Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے خلاف ہائی کورٹ کا فیصلہ ، واٹس اپ پر فائیل گشت کا شاخسانہ

وقف بورڈ کے خلاف ہائی کورٹ کا فیصلہ ، واٹس اپ پر فائیل گشت کا شاخسانہ

سوشیل میڈیا سے فائل متعلقہ پارٹی تک پہونچ گئی ۔ وقف بورڈ حیرت زدہ
حیدرآباد۔ 10 اگست (سیاست نیوز) سوشیل میڈیا نے وقف ریکارڈ کی غیرقانونی منتقلی کے کام کو آسان کردیا ہے۔ وقف بورڈ میں ایک اہم فائل کو واٹس ایپ کے ذریعہ متعلقہ پارٹی تک پہنچا دیا گیا جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ کے خلاف ہائیکورٹ نے فیصلہ صادر کیا۔ وقف بورڈ کے حکام ، سوشیل میڈیا کے اس استعمال سے حیرت زدہ رہ گئے اور انہوں نے اس معاملے کی جانچ کرتے ہوئے قصوروار شخص کو ملازمت سے برطرف کردیا۔ وقف بورڈ میں ریکارڈ کی منتقلی اور غائب ہونے کی شکایت عام بات ہے اور موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسداللہ نے ان واقعات کے تدارک کیلئے سخت اقدامات کئے ہیں۔ مذکورہ معاملے میں بورڈ کے حکام کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ساری فائل متعلقہ پارٹی کے پاس موجود ہے جبکہ عام طور پر صرف احکامات کی نقل روانہ کی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورنگل کی ایک اوقافی جائیداد کے معاملات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں پر وقف بورڈ نے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی اور انہیں ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے متعلقہ فائل جیسے ہی سیکشن میں روانہ کی، وہاں برسرخدمت ایک ملازم نے واٹس ایپ پر مکمل فائل روانہ کردی جس میں اکاؤنٹ آفیسر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تحریر بھی شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کام کیلئے 20,000 روپئے حاصل کئے گئے ہیں۔ متعلقہ پارٹی نے واٹس ایپ سے فائل کی نقل حاصل کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائیکورٹ نے وقف بورڈ کے احکامات کو کالعدم کردیا۔ وقف بورڈ کے حکام اس فیصلہ سے ششدر رہ گئے کیونکہ فریقین ثانی نے مکمل فائل ہی عدالت میں داخل کردی۔ اس معاملے میں تحقیقات کے دوران مذکورہ ملازم نے رقم حاصل کرتے ہوئے واٹس ایپ پر فائل روانہ کرنے کا اعتراف کرلیا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے فوری طور پر اس معاملے میں عہدیدارِ مجاز سے مشاورت کے بعد ملازم کی برطرفی کے احکامات جاری کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ملازم مرزا بیگ عارضی ملازم ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے کہا کہ وقف بورڈ کے ملازمین کی اس طرح کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور کسی بھی قسم کا ریکارڈ سوشیل میڈیا کے ذریعہ منتقل کرنے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھلے ہی کوئی اعلیٰ عہدہ پر فائز کیوں نہ ہو لیکن وقف بورڈ کے مفادات کے خلاف کام کرنا سنگین جرم ہے۔ اس سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT