Wednesday , July 26 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے دو موظف عہدیداروں اور دیگر ملازمین کو نوٹس

وقف بورڈ کے دو موظف عہدیداروں اور دیگر ملازمین کو نوٹس

اندرون پندرہ یوم اوقافی جائیدادوں پر سے قبضہ برخاست کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/9مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے اوقافی جائیدادوں میں مقیم 2 ریٹائرڈ عہدیداروں اور 7 ملازمین کو غیر مجاز قبضہ کی دفعہ 54(1) کے تحت نوٹس جاری کی ہے اور انہیں اندرون 15 یوم تخلیہ کی مہلت دی گئی۔ ان سابق عہدیداروں اور موجودہ ملازمین کو اراضی اور مکانات کی لیز کی مدت ختم ہوچکی ہے اور وقف بورڈ نے لیز میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود مکانات کے تخلیہ سے انکار پر وقف بورڈ نے نئی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ وقف بورڈ کے دو ریٹائرڈ عہدیدار احمد محی الدین اور ایم اے غفار علی الترتیب قدرت اللہ وقف کے تحت رزاق پورہ  دارالسلام اور نادر شاہ وقف کے تحت مغلپورہ میں موجود اوقافی مکانات میں کئی برسوں سے مقیم ہیں جن کیلئے معمولی کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ ازروئے قانون اوقافی جائیدادیں یا اراضیات وقف بورڈ کے ملازمین کو لیز پر نہیں دی جاسکتیں۔ سابق میں بورڈ نے لیز پر دینے کا جو فیصلہ کیا اس کی میعاد بھی ختم ہوچکی ہے۔ ایک سابق عہدیدار نے  لیز کی مدت ختم ہونے کے بعد  انچارج سی ای او کی حیثیت سے لیز کی مدت میں اضافہ کا خود اپنے آپ سے معاہدہ کرلیا۔ مذکورہ دونوں ریٹائرڈ عہدیدار ابھی بھی وقف بورڈ میں عارضی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سات ملازمین شیخ پیٹ میں مسجد یکخانہ کے تحت اوقافی اراضی پر مکانات تعمیر کرچکے ہیں اور 1999 میں انہیں یہ الاٹ کیا گیا تھا۔ لیز کی مدت کے اختتام کے باوجود صرف معمولی کرایہ پر مقیم ہیں۔ وقف بورڈ کے مطابق جس اراضی کو لیز پر دیا گیا وہ اراضی قبرستان کی ہے جسے کسی بھی صورت میں لیز پر نہیں دیا جاسکتا۔ وقف بورڈ نے ریٹائرڈ عہدیداروں اور مذکورہ ملازمین کو تخلیہ کی نوٹس دی تھی جس پر ملازمین عدالت سے رجوع ہوئے اور ہائی کورٹ سے 4 ہفتوں کا حکم التواء حاصل کرلیا۔ ملازمین کا یہ استدلال تھا کہ وقف بورڈ نے بغیر کسی نوٹس کے تخلیہ کی ہدایت دی ہے۔ وقف بورڈ نے اب اس غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے تازہ نوٹس جاری کی ہے جس میں ان تمام کو غیر مجاز قابض قرار دیا گیا ہے۔ ایسے افراد کے خلاف 52(A)کے تحت کریمنل کیس درج کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے لیکن وقف بورڈ نے ابھی اس کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض ملازمین نے نوٹس قبول کرنے سے انکار کردیاہے۔ وقف ایکٹ کے مطابق تازہ نوٹس کی مدت ختم ہوتے ہی تخلیہ کی کارروائی کیلئے وقف ٹریبونل سے رجوع ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ شہر کے مرکزی مقامات پرواقع قیمتی اوقافی جائیدادوں پر وقف بورڈ کے ملازمین نے مکانات تعمیر کرلئے اور بورڈ کو ماہانہ 330 روپئے معمولی کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT