Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات بہتر بنانے عہدیداروں و ملازمین کی ذمہ داریوں میں تبدیلی

وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات بہتر بنانے عہدیداروں و ملازمین کی ذمہ داریوں میں تبدیلی

شریمتی اوما مہیشوری کو تمام اضلاع کے پروٹیکشن سیکشن لینڈ ایکویزیشن کی ذمہ داری

حیدرآباد۔/22جولائی، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی نے عہدیداروں اور ملازمین کی ذمہ داریوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ہے۔ اسسٹنٹ سکریٹری، ایکزیکیٹو آفیسر اور سپرنٹنڈنٹ سطح کے عہدیداروں کے علاوہ جونیر اسسٹنٹ ملازمین کے تبادلے بھی عمل میں لائے گئے۔ منان فاروقی گزّشتہ چار ماہ سے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے اور انہوں نے کارکرد عہدیداروں اور ملازمین کو ایسے شعبہ جات میں متعین کیا جہاں ان کی زیادہ ضرورت تھی۔ وقف بورڈ کے شعبہ جات میں عام طور پر سُست روی اور قابل افراد کی کمی سے بورڈ کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ کئی شعبہ جات کے سیکشن آفیسر اس قابل نہیں کہ وہ انگریزی میں فائیل لکھ سکیں، وہ اپنے جونیرس یا پھر دیگر سیکشن کے ماہر افراد سے مدد لے رہے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے صدرنشین وقف بورڈ کی منظوری سے ذمہ داریوں میں تبدیلی کی ہے۔ شریمتی اوما مہیشوری تحصیلدار و اسسٹنٹ سکریٹری کو تمام اضلاع کے پروٹیکشن سیکشن لینڈ ایکویزیشن کی ذمہ داری دی گئی۔ ایم اے غفار او ایس ڈی اور شمیم عارفی سپرنٹنڈنٹ کو زون II اور III میں حیدرآباد اور رنگاریڈی کے سوا دیگر اضلاع کے پروٹیکشن، تولیت، کمیٹی، رجسٹریشن، سرویس رینڈرنگ سرٹیفکیٹ اور مالی امداد اُمور کی ذمہ داری دی گئی۔ سلطان محی الدین لیگل کنسلٹنٹ اور ایم اے غوری ایکزیکیٹو آفیسر کو لیگل سیکشن سوائے حیدرآباد کی ذمہ داری دی گئی اور تمام مقدمات میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے کا کام سونپا گیا۔ ایم اے غوری ایکزیکیٹو آفیسر، وزیر احمد ایکزیکیٹو آفیسر کو لیگل سیکشن حیدرآباد کی ذمہ داری دی گئی۔ شریمتی شیخ ممتاز تحصیلدار و اکاؤنٹ آفیسر، مسعود احمد ایکزیکیٹو آفیسر، عقیل حسن سپرنٹنڈنٹ کو ڈائرکٹ مینجمنٹ اداروں کے کرائے، ڈیمانڈ کلکشن و بیالنس کا کام سونپا گیا۔ اس کے علاوہ شیخ ممتاز ، مسعود احمد اور غوث سپرنٹنڈنٹ کو موجودہ ذمہ داریوں کے علاوہ اکاؤنٹس، ہنڈیوں کی کشادگی اور رقم کا حساب کتاب کی ذمہ داری دی گئی۔ قاضی اکرام اللہ ناظر قضأت اور امیر احمد سپرنٹنڈنٹ کو قضأت سیکشن کی ذمہ داری دی گئی۔ منور علی ایکزیکیٹو آفیسر، ابو حسان بزاد حسین سپرنٹنڈنٹ کو اسٹابلشمنٹ سیکشن کا انچارج مقرر کیا گیا۔ منور علی اور سید محمد سپرنٹنڈنٹ کو زون I حیدرآباد و رنگاریڈی میں پروٹیکشن، تولیت، کمیٹی، رجسٹریشن، اسمبلی اور کونسل میں سوالات، مالی امداد اور دیگر اُمور کی ذمہ داری دی گئی۔ اعجاز الدین ایکزیکیٹو آفیسر، فاروق عارفی سپرنٹنڈنٹ کو بورڈ سیکشن اور سروے ریکارڈ کا انچارج مقرر کیا گیا۔ متین احمد پراجکٹ آفیسر کو پراجکٹ سیکشن، مینٹننس آف حج ہاوز، ہراج، خریداری اور اسٹور کی ذمہ داری دی گئی۔ منصور احمد سپرنٹنڈنٹ کو اسٹیٹ پبلک انفارمیشن آفیسر کے علاوہ لینڈ ایکویزیشن کا انچارج مقرر کیا گیا۔ منان فاروقی نے ان عہدیداروں کو اپنی ذمہ داریاں سنبھال لینے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ شریمتی اوما مہیشوری کو مختلف محکمہ جات سے مراسلت اور اسمبلی کے اہم اُمور کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔ سلطان محی الدین لیگل کنسلٹنٹ کو 52-A کے تحت غیر مجاز قابضین کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مجاز کیا گیا۔ ایم اے غفار او ایس ڈی کو ٹاسک فورس کا انچارج مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ 13 جونیر اسسٹنٹ و آفس سب آرڈینیننٹس کے بھی تبادلے کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسرس کے ان تبادلہ کے احکامات کے بعد ملازمین میں ناراضگی پائی جاتی ہے اور کئی افراد نے نئی ذمہ داریاں قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسے جونیر اسسٹنٹ جو مبینہ طور پر آمدنی والے سیکشن میں تھے وہ وہاں سے منتقلی کیلئے تیار نہیں ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT