Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / وکیلوں کا صحافیوں ، جے این یو طلبہ اور اساتذہ پر حملہ

وکیلوں کا صحافیوں ، جے این یو طلبہ اور اساتذہ پر حملہ

٭  پٹیالہ عدالت میں افراتفرای کا عالم
٭  بی جے پی رکن اسمبلی او پی شرما بھی حملہ آوروں میں شامل
٭  جے این یو پروگرام کا لشکر طیبہ سے تعلق نہیں ، کمشنر دہلی پولیس
نئی دہلی ۔15 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے احاطہ میں آج وکلاء کے گروپس نے صحافیوں اور جے این یو کے طلبہ و ٹیچرس پر حملہ کردیا ۔ جبکہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس لیڈر کی گرفتاری پر سیاسی رسہ کشی شدت اختیار کرگئی ہے ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کانگریس نے جوابی وار کرتے ہوئے کہاکہ وہ لوگ جنھیں فوجداری الزامات پر سپریم کورٹ کی ماضی میں سرزنش کا سامنا کرنا پڑا اُنھیں پارٹی کو حب الوطنی کا سبق سکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس نے تحریک آزادی میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ راہول گاندھی نے بھی بی جے پی اور آر ایس ایس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ملک کی کثرت میں وحدت تہذیب کا احترام نہیں کرتیں اور ہر ایک کی رائے پر کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔ جے این یو واقعہ کی تحقیقات نے آج ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جبکہ دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے کہاکہ اب تک لشکر طیبہ سے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ افضل گرو کو پھانسی کے خلاف جے این یو (جواہر لال نہرو یونیورسٹی ) میں جو احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا اس کا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ اسی احتجاجی مظاہرے کے باعث بحران پیدا ہوا ہے ۔ دہلی پولیس نے چند دن قبل لشکر طیبہ بانی حافظ سعید کے ایک ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے چوکسی کا اعلان کیا تھا ۔ اس کے علاوہ طلبہ سے خواہش کی تھی کہ وہ مخالف ہند لہر کا شکار نہ ہو ۔ کل وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جے این یو پروگرام کو حافظ سعید کی پشت پناہی حاصل تھی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ انھوں نے کمار کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اُس نے پروگرام میں مخالف قوم نعرے لگائے ۔ جے این یو کے طلبہ نے آج کلاسس کا بائیکاٹ کیا جبکہ اساتذہ نے کل اس احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یونیورسٹی نے وزارت فروغ انسانی وسائل کو موقف رپورٹ روانہ کردی جس میں کہا گیا ہے کہ 8 طلبہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس پروگرام میں نعرے لگارہے تھے ۔ لیکن رجسٹرار کی رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہوا کہ جے این یو ایس یو صدر کنہیا کمار کا نام بھی اس میں شامل ہے یا نہیں ۔ ان کے خلاف ملک سے غداری کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ آج وکلاء کے کئی گروپس نے صحافیوں ، جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ کے علاوہ عدالت کے باہر نامعلوم افراد نے اُنھیں مخالف قوم قرار دیتے ہوئے حملے کا نشانہ بنایا ۔ دہلی بی جے پی رکن اسمبلی او پی شرما جو اس وقت احاطہ عدالت میں موجود تھے زدوکوب کرنے والے وکلاء کے گروپ میں شامل ہوگئے ۔ اُنھیں سی پی آئی کارکن عمیق جمائی کو زدوکوب کرتے دیکھا گیاجنھیں بعد ازاں تغلق روڈ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ۔ تشدد اُس وقت پھوٹ پڑا جب کنہیا کمار کو ملک سے غداری کے مقدمہ میں آج میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ لولین کے روبرو پیش کیا جارہا تھا تاکہ اُنھیں ریمانڈ میں لینے کی کارروائی کی جاسکے لیکن گڑبڑ کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔ وکلاء نے محب وطن ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پہلے عدالت کے اندر جے این یو طلبہ اور اساتذہ کو نشانہ بنایا ۔ وہ اُنھیں زدوکوب کرتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ جے این یو مخالف ہند عناصر اور دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکی ہے ۔ ایک ٹیلی ویژن رپورٹر پر حملہ کیا گیا جبکہ خاتون جرنلسٹ کو چھوڑ دیا گیا حالانکہ ہجوم نے اُنھیں بھی اُن کے فونس اور ہڈیاں توڑ دینے کی دھمکی دی تھی ۔عدالت کے باہر وکلاء کا ایک اور گروپ جرنلسٹ ، جے این یو طلبہ یہاں تک کہ عدلیہ کے عہدیداروں کو گھسیٹ کر حملہ کردیا۔ بی جے پی رکن اسمبلی او پی شرما اُس وقت وزیر فینانس ارون جیٹلی کے دائر کردہ ہتک عزت مقدمہ کی سماعت کے سلسلے میں یہاں موجود تھے ۔ اُنھیں جمائی کو زدوکوب کرتے دیکھا گیا ۔ ارون جیٹلی خود بھی کچھ دیر احاطہ عدالت میں موجود تھے ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرما نے دعویٰ کیا کہ بھگدڑ کے دوران اُن کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور پاکستان زندہ باد ، ہندوستان مردہ باد کے نعرے لگائے جارہے تھے ۔ جب انھیں بتایا گیا کہ ویڈیو فوٹیج میں اُنھیں زدوکوب کرتے دکھایا گیا ہے تو شرما نے جواب دیا مجھے پتہ نہیں آپ کس ویڈیو کی بات کررہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی اس طرح کے نعرے لگائے تو زدوکوب کرنا یہاں تک کہ اُسے موت کی نیند سلادینا بھی غلط نہیں ہوگا ۔ ان سارے واقعات میں تقریباً 9 صحافی نشانہ بنے ۔
پروفیسر گیلانی زیرحراست
دہلی یونیورسٹی کے سابق لکچرار پروفیسر ایس اے آر گیلانی کو آج حراست میں لے لیا گیا اور پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں اُن سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ پروفیسر گیلانی کے خلاف پریس کلب آف انڈیا میں ایک پروگرام کے سلسلہ میں ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہے ۔

TOPPOPULARRECENT