Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / وچندرا بابو کا یوم تاسیس تلنگانہ کو یوم سیاہ قرار دینا افسوسناک

وچندرا بابو کا یوم تاسیس تلنگانہ کو یوم سیاہ قرار دینا افسوسناک

چیف منسٹر اے پی پر تلنگانہ کی مخالفت برقرار، ٹی آر ایس ایم پی سمن کا بیان

حیدرآباد۔/3جون، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے تین سال گذرنے کے باوجود تلنگانہ کی مخالفت ترک نہیں کی ہے اور یوم تاسیس تلنگانہ کو یوم سیاہ قراردینا افسوسناک ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی سمن نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے ذہن اور دماغ پر تلنگانہ کی مخالفت چھائی ہوئی ہے اور موقع ملتے ہی وہ اس کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ یوم تاسیس کے موقع پر تلنگانہ میں گاؤں سے لیکر دارالحکومت تک عوام جشن منارہے تھے چندرا بابو نائیڈو نے دوبارہ اپنی ذہنیت کو آشکار کیا ہے۔ یوم تاسیس کو عوام نے عید کے طور پر منایا جسے دیکھ کر چندرا بابو نائیڈو برداشت نہ کرسکے۔ تلنگانہ کی مخالفت اور اس کے خلاف سازشیں چندرا بابو نائیڈو کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سمن نے کہا کہ ریاست کو تقسیم ہوئے تین سال گذر گئے اور ایسے وقت جبکہ دونوں ریاستوں کو ترقی کیلئے کام کرنا چاہیئے چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ کی مخالفت پر مصر ہیں۔ انہوں نے 2 جون کو اٹلی کی یوم آزادی کی تاریخ قرار دیا جو مضحکہ خیز ہے۔ سمن نے بتایا کہ اٹلی کو 17مارچ 1861 کو آزادی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور کارپوریٹ ادارے جن کے صلاح و مشورہ سے کام کرتے ہیں اس کے دعویدار چندرا بابو نائیڈو نے غلط تاریخ بیان کرتے ہوئے خود کو مذاق کا موضوع بنالیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے موقف پر آندھرا پردیش کے عوام بھی خود ناراض ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کے سی آر کی قیادت میں تلنگانہ میں ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کے نئے دورکا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے وقت چندرا بابو نائیڈو نے ضلع کھمم کے 7 منڈلوں کو آندھرا پردیش میں ضم کرنے کیلئے مرکزی حکومت پر دباؤ بنایا تھا اور اس فیصلہ تک حلف نہ اٹھانے کی دھمکی دی تھی۔ اس طرح تلنگانہ کے سات منڈلوں کو آندھرا پردیش میں شامل کرتے ہوئے نائیڈو اس علاقہ کے عوام کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف چندرا بابو نائیڈو حیدرآباد میں قیام کا ارادہ ظاہر کررہے ہیں تو دوسری طرف امراوتی میں تلنگانہ کی مخالفت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ابتداء ہی سے کہہ رہے ہیں کہ علاقے بھلے ہی تقسیم ہوجائیں لیکن عوام کو آپس میں بھائی بھائی بن کر ترقی کیلئے کام کرنا چاہیئے لیکن چندرا بابو نائیڈو نچلی سطح کی سیاست پر اُتر آئے ہیں۔ تلنگانہ ترقی اور بھلائی میں دیگر ریاستوں سے آگے ہے لیکن چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں۔ سمن نے تلنگانہ تلگودیشم قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ چندرا بابو نائیڈو کی مخالف تلنگانہ پالیسیوں کے باعث پارٹی سے مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے میاں پور میں اراضی اسکام پر اپوزیشن کے بیانات کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ اسکام اپوزیشن یا کسی میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر نہیں آیا بلکہ حکومت نے خود اسے بے نقاب کیا۔ سمن نے کہا کہ جو بھی اسکام میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ غیر ضروری ہے کیونکہ سی بی سی آئی ڈی بہتر طور پر تحقیقات کی اہلیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT