Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف بورڈ کے ملازمین کی قابلیت ،تقرر اور تنخواہوں کی جانچ

وقف بورڈ کے ملازمین کی قابلیت ،تقرر اور تنخواہوں کی جانچ

تحریری ٹسٹ سے قابلیت کی جانچ،قابلیت اور تجربہ کی بنیاد پر کام سونپنے کی تجویز
حیدرآباد۔ 4 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تمام عہدیداروں اور ملازمین کی قابلیت، تقرر اور تنخواہ سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ قابلیت اور تجربہ کے اعتبار سے کام الاٹ کیا جاسکے۔ بورڈ میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے پہلے قدم کے طور پر ملازمین میں ڈسپلین اور ورک کلچر متعارف کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ملازمین اور عہدیداروں کے لیے باقاعدہ ٹسٹ منعقد کیا جائے گا جس میں ان کی قابلیت از خود منظر عام پر آجائے گی۔ فائیلوں کی یکسوئی کے علاوہ مختلف انداز کے مکتوب تحریر کرنے سے متعلق ٹسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس کام میں انہیں مختلف گوشوں سے مخالفت کا سامنا ہے تاہم منان فاروقی نے سختی کے ساتھ تمام سیکشنوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ جلد از جلد تفصیلات داخل کردیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض عہدیدار اور ملازمین تفصیلات کے حصول کے فیصلے کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔ تاہم چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا استدلال ہے کہ جب وہ ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں تو انہیں پتہ ہونا چاہے کہ ان کے ماتحت عہدیداروں اور ملازمین کی قابلیت کیا ہے اور ا نہیں کس طرح کا کام الاٹ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اٹینڈر سے لے کر عہدیدار تک کے تمام مستقل اور عارضی ملازمین کی قابلیت، تقرر کی تاریخ، تقرر کا طریقہ کار اور تنخواہ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے جس سے وقف بورڈ کے ہر سیکشن میں ہنگامہ برپا ہے۔ ملازمین تفصیلات پیش کرنے میں پس و پیش کا مظاہرہ کررہے ہیں اور کسی طرح سیاسی دبائو کے ذریعہ اس کام کو روکنا چاہتے ہیں۔ تاہم چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو بورڈ کے انتظامی امور کے سلسلہ میں فیصلے کا کامل اختیار حاصل ہے اور بورڈ بھی ان کے کام میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ملازمین ایسے ہیں جو قابلیت کے اعتبار سے کم ہیں لیکن وہ ہزاروں روپئے کی تنخواہ حاصل کررہے ہیں۔ بعض ملازمین فائیل میں انگریزی کی ایک سطر بھی لکھ نہیں سکتے لیکن ان کی تنخواہ 75 ہزار روپئے سے زائد ہے۔ اس طرح کے نااہل اور غیر تعلیم یافتہ ملازمین کے سبب وقف بورڈ کو زبردست نقصان ہورہا ہے۔ ایک طرف اوقافی جائیدادیں تباہی کا شکار ہیں تو دوسری طرف وقف بورڈ کی فائیلیں ناہل ملازمین کی غلطیوں کے باعث اہمیت کھوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف ریکارڈ کو مینٹین کرنے کے سلسلہ میں بھی ملازمین کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اگر تقررات کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر تقررات سفارشی بنیاد پر کیئے گئے اور گزشتہ بورڈ میں تقریباً 40 سے زائد عارضی ملازمین کا تقرر کیا گیا جن کی تنخواہیں تقریباً 60 ہزار روپئے ماہانہ ہیں۔ یہ ملازمین بورڈ میں کسی نہ کسی کے رشتہ دار یا قریبی جان پہچان کے ہیں۔ بعض تقررات تو بورڈ کی منظوری کے بغیر ہی کئے گئے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو ایک ملازم کے تقرر کی تفصیلات حاصل ہوئیں جس میں صرف چند دن میں اس وقت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے احکامات کی بنیاد پر مستقل تقرر عمل میں لایا گیا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اس فیصلے کی راہ میں اگرچہ کئی رکاوٹیں پیدا کی جاسکتی ہیں لیکن بورڈ میں مسائل کی یکسوئی کے لیے پہنچنے والے افراد اور عام مسلمان ضرور اس اقدام کی تائید کریں گے۔ منان فاروقی کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ سے جو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، وہ اوقافی جائیدادوں کی آمدنی کا حصہ ہے جنہیں اللہ کی امانت کہا جاتا ہے۔ اس میں کسی بھی قیانت کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ قابلیت اور اہلیت کے بغیر زائد تنخواہوں کی ادائیگی از خود خیانت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین اور عہدیداروں کی صلاحیت کیا ہے۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اصلاحات کے اس عمل کی مکمل تائید کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT