Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے شعبہ قضاۃ میں سی سی کیمرہ ندارد

وقف بورڈ کے شعبہ قضاۃ میں سی سی کیمرہ ندارد

عہدیداروں کی بارہا ناکامی ، ادارہ میں بے قاعدگیاں عروج پر
حیدرآباد۔ 20۔ اپریل ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے ہرشعبہ میں نگرانی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہے لیکن قضاۃ کا شعبہ ایسا ہے جو کسی نگرانی یا جوابدہی کے بغیر چل رہا ہے۔ آخر اس شعبہ میں ایسی کیا طاقت ہے کہ وہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے سے روک رہی ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ عہدیداروں نے کئی بار دفتر قضاۃ میں کیمرے نصب کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ تحقیقات پر پتہ چلا کہ دفتر قضاۃ دراصل بے قاعدگیوں کا مرکز ہے اور اس کے تار مختلف عہدیداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہذا وہاں کی سرگرمیوں کو کیمرے میں قید کرنے سے روکنے میں ملازمین کامیاب ہیں۔ وقف بورڈ کے ہر شعبہ حتیٰ کہ اہم شعبہ جات کے اندرونی حصہ میں بھی کیمرے نصب کئے گئے ہیں تاکہ فائلوں اور ملازمین پر نظر رکھی جاسکے۔ وقف بورڈ میں قضاۃ سیکشن وہ واحد شعبہ ہے جہاں روزانہ سینکڑوں افراد رجوع ہوتے ہیں اور ہر روز آنے والا نیا درخواست گزار ہوتا ہے ۔ اس شعبہ میں ملازمین اور بروکرس کی کس قدر ملی بھگت ہے کہ اس گٹھ جوڑ کو اعلیٰ عہدیدار بھی نہیں توڑ سکتے۔ اس شعبہ کے ایک ملازم نے یہاں تک ریمارک کیا کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر تو کیا سکریٹری اقلیتی بہبود بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کرپائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ طویل عرصہ سے اس شعبہ میں بروکرس کا راج ہے اور تقریباً درخواست گزاروں کو سرٹیفکٹس کے حصول کی جلدی ہوتی ہے ۔ لہذا وہ بآسانی بروکرس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کئی ایسے افراد جنہیں دفتری کاموں کی تکمیل کیلئے میریج ، طلاق یا خلع کے سرٹیفکٹ کی ضرورت پڑتی ہے

، وہ ایک دن میں سرٹیفکٹ حاصل کرنے کیلئے بھاری رقم چکانے تیار رہتے ہیں، ایسے افراد کا درمیانی افراد اور قضاۃ کے ملازمین استحصال کرتے ہیں۔ کئی افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ قضاۃ میں ایک منظم گروہ سرگرم ہیں جن کی منظوری کے بغیر سرٹیفکٹ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اطلاعات کے مطابق وہاں کے ملازمین تتکال میں سرٹیفکٹ کی اجرائی کے نام پر مقررہ فیس سے زائد رقم حاصل کرتے ہیں اور جنرل زمرہ میں اسی دن سرٹیفیکٹ جاری کئے جارہے ہیں۔ بعض معاملات میں درخواست گزار کو سرٹیفکٹ گھر پر پہنچایا جاتا ہے لیکن یہ رقم کی ادائیگی پر منحصر ہے۔ وقف بورڈ کی مقررہ فیس کے مطابق میریج ، طلاق ، خلع اور تبدیلیٔ مذہب کے سرٹیفکٹس عام زمرہ کے تحت 200 روپئے میں جبکہ تتکال میں 300 روپئے میں جاری کئے جائیں لیکن درمیانی افراد کم سے کم 500 تا 1000 روپئے بآسانی وصول کر رہے ہیں۔ درخواستوں کے ادخال کے مقررہ وقت سے قبل ہی کاؤنٹر بند کرتے ہوئے یہ سرگرمیاں انجام دینے کی شکایات ملی ہیں۔ کئی متاثرین نے اس سلسلہ میں وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں سے شکایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن بیورو کے ذریعہ قضاۃ سیکشن کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی جائیں۔ اس سیکشن میں جاری بعض سنگین بے قاعدگیوں کی شکایات ملی ہیں جن کی جانچ ابھی جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT