Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / وکاس کے چکر میں وشواس گیا

وکاس کے چکر میں وشواس گیا

کاش نوٹ بندی نہ ہوتی… شراب بندی ہوتی

محمد نعیم وجاہت
نوٹ بندی کا فیصلہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوا۔ 50  دن کی تکمیل کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم جوش و خروش سے عاری نظر آئے۔ کرنسی بحران کا شکار عوام نئے سال میں راحت کا تحفہ ملنے کا انتظار کررہے تھے۔ مگر نریندر مودی نے ’’مقروض ہوجاؤ راحت پاؤ‘‘ کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے 130 کروڑ عوام کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔ بینکوں سے قرض حاصل کرنے پر رعایتیں فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے منی بجٹ تقریر کی جس میں خود وزیراعظم کی مایوسی جھلک رہی تھی۔ نوٹ بندی کے 50 دن کی تکمیل پر منسوخ شدہ 97 فیصد کرنسی بینکوں اور پوسٹ آفسوں میں ڈپازٹ ہوچکی ہے۔ مگر کالا دھن کتنا برآمد ہوا ، مودی نے کوئی انکشاف نہیں کیا۔ کتنی جعلی کرنسی برآمد ہوں  اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ بجائے کرپشن پر قابو ہونے کے اُلٹا اضافہ ہوگیا۔ ملک کے کئی شہروں میں نئے 2000 روپئے کی نوٹ سے 30 فیصد کمیشن پر منسوخ شدہ نوٹ تبدیل کرنے کے کئی واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ کئی ریاستوں کے سرکاری دفاتر پر عہدیدار رشوت کے طور پر 2 ہزار روپئے کی نوٹ قبول کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ دہشت گردی پر بھی کسی قسم کا کنٹرول نہیں ہوا۔ کشمیر میں دہشت گردوں کی بدستور مداخلت جاری ہے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ عوام کو بینکوں کی قطاروں میں گھنٹوں انتظار کے بعد نئی کرنسی نہیں ملی مگر دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے نئی نوٹ دستیاب ہوئی۔ ایسے میں نوٹ بندی کا فیصلہ کہاں تک درست قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس فیصلے سے ہندوستان کے سرکاری خزانے کو فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوا۔ ہندوستان اور بیرونی ممالک کے کئی ماہرین معاشیات نے نوٹ بندی کو گھاٹے کا فیصلہ قرار دیا۔ اس فیصلہ نے ملک کی معیشت کو شدید دھکا پہنچایا ہے۔ 70 فیصد کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ 100 سے زائد لوگ فوت ہوچکے ہیں۔ 58 دن مکمل ہونے کے باوجود عوام کو کوئی راحت نہیں ملی۔ آج بھی کئی اے ٹی ایم کے سامنے نو کیاش کے بورڈ آویزاں ہیں۔ بینکوں میں 10 ہزار سے زائد رقم دستیاب نہیں ہورہی ہے۔ پھر بھی مودی خاموش اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے سزا دینے کی عوام سے خواہش کرنے کے بجائے نوٹ بندی کے فیصلے پر فخر کا اظہار کررہے ہیں اور اس کو بے ایمانی پر ایمانداری کی کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ہندوستان کے روشن مستقبل کے لئے شہریوں کی قربانیوں سے تعبیر کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جانے انجانے میں سماجی بُرائیاں ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ڈیجیٹل لین دین کے لئے عوام کی مجبوری کو قبولیت کا نام دیتے ہوئے اپنی پیٹھ خود تھپتھپارہے ہیں۔
حاملہ خواتین کی زچگی پر 6 ہزار روپئے بینک میں ڈپازٹ کرنے کا جو اعلان کیا ہے وہ کوئی نئی اسکیم نہیں ہے بلکہ یو پی اے کی قدیم اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے تحت پہلے 4 ہزار روپئے دیئے جاتے تھے۔ مگر فوڈ سکیوریٹی قانون نافذ ہونے کے بعد 6 ہزار روپئے مل رہے ہیں مگر سارے ملک میں ٹاملناڈو ایسی واحد ریاست ہے جہاں اس اسکیم کے تحت 12 ہزار روپئے دیئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت بھی اس کی تقلید کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ سینئر سٹیزن کے لئے بھی ایک اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے مگر ہماری نظر میں یہ راحت نہیں بلکہ زحمت ہے۔ ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو اپنی محنت کی کمائی کا جو حصہ ملتا ہے وزیراعظم اس سے بھی انھیں محروم کرنا چاہتے ہیں۔ 10 سال تک بینکوں میں جمع کرنے پر 8 فیصد شرح سود دینے کا لالچ دیتے ہوئے ان کے ارمانوں کا خون کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نوٹ بندی سے سارے ملک میں دو کروڑ افراد روزگار سے محروم ہوئے۔ انھیں کوئی راحت فراہم نہیں کی گئی۔ کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کے بجائے دو ماہ کے سود معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے احسان جتانے کی کوشش کی گئی۔ اپنے آپ کو بہت بڑے اصلاحات کار ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے نریندر مودی کو سماجی بُرائیاں، ایمانداری اور دیانتداری، عوامی مسائل سے ہمدردی کی بات کرنا زیب نہیں دیتا کیوں کہ ہندوستان کئی ایک سماجی بُرائیوں کا شکار ہوچکا ہے۔ سچ کہا جائے تو ملک کئی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ اپوزیشن اور ملک کی فکر کرنے والے عام آدمی کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان کا سب سے بڑا بحران نریندر مودی کا وزیراعظم بن جانا ہے۔ ملک میں عوام کو جن مسائل و مشکلات کا سامنا ہے وہ مودی کے ڈھائی سالہ دور اقتدار کی دین ہے۔ سب سے پہلے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو جہاں نقصان پہنچا وہیں انصاف پسند اور محب وطن ہندوستانیوں پر منظم سازش کے تحت حملے کئے۔ ہماری گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچایا گیا یہاں تک کہ جانوروں کے نام پر انسانوں کا قتل کیا گیا۔ کبھی لو جہاد تو کبھی گھر واپسی کی تحریک چلاتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ 8 نومبر 2016 ء کو جو بے چینی پیدا کی گئی اس کی ہندوستان میں نظیر نہیں ملتی۔ہم ماضی میں گھوڑے دوڑاتے ہوئے وزیراعظم پر تنقید کرنا یا پھر ان کی تضحیک کرنا نہیں چاہتے بلکہ ایک ذمہ دار صحافی کی حیثیت سے ماضی حال اور مستقبل کا احاطہ کرتے ہوئے انھیں آئینہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ویسے بھی آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ کسی وزیراعظم کی طرح وعدہ خلافی نہیں کرتا آئینہ حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ آئینے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی ایک مذہب، ذات پات، رنگ و نسل یا علاقہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اُس میں ہر کوئی اپنا جلوہ یا حلیہ دیکھ سکتا ہے۔ اپنی اچھائیوں، خامیوں اور خوبیوں اور خامیوں کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ آج ہماری حکومت پوری دیانتداری کے ساتھ آئینہ دیکھ لے تو ہمیں یقین ہے وہ خود اپنے آپ کو پہچاننے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ہم بات کررہے ہیں نوٹ بندی کی جس سے ملک کا ہر فرد پریشان ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مودی اور ان کی ٹیم کامیابی کا نہ صرف دعویٰ کررہی ہے بلکہ اس اقدام کو ہندوستان کے مفاد میں قرار دے رہی ہے۔ اگر نریندر مودی کو ملک اور ملک کے عوام کی اتنی ہی فکر ہوتی تو وہ نوٹ بندی کے بجائے سب سے پہلے سارے ملک میں شراب کی تیاری فروخت اور شراب پینے پر پابندی عائد کرتے کیوں کہ شراب نوشی کے نتیجہ میں آج ہندوستان کے عوام کم از کم 200 جسمانی اور بے شمار سماجی برائیوں کا شکار ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کو کالا دھن پر تشویش ہے لیکن اُن 33 لاکھ ہندوستانیوں کی فکر نہیں ہے جو ہر سال شراب نوشی کے باعث اپنی زندگیوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ وزیراعظم کو نقلی کرنسی کی فکر ہے مگر انھیں اندازہ نہیں ہے کہ ہر سال مختلف اقسام کے کینسر، امراض قلب اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوکر لاکھوں ہندوستانی دم توڑ دیتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کو بار بار سرحد پار دہشت گردوں کو دھمکیاں دینے سے فرصت نہیں ملتی لیکن وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو فراموش کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ سابق فوجیوں کے ون رینک ون پنشن کے وعدے کو آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن کی تنقیدوں پر مگرمچھ کے آنسو تو بہاتے ہیں مگر فوجیوں کے شہید ہونے پر ان کے آنکھ سے آنسو رواں نہیں ہوتے۔ مودی جی اتحاد اور حب الوطنی اور قوم پرستی کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن یوپی، گجرات، مدھیہ پردیش اور ہریانہ میں فرقہ پرستوں کے ہاتھوں دلتوں اور مسلمانوں کے قتل پر زبان سے ہمدردی کے دو بول بھی نہیں نکالتے۔ نوٹ بندی پر بار بار فخر کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کو یہ جان لینا چاہئے کہ آج ملک کو بلیک منی سے کہیں زیادہ خطرہ فرقہ پرستی سے ہے۔ پچھلے 5 ماہ کے دوران ہر ماہ اوسطاً 58 فرقہ وارانہ فسادات پیش آئے جن میں 85 فیصد فسادات ملک کی اُن پانچ ریاستوں میں ہوئے جن کے ناموں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ وزارت داخلہ کے مطابق 2011ء تا اکٹوبر 2015 ء ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے پتہ چلا ہے۔ وزیراعظم نوٹ بندی کے بجائے شراب بندی کرتے تو شاید کئی سماجی برائیوں کا خاتمہ ممکن تھا۔ ملک کی تقریباً سبھی ریاستوں میں حکومت کی سرپرستی میں شراب کا کاروبار زور و شور سے جاری ہے۔ ہمیشہ ترقی کا نعرہ لگانے والے نریندر مودی کو یہ جان لینا چاہئے کہ حکومت چاہے وہ مرکز کی ہو یا ریاستوں کی عوام کو شراب کی شکل میں زہر پلا رہی ہے۔ ایک طرح سے حکومت نے شراب پر امرت کا لیبل چسپاں کردیا ہے۔ یہ سب کچھ سرکاری آمدنی کے لئے انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو ملک کی تقریباً ریاستوں کا بجٹ 1/5 حصہ شراب سے ہونے والی آمدنی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ملک کی ریاستیں سالانہ شراب کی فروخت سے اوسطاً 15 تا 20 ہزار کروڑ کی آمدنی حاصل کرتی ہیں جبکہ ملک کی بیشتر ریاستیں 120 لاکھ کروڑ سے 2.38 لاکھ کروڑ تک قرض میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ملک میں خواتین کا بُرا حال ہے۔ نوٹ بندی کے ذریعہ معاشرے میں اُتھل پتھل پیدا کرنے کے بجائے نریندر مودی ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کو یقینی بناتے شاید اُنھیں یہ نہیں معلوم کہ ہندوستان میں ہر سال عصمت ریزی کے ایک لاکھ سے زیادہ واقعات پیش آتے ہیں لیکن 30 تا 40 واقعات ہی منظر عام پر آتے ہیں۔ وکاس کی چکر میں مودی نے عوام میں اپنا وشواس کھودیا ہے۔ نوٹ بندی کے بجائے ملک میں سڑکوں کا جال بچھاتے تو ہر سال دیڑھ لاکھ افراد سڑک حادثات سے ہلاک ہونے سے محفوظ رہ جاتے۔ نوٹ بندی کے بجائے منشیات کو کنٹرول کرنے پر توجہ دیتے تو ہر دن 10 مرد و خواتین کو خودکشی سے روک پاتے۔ اگر مودی ملک کو ترقی دینے کی سنجیدہ کوشش کرتے تو آج انھیں ملک کے تمام شہریوں کی تائید حاصل ہوتی۔ کسی خاتون، سرکاری ملازم، سینئر سٹیزن یا کسی گداگر کی گالیوں کا نشانہ نہیں بننا پڑتا۔ اور نہ ہی وہ ملک میں مذاق کا موضوع بنتے۔ حیلے بہانے یا مذہبی جذبات کے استحصال سے طویل عرصہ تک اقتدار کے مزے نہیں لوٹے جاسکتے بلکہ وعدوں کو عملی جامہ پہنانے والے لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں اور ملک کو بھی کامیابی سے ہمکنار کراتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT