Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ووٹ کٹوا اب انگلی کٹوا کر شہیدوں میں …

ووٹ کٹوا اب انگلی کٹوا کر شہیدوں میں …

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں دلچسپی ہو تو ٹولی مسجد کیوں نظر نہیں آتی
حیدرآباد۔/24مارچ، ( سیاست نیوز) انگلی کٹواکر شہیدوں میں شامل ہونا اگرچہ ایک محاورہ ہے لیکن ریاستی اسمبلی میں آج اس کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ دارالسلام روڈ پر واقع قبرستان ’ آخرت منزل ‘ کی اراضی کی فروخت اور اس کی رجسٹری کے مسئلہ پر مقامی جماعت کے رکن نے ایوان میں حکومت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جو بھی کام ہوگا وہ محض ان کی نمائندگی پر ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ’ آخرت منزل‘ جناب عابد علی خاں مرحوم کا آبائی قبرستان ہے اور حالیہ عرصہ میں بعض شرپسند عناصر نے قبرستان کی اراضی کو نہ صرف فروخت کردیا بلکہ اس کی رجسٹری کردی گئی۔ یہ اراضی ایک سیاسی قائد کو فروخت کی گئی اور جس شخص نے فروخت کیا اس کا تعلق بھی مقامی سیاسی جماعت سے بتایا جاتا ہے۔ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں نے اراضی کے تحفظ کیلئے مساعی کی اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی جو وزیر مال بھی ہیں‘ رجسٹری کو منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کی ہے۔ رجسٹری کی منسوخی کا عمل آخری مراحل میں ہے ایسے وقت میں اسمبلی میں صرف ضابطہ کی تکمیل کیلئے مسئلہ کو اٹھانا دراصل اپنی حصہ داری کو جتانا ہے۔ جس طرح ہر معاملہ میں مقامی جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی نمائندگی پر انجام پائے ہیں اسی طرح آخرت منزل کی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں بھی انگلی کٹواکر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کی گئی۔ یا یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہر اچھا کام جماعت کرتی ہے اور ہر برا کام ان کے مخالفین کرتے ہیں ۔ مقامی جماعت کو اگر اوقافی اراضیات کے تحفظ سے اتنی دلچسپی ہے تو ان کی سرپرستی میں ٹولی مسجد کی اوقافی اراضی پر تعمیر کئے گئے شادی خانوں کو وقف بورڈ کے حوالے کرنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اوقافی اراضیات اور جائیدادوں کے معاملات میں شہر اور اضلاع میں مقامی جماعت کے قائدین راست طور پر ملوث پائے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT