Friday , May 26 2017
Home / کھیل کی خبریں / وہیل چیر گیمس کے باصلاحیت کھلاڑی سے حکومت کی سردمہری

وہیل چیر گیمس کے باصلاحیت کھلاڑی سے حکومت کی سردمہری

٭   معذورین کی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد فاروق احمد کسمپرسی کا شکار
٭   حکومت کو توجہہ دلانے ایڈیٹر سیاست سے درخواست
حیدرآباد ۔ 10 مارچ ۔ ( نمائندہ خصوصی ) ہمارے ملک ہندوستان کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہاں اُن کھلاڑیوں کی غیرمعمولی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں میڈلس حاصل کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ ریو اولمپکس میں بیاڈمنٹن اور کُشتی میں سلور میڈل اور برانز میڈل حاصل کرنے والی پی وی سندھو اور ساکشی ملک کے علاوہ جمناسٹک میں برانز میڈل حاصل کرتے کرتے رہ جانے والی دیپاکرماکر پر انعامات و اعزازت کی بارش کی گئی ۔ پی وی سندھو کو 13 کروڑ روپئے سے زائد نقد انعامات بی ایم ڈبلیو جیسی قیمتی کار گروپ I آفیسر کی ملازمت ، تلنگانہ اور آندھراپردیش کے دارالحکومت حیدرآباد اور امراوتی میں فی کس 1000 مربع گز قیمتی اراضی کے پلاٹس دیئے گئے ۔ مختلف ریاستوں کی جانب سے دیگر کئی انعامات و اعزازات عطا کئے گئے لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ملک کے مختلف علاقوں میں منظرعام پر آنے والے اُن کھلاڑیوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جو غریب ہوتے ہیں۔ ایسے ہی باصلاحیت اور سرکاری و سرکاری اداروں کے نظرانداز کردہ کھلاڑیوں میں کریمنگر کے رہنے والے وہیل چیر گیمس کے چمپین کھلاڑی محمد فاروق احمد ولد محمد حسین مرحوم بھی شامل ہیں۔ انھوں نے ملائیشیا ۔انڈو وہیل چیر کرکٹ ٹورنمنٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے شاندار مظاہرہ کیا ۔ وہ بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والی ہندوستانی ٹیم میں بھی شامل ہیں۔ محمد فاروق احمد کریم نگر میں ایک بوسیدہ مکان میں رہتے ہیں لیکن اس مکان میں مختلف ٹورنمنٹس میں حاصل کردہ گولڈ ، سلور اور برانز میڈلس کے علاوہ ٹرافیز سامان سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ محمد فاروق تین سال کی عمر سے ہی پولیو سے متاثر رہے اور ان کے دونوں پیر پولیو سے متاثر ہیں۔ ایس ایس سی تک تعلیم حاصل کرچکا یہ باصلاحیت نوجوان کھلاڑی اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ سرکاری اور کارپوریٹ سطح پر اسے بالکل ہی نظرانداز کردیا گیا ۔

بھوک و افلاس سے تڑپ تڑپ کر مرنے کی بجائے اُس نے اپنی معذوری کے باوجود آٹو چلانے کا فیصلہ کیا جس سے وہ اپنی اور اپنے بیوی بچوں کیلئے دو وقت کے کھانے کاانتظام کرپاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ملک و بیرون ٹورنمنٹس میں شرکت کیلئے مصارف کا بھی وہ اپنے بھائیوں ، دوستوں اور جناب انتخاب عالم ( عادل آباد) جیسے لوگوں سے مالی مدد حاصل کرتے ہوئے انتظام کر ہی لیتا ہے ۔اس نوجوان کھلاڑی نے دفتر سیاست پہنچکر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں کھیل کود کے میدان میں اپنی شاندار کارکردگی سے واقف کروایا اور بتایا کہ اس شاندار کارکردگی کے باوجود اسے کوئی سرکاری ملازمت دی گئی اور نہ ہی کسی ٹورنمنٹ میں اسپانسر کیا گیا ۔ محمد فاروق احمد کو انٹرنیشنل وہیل چیر کرکٹ کونسل کی جانب سے آگرہ میں منعقدہ ہند۔ نیپال کرکٹ سیریز میں بھی شامل کیا گیاتھاوہ سال 2002 ء سے مسلسل کھیل رہے ہیں ۔ سوپر سکس ، بیاڈمنٹن ، ٹیبل ٹینس ، وہیل چیر 50، 100 اور 200 میٹر کی دوڑ ، فینسنگ ( تلوار بازی) ، سٹنگ والی بال ، شارٹ پُٹ گیم ڈسک تھرو کے مقابلوں میں گولڈ ، سلور ، برانز میڈلس حاصل کئے ۔ انھیں دہلی ، چینائی ، میسور ، بنگلور ، آگرہ ، غازی آباد ، جئے پور ، اڈیشہ ، ہریانہ ، کوئمبتور ، کالی کٹ وغیرہ میں منعقدہ ٹورنمنٹس میں شامل رہنے کا اعزاز حاصل رہا ۔ دو لڑکیوں اور ایک بیٹے کے والد محمد فاروق نے بتایا کہ ہیومن ویلفیر آرگنائزیشن عادل آباد کے انتخاب عالم ان کی وقت بروقت مدد کرتے رہتے ہیں جبکہ ان کے دوست سری ہری گورنمنٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی بھی اُنھیں حاصل ہے ۔ انتخاب عالم جن کے ایک فرزند اور بہو ڈاکٹرس ہیں اور دوسرے فرزند نے ایم کام کیا ہے غریبوں و ضرورتمندوں کی بے لوث خدمت کررہے ہیں ۔ محمد فاروق احمد کے مطابق مئی میں ایشیاء کپ بنگلہ دیش میں منعقد ہونے والا ہے ۔ فاروق احمد کے مطابق انھوں نے کئی ریاستی وزراء ، ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی سے ملاقات کی لیکن کسی نے ان کا فائدہ نہیں کیا ، انھیں امید ہے کہ روزنامہ سیاست کے توسط سے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی اور چیف منسٹر کے سی آر تک ان کی حالت زار سے متعلق رپورٹ پہنچے گی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT