Wednesday , September 20 2017
Home / سیاسیات / وقف کی اراضی کے حصول پر اعتراض، مرکز سے جواب طلبی

وقف کی اراضی کے حصول پر اعتراض، مرکز سے جواب طلبی

ایڈوکیٹ شاہد علی کی درخواست مفاد عامہ پر سپریم کورٹ کی بنچ کے مرکزی حکومت ، عام آدمی پارٹی حکومت دہلی اور دیگر کو نوٹسیں
نئی دہلی۔28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائی کورٹ نے آج ایک درخواست مفاد عامہ پر جس نے 300 وقف جائیدادوں کی دہلی میں مرکزی حکومت کی جانب سے اراضی حاصل کرنے کو چیلنج کیا ہے، آج مرکزی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ کارگزار چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر پر مشتمل ایک بنچ نے لفٹننٹ گورنر، عام آدمی پارٹی حکومت اور دہلی وقف بورڈ سے اس درخواست مفاد عامہ کی بنیاد پر جو وقف جائیدادوں کے موقف کے احیاء کے سلسلہ میں داخل کی گئی ہے مرکز ی حکومت سے جواب طلب کرلیا جس نے مبینہ طور پر معاوضہ ادا کئے بغیر ان کی اراضی حاصل کرنے کے احکام جاری کئے ہیں۔ بنچ نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ موقف کی رپورٹ آئندہ تاریخ سماعت 11 ڈسمبر سے قبل عدالت میں داخل کریں۔ درخواست گزار ایڈوکیٹ شاہد علی نے کہا کہ ان کا ارادہ مرکز کے متعلقہ عہدیداروں کو بدنام کرنا نہیں ہے۔ اس کے برعکس فطری انصاف کے اصولوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا انسداد کرنا ہے۔ درخواست مفاد عامہ میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی اراضی حکومت کی جانب سے حاصل کی جاتی ہے تو مالک کو مقررہ معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ اس مقدمہ میں وقف کی اراضی اللہ کی اراضی ہے اور خدا کو کوئی بھی معاوضہ ادا نہیں کیا جاسکتا چنانچہ اراضی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ وقف اراضی حکومت کی جانب سے کسی شخص یا ادارے کو دی جاتی ہے یا حاصل کی جاتی ہے۔ بشرطیکہ یہ وقف قانون 1995ء کی دفعہ 51 کے تحت کارکرد نہ ہو۔ کوئی بھی غیر منقولہ جائیداد جو وقف کی ملکیت ہو اس وقت تک کارکرد برقرار رہتی ہے۔ جب تک کہ اس کی موثر لیز بورڈ کی پیشگی منظوری کے ذریعہ دی گئی ہو۔ وقف کو منسوخ یا برخاست کرنے کی ہدایت یا حکم نامہ اسی وقت دیا جاسکتا ہے، جبکہ ایک رٹ درخواست یا کوئی دوسری یا مزید رٹ درخواست پیش نہ کی جائے جس کی وجہ سے 48 وقف جائیدادیں شمالی ضلع میں 166 وقف جائیدادیں جنوبی ضلع میں 32 وقف جائیدادیں مغربی ضلع میں اور 24 وقف جائیدادیں نئی دہلی ضلع میں موجود ہیں۔ مشرقی ضلع میں 11 وقف جائیدادیں ہیں۔ ضلع جنوب مشرق میں 40 وقف جائیدادیں ہیں جبکہ ضلع شمال مغرب میں 5 ، ضلع شاہدرا میں ایسی 8 وقف جائیدادیں اور ضلع جنوب مغرب میں 28 وقف جائیدادیں ہیں جنہیں حکومت نے حاصل کرلیا ہے۔ علاوہ ازیں قبضے کی بحالی جو ایسی وقف جائیدادوں کا ہو، دہلی وقف بورڈ کے حق میں ہے۔ جن میں سے ایسے قبضے حکومت کی جانب سے حاصل کیئے جاچکے ہیں۔ قبل ازیں ہائی کورٹ نے 8 اگست کو عام آدمی پارٹی حکومت دہلی اور دیگر محکموں کو ہدایت دی تھی کہ زیر التوا تخلیہ کی کوششوں کے احکام ان ناجائز قبضہ گیروں پر عائد نہیں کیئے جاسکتے جو قومی دارالحکومت نے 990 وقف جائیدادوں پر قابض ہیں۔

TOPPOPULARRECENT