Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے معطل ملازمین کیساتھ انصاف رسانی کا تیقن

وقف بورڈ کے معطل ملازمین کیساتھ انصاف رسانی کا تیقن

سکریٹری اقلیتی بہبود کے احکامات کا جائزہ لینے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا فیصلہ
حیدرآباد۔24 ڈسمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے وقف بورڈ کے ان ملازمین کو انصاف فراہم کرنے کا تیقن دیا جنہیں معطل کرنے کے لئے سکریٹری اقلیتی بہبود نے احکامات جاری کئے۔ وقف بورڈ کے 5 ملازمین اور دو سابق عہدیدار اوقافی اداروں کے مکانات میں مقیم ہیں اور اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کو شکایت ملنے کے بعد سکریٹری نے ان مکانات اور اراضیات کو واپس لینے اور ملازمین کو معطل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ کی جانب سے کسی کارروائی سے قبل ڈپٹی چیف منسٹر نے اس معاملہ میں مداخلت کی اور متعلقہ فائلوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے سکریٹری اقلیتی بہبود اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو تمام تفصیلات کے ساتھ رجوع ہونے کی ہدایت دی اور فریقین کی سماعت کے بعد حکومت قطعی فیصلہ کرے گی۔ وقف بورڈ کے دو ریٹائرڈ عہدیداروں نے اپنے مکانات کی تعمیر کے لئے 10 لاکھ روپئے بطور قرض حاصل کیا تھا، جس کی ریکوری کے احکامات بھی جاری کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دو سابق عہدیدار گزشتہ دو دہوں سے زائد عرصے سے اوقافی مکانات میں مقیم ہیں اور بورڈ کی جانب سے طے شدہ کرایہ ادا کررہے ہیں۔ انتہائی مخدوش مکانات کو تعمیر کرنے کے لئے انہوں نے بورڈ سے قرض حاصل کیا تھا۔ دوسری طرف 5 ملازمین جنہیں سابق میں شیخ پیٹ، ٹولی چوکی کی اوقافی اراضی الاٹ کی گئی تھی، وہاں وہ مکانات تعمیر کرتے ہوئے مقیم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری نے اس بات کا نوٹ لیا کہ یہ ملازمین معمولی کرایہ ادا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر بورڈ سے ایچ آر اے بھی حاصل کیا جارہا ہے۔ سکریٹری نے مذکورہ ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی جس کے بعد ان ملازمین نے اپنے مسائل کو ڈپٹی چیف منسٹر سے رجوع کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کو مکانات میں برقرار رکھتے ہوئے نیا کرایہ نامہ طے کیا جائے گا تاکہ ان کے کرایہ میں مارکٹ ریٹ کے مطابق اضافہ ہو۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر مجاز قبضوں کو برخاست کرتے ہوئے اس اراضی کا تحفظ کیا اور وقف بورڈ نے باقاعدہ کارروائی کے ذریعہ انہیں یہ اراضی الاٹ کی ہیں۔ سابق میں جس وقت یوسف علی وقف بورڈ کے صدرنشین تھے، 1997 اور 1999ء میں دو علیحدہ احکامات کے ذریعہ اوقافی اراضی ملازمین کو الاٹ کی گئی تھی۔ ملازمین ابھی بھی اراضی اور مکانات کو اوقافی تسلیم کررہے ہیں تاہم انہیں اندیشہ ہے کہ مکانات سے بے دخل کرنے کی صورت میں وہ مسائل کا شکار ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT