداروں کے رشتہ دار موجود ہیں اور وقف بورڈ میں ایسے رشتہ دار ملازمین کی تعداد تقریباً 20بتائی گئی ہے۔ سکریٹریٹ کے اقلیتی بہبود سیکشن میں برسر خدمت بعض ملازمین کے قریبی رشتہ دار کا اردو اکیڈیمی میں تقرر کیا گیا اور یہ ریاست کی تقسیم سے عین قبل کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی کے تحت بتایا جاتا ہے کہ کئی مستحق افراد کو نظرانداز کرتے ہوئے بعض عہدیداروں کے قریبی رشتہ داروں کا تقرر کیا گیا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن بھی اس طرح کی صورتحال سے مستثنیٰ نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشن میں جنرل منیجر کی وظیفہ پر سبکدوشی کیلئے صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے ایسے میں سبکدوش ہونے والے عہدیدار اپنے رشتہ دار کو اس عہدہ پر فائز کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں اور اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کا کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جنرل منیجر کے عہدہ کیلئے قواعد کے مطابق اسسٹنٹ جنرل منیجر کا تقرر ضروری ہے لیکن قواعد کی خلاف ورزی کے ذریعہ منیجر رتبہ کے عہدیدار کو زائد ذمہ داری کے طور پر یہ عہدہ حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ اسسٹنٹ جنرل منیجر کو ناسازی مزاج کے بعد اچانک میڈیکل بورڈ سے رجوع ہونے کی ہدایت دی گئی اور 5 ڈسمبر سے آج تک میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا۔ اس طرح میڈیکل بورڈ اور رپورٹ میں تاخیر کے ذریعہ اپنے رشتہ دار کو جنرل منیجر کے عہدہ پر فائز کرنے کی مساعی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض اعلیٰ عہدیداروں نے اس تجویز کی مخالفت کی اور اسے قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا لیکن حکومت میں شامل افراد اور اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کے نتیجہ میں قواعد کو پس پشت ڈالنے کی تیاریوں کی اطلاع ملی ہے۔ اسسٹنٹ جنرل منیجر کو میڈیکل بورڈ سے رجوع کرنے کے پس پردہ یہی مقصد کار فرما دکھائی دے رہا ہے۔ کارپوریشن کے ملازمین میں اس صورتحال پر بے چینی پائی جاتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ جنرل منیجر کے بعد ایک اور سینئر عہدیدار موجود ہے لیکن سبکدوش ہونے والے جنرل منیجر اپنے رشتہ دار کو مامور کرنے کیلئے اعلیٰ عہدیداروں کی تائید حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ اس بارے میں جب جی اے ڈی کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے ربط قائم کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ جنرل منیجر اور ایک اور سینئر عہدیدار کی موجودگی میں منیجر کو جنرل منیجر کے عہدہ کی ذمہ داری نہیں دی جاسکتی اور اس طرح کے کسی فیصلہ کی صورت میں معاملہ قانونی پیچیدگی کا رُخ اختیار کرسکتا ہے۔ الغرض محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کی آڑ میں تقررات، ترقی اور تبادلوں میں بعض افراد کی من مانی کی شکایات ملی ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں سے قربت کے ذریعہ وقف بورڈ میں حال ہی میں دو متنازعہ فیصلے کئے گئے جس سے بورڈ کو بھاری رقم کا نقصان ہورہا ہے۔ وقف بورڈ کے لیگل آفیسرس بھی ان فیصلوں کے خلاف تھے تاہم اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے احکامات جاری کردیئے۔
’ تلنگانہ کی شام اردو کے نام ‘ آج میوزیکل پروگرام
حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( راست ) : اردو زبان ، ادب و تہذیب کی فروغ اور ہندوستانی فلموں کے اردو شعرا کرام گلوکاروں ، موسیقاروں کو خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کرنے اور شہر کی گلوکارہ سمرن کو ایوارڈ پیشکشی کے مقصد کے تحت 19 دسمبر بروز ہفتہ شام 6 بجے پرکاشم ہال گاندھی بھون نامپلی میں نظموں ، گیتوں اور غزلوں کا میوزیکل پروگرام بعنوان ’تلنگانہ کی شام اردو کے نام‘ منعقد ہے ۔ صدارت پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی کریں گے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی مہمان خصوصی ، جناب عابد رسول خاں ، محمد خلیق الرحمن اور محمد رحیم اللہ خاں نیازی اعزازی مہمان کے طور پر شرکت کرینگے ۔ داخلہ مفت رکھا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT