Monday , June 26 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے متنازعہ فیصلہ پر کے سی آر ناراض

وقف بورڈ کے متنازعہ فیصلہ پر کے سی آر ناراض

اجلاس کے بارے میں رپورٹ طلب ‘ سی ای او کے خلاف قراردادکالعدم کرنے کی سفارش

حیدرآباد ۔ 13۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے متنازعہ فیصلہ سے ناراض چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بورڈ کے پہلے اجلاس کی روداد پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے ۔ عہدیداروں نے آج شام چیف منسٹر کو جامع رپورٹ حوالہ کردی جس میں بورڈ کی جانب سے اختیارات کے بیجا استعمال کی وضاحت کی گئی۔ رپورٹ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے خلاف قرارداد کی منظوری کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ بورڈ کی جانب سے حکومت کے اختیارات کو عملاً چیلنج کرنے اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو متعلقہ محکمہ واپس کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری نے نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ بورڈ میں برسر اقتدار پارٹی کے ارکان کی اکثریت کے باوجود مقامی جماعت کی پیش کردہ قرارداد کی منظوری عمل میں آئی ہے۔ ایجنڈہ میں اس مسئلہ کو شامل کئے بغیر قرارداد منظور کرنا قواعد کے برخلاف ہے۔ چیف منسٹر نے برسر اقتدار پارٹی کے ارکان کے رویہ پر بھی ناراضگی جتائی اور اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر سے خواہش کی کہ وہ حکومت کے نامزد ارکان سے بات کریں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے نامزد ارکان کو طلب کرتے ہوئے حکومت کے موقف کے خلاف کام کرنے پر تنبیہہ کی اور آئندہ ایجنڈہ میں شامل امور پر ہی مباحث کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ مقامی جماعت کے ارکان نے صدرنشین وقف بورڈ کو اعتماد میں لیتے ہوئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے خلاف قرارداد منظور کی تھی ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سکریٹری بھوپال ریڈی نے محکمہ اقلیتی بہبود سے تمام تفصیلات حاصل کرتے ہوئے چیف منسٹر کو واقف کرایا ۔ بعد میں محکمہ سے علحدہ رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے وقف بورڈ اجلاس کی روداد اور کارروائی سے متعلق رپورٹ محمد اسد اللہ سے حاصل کی اور اس کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرتے ہوئے چیف منسٹر کو روانہ کردیا ہے۔ حکومت کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ بورڈ کی کسی بھی قرارداد یا فیصلہ کو کالعدم کردے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اس قدر ناراض تھے کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو حکومت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے وقف بورڈ کو ہی کالعدم کردے گی ۔ چیف منسٹر کو روانہ کردہ رپورٹ میں صدرنشین سمیت تمام ارکان کے رول کی تفصیلات شامل کی گئی ہے ۔ توقع کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر بہت جلد اس فائل پر دستخط کرتے ہوئے وقف بورڈ کی قرارداد کو کالعدم کردیں گے جس کے بعد محمد اسد اللہ کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر برقرار رہنے کی ہدایت دی جائے گی۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر اس بات پر ناراض ہیں کہ ایک ایماندار عہدیدار پر بیجا الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی توہین کی گئی ۔ وقف بورڈ کا یہ تنازعہ حکومت اور مقامی جماعت میں ٹکراؤ کی صورتحال اختیار کرسکتا ہے ۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ محمد اسد اللہ قانونی طور پر ابھی بھی چیف اگزیکیٹیو آفیسر برقرار ہے ۔ حکومت جب تک ان کے تبادلہ کے احکامات جاری نہیں کرتی، اس وقت تک وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اجلاس میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ بورڈ کی سفارش کو قبول کرنا یا مسترد کرنا اس کا اختیار حکومت کو حاصل ہے اور بورڈ اپنے کسی فیصلہ کو حکومت کی منظوری کے بغیر لاگو نہیں کرسکتا۔ بورڈ کے اس تنازعہ پر آج دن بھر حکومت اور برسر اقتدار پارٹی میں زبردست سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ مختلف عوامی نمائندوں اور پارٹی قائدین نے چیف منسٹر اور دیگر وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے وقف بورڈ پر حلیف جماعت کے تسلط کی کوششوں کی مذمت کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT