Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / وقف جائیدادوں کے قابضین کو سخت سزاء

وقف جائیدادوں کے قابضین کو سخت سزاء

تین سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپئے جرمانہ عائد کرنے پارلیمانی پینل کی سفارش

نئی دہلی ۔ 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وقف جائیدادوں پر غیرقانونی قبضہ یا اسے فروغ دینے کی صورت میں 3 سال جیل اور ایک لاکھ روپئے تک جرمانہ عائد ہوسکتا ہے۔ پارلیمانی پیانل نے یہ سفارشات پیش کی ہے اور حکومت انہیں منظور کرلے تو پھر اوقافی جائیدادوں پر غیرمجاز قبضہ مشکل ہوجائے گا۔ وقف پراپرٹیز (غیرمجاز قبضوں کی برخاستگی) بل، 2014ء پر پینل نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ سفارش بھی کی ہیکہ بل میں مختلف الفاظ جیسے ادارہ جات، عوامی یا خانگی کو شامل کیا جائے کیونکہ ملک میں بے شمار اوقافی جائیدادوں پر کئی عوامی اور خانگی تنظیموں کے بھی غیرمجاز قبضہ ہیں۔ سماجی انصاف اور اختیارات پر پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کی رپورٹ جس میں فروری 2014ء میں متعارف کردہ بل کا جائزہ لیا گیا ہے، اسے آج پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ اس بل میں وقف اراضیات پر غیرقانونی قبضوں کی برخاستگی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ ان جائیدادوں سے صحیح استفادہ کرتے ہوئے آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کی خواہش کی گئی اور اس طرح ہونے والی آمدنی سے غریبوں کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ریاستی وقف بورڈس کو غیرمجاز قبضے برخاست کرنے کیلئے بااختیار بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے اس بل میں زیادہ سے زیادہ سخت قوانین کو یقینی بنانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ جب تک بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا اور وقف بورڈس کی سرگرمیوں میں شفافیت نہیں لائی جاتی تب تک غیرمجاز قبضوں کو برخاست نہیں کیا جاسکتا۔ بل میں غیرمجاز قبضے کی صورت میں 6 ماہ کی قید سادہ اور 5 ہزار روپئے جرمانہ کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن کمیٹی نے اس سزاء کو مزید سخت بنانے پر زور دیا۔ اگر کوئی شخص وقف جائیداد پر غیرقانونی قبضہ کرے اور کوئی دوسرا شخص جو ایسے قبضہ کی حوصلہ افزائی یا اس کام میں مدد کرے انہیں قید بامشقت کی سزاء دی جانی چاہئے اور سزائے قید کی میعاد تین سال تک ہو۔ اسی طرح جرمانہ کی حد کو بھی بڑھا کر ایک لاکھ روپئے کیا جائے یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جائے۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہیکہ وقف بورڈس اور سنٹرل وقف کونسل کے امور کی مؤثر طور پر انجام دہی کو یقینی بنانے کیلئے آل انڈیا یا اسٹیٹ سیول سرویسیس کے عہدیداروں کا بحیثیت وقف اسٹیٹ آفیسر تقرر کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT