Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / وکالۃً نکاح کا حکمِ شرعی

وکالۃً نکاح کا حکمِ شرعی

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بغرص تعلیم و ملازمت بیرونِ ہندوستان مقیم ہے۔ اس کی شادی بکر کی لڑکی سے طئے پائی ہے ۔ عاقدین ہندوستانی شہری ہیں اور ہندوستانی پاسپورٹ رکھتے ہیں، مگر دونوں مختلف شہر والے ہیں۔ بعض ناگزیر وجوہات کی بناء زید ہندوستان آکر شادی کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے اس نے ہندوستان میں مقیم اپنے ایک عزیز کو وکالت نامہ نکاح دیکر نکاح کا خواہشمند ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی محفل نکاح کیلئے لڑکے کے وکیل کے علاوہ بغرض ایجاب و قبول عاقد سے ٹیلیفون پر ربط پیدا کرنا ضروری ہے اور کیا وکیل بناتے وقت گواہ ضروری نہیں ؟ براہ کرم یہ بھی بتلایا جائے کہ کیا اس طرح نکاح منعقد ہوجانے کے بعد ، دلہا و دلہن کے متعلقین کی خواہش پر دوسرے شہر میں اور ایک مرتبہ مذکورہ عاقد و عاقدہ کی وداعی سے قبل نئے قاضی سے دو گواہوں کے روبرو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ؟

جواب : شرعًا مرد کا اصالۃً یعنی بذات خود موجود رہ کر جس طرح نکاح کرنا جائز ہے اسی طرح وکالۃً یعنی عاقد کی اپنی عدم موجودگی میں کسی کو وکیل بناکر نکاح کرنا بھی جائز ہے۔ صورت مسئولہ میں زید عاقد نے کسی متعین لڑکی سے نکاح کا اپنے عزیز کو وکیل بنایا ہے تو وہ مہر کی رقم بھی متعین کردے ۔ اس طرح وکالۃً نکاح جائز ہے ۔ واذا وکل رجلا ان یزوج لہ امرأۃ بعینھا ببدل سماہ فتزوجھا الوکیل لنفسہ بذلک البدل جاز النکاح للوکیل۔ نکاح کے لئے وکیل بناتے ہوئے گواہوں کی ضرورت نہیں تاہم بنالینا بہتر ہے تاکہ اختلاف کی صورت میںثبوت رہے۔ البتہ مذکورہ متعینہ لڑکی سے مخاطبت کے وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ تاتار خانیہ جلد ۳ صفحہ ۶۹ میں ہے: و یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود وانما یکون الشھود شرطا فی حال مخاطبۃ الوکیل المرأۃ ۔
وکالۃً جس محفل میں نکاح ہوگا وکیل اور عاقدہ اور گواہوں کی موجودگی میں عاقدہ کا اور وکیل کا اپنے مؤکل کی طرف سے ایجاب و قبول کافی ہے ۔ ٹیلیفون پر بغرض ایجاب و قبول عاقد سے ربط پیدا کرنا ضروری نہیں ۔ مذکورہ طریقہ وکالت پر نکاح کے انعقاد کے بعد دوبارہ نکاح کا انعقاد بے محل ہے کیونکہ اب دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ اگر دوبارہ نکاح کیا جائے تو ایک لغو عمل ہے ۔ البتہ وداعی وغیرہ کے عنوان سے رشتہ داروں اور دوست احباب کو مدعو کرنا درست ہے۔

امامت اور عمامہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام صاحب کو بوقت ِنماز عمامہ کا اہتمام کرنا چاہئے یا نہیں۔ شرعاً اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب : نماز کی ادائیگی کے وقت زینت کا اہتمام یعنی شرعی وضع قطع و ہیئت پسندیدہ امر ہے ۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام و تابعین عظام اور صالحین امت کا یہی معمولی رہا ہے ۔ اس اہتمام زینت میں عمامہ بھی شامل ہے، بوقت نماز عمامہ کا اہتمام خواہ مقتدی ہو کہ امام کئی گنا اجر و ثواب کا موجب و باعث فضیلت ہے۔ دیلمی نے اپنی سند میں یہ روایت نقل کی ہے کہ عمامہ کے ساتھ ادا کی گئی نماز اس کے بغیر ادا کی گئی، نماز سے پچیس گنا زیادہ ثواب رکھتی ہے۔ علی ہذا نماز جمعہ کا ثواب اسکے ساتھ ستر جمعہ کی فضیلت رکھتا ہے ۔ نیز جمعہ کے دن فرشتہ نماز ادا کرنے والوں کیلئے غروب آفتاب تک دعا کرتے ہیں۔ صلاۃ بعمامۃ تعدل بخمس و عشرین صلاۃ و جمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ و فیہ ان الملائکۃ تشھدون الجمعۃ معتمین و یصلون علی اھل العمائم حتی تغیب الشمس ۔ مقتدی کے بالمقابل امام صاحب پر زائد ذمہ داری ہے کیونکہ شرائط امامت میں جو اوصاف شرعاً ملحوظ ہیں وہ مقتدی میں نہیں اس لئے امام صاحب کو چاہئے کہ وہ عمامہ کا ضرور اہتمام کریں۔ فقط واﷲأعلم

TOPPOPULARRECENT