Monday , October 23 2017
Home / فیچر نیوز / وہ اور ہوں گے جو خنجر چھپاکے لاتے ہیں

وہ اور ہوں گے جو خنجر چھپاکے لاتے ہیں

سبرامنیم سوامی… ہندو راشٹر کے برانڈ ایمبسڈر
مالیگاؤں دھماکے… مسلم نوجوانوں سے انصاف

رشیدالدین
نریندر مودی حکومت کے دو سال مکمل ہورہے ہیں۔ ان دو برسوں میں حکومت پر جارحانہ فرقہ پرستی کا غلبہ دکھائی دے رہا ہے ۔ نریندر مودی جنہوں نے دستور اور قانون کی پاسداری کا عہد کیا تھا، وہ حلف کی تکمیل میں ناکام ہوگئے۔ ویسے بھی حکومت پر ان کا کنٹرول برائے نام ہے۔ صرف بیرونی دورے ، بیرونی مہمانوں سے ملاقات اور سرکاری تقاریب میں شرکت تک انہیں محدود کردیا گیا۔ حکومت کا ریموٹ تو ناگپور ہیڈکوارٹر میں ہے اور نریندر مودی محض کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب تو انہیں مومی مجسمہ میں تبدیل کر کے ملک کے باہر میوزیم میں سجادیا گیا۔ اس طرح یہ واضح اشارہ ہے کہ انہیں تمام حساس مسائل پر مجسمہ بن کر رہنا ہے۔ وزیراعظم نے عوام سے ریڈیو پر راست گفتگو کیلئے من کی بات پروگرام شروع کیا تھا لیکن بے بسی ایسی ہے کہ مودی اس پروگرام میں نہ ہی اپنے من کی بات بتاسکتے ہیں اور نہ ہی سن سکتے ہیں۔ آج تک ایک بھی حساس مسئلہ پر مودی نے من کی بات نہیں کہی۔ یو پی اے کے دس سالہ دور حکومت میں بی جے پی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی خاموشی کو نشانہ بنایا لیکن مودی نے خاموشی میں منموہن سنگھ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ نریندر مودی لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے جبکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ راجیہ سبھا میں موجود ہیں۔ اس طرح جیسے دونوں کی خاموشی کا مقابلہ چل رہا ہو۔ دونوں شخصیتوں میں فرق یہ ہے کہ منموہن سنگھ گاندھی خاندان کے زیر اثر تھے جبکہ نریندر مودی سنگھ پریوار کا مکھوٹا بنے ہوئے ہیں۔ ہندو راشٹر کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے میں وہ پیش پیش ہیں۔

گجرات فسادات نے انہیں قومی سیاسی منظر تک پہنچادیا لیکن وہ آج بھی امیت شاہ کے ساتھ پرانے رنگ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی کارکردگی سے عوامی مایوسی کو دیکھتے ہوئے بی جے پی ترقی کے بجائے دوبارہ جارحانہ فرقہ پرستی کے ایجنڈہ کو ہوا دے رہی ہے ۔ کیرالا ، مغربی بنگال ، ٹاملناڈو اور آسام میں بی جے پی کیلئے کوئی امکانات نظر نہیں آتے کیونکہ نریندر مودی کا ترقی کا ایجنڈہ ناکام ثابت ہوا۔ گزشتہ دو برسوں میں نفرت کے کئی سوادگر میدان میں آئے لیکن وہ مذہب کی بنیاد پر سماج کو بانٹنے میں ناکام رہے ۔ لہذا نئے چہروں کو میدان میں اتارا جارہا ہے۔ انہی میں سے ایک چہرہ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ہیں، جنہیں راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیا گیا اور حلف برداری کے تیسرے ہی دن سے سبرامنیم سوامی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا ہے۔ وہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے خلاف حکومت کے حملہ کی قیادت کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایوان میں بی جے پی کے رکن نہیں بلکہ قائد ہیں۔ سبرامنیم سوامی اور تنازعات ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں ۔ کانگریس نے چونکہ جی ایس ٹی بل پر حکومت کی تائید سے انکار کردیا، لہذا سبرامنیم سوامی کے ذریعہ انتقامی سیاست کی جارہی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی کیلئے شناخت رکھنے والے سبرامنیم سوامی نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی کردار کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں حکومت کی جانب سے علیگڑھ یونیورسٹی کو دی جانے والی امداد کو غیر دستوری قرار دیا۔

مسلمانوںکو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی درخواست عدالت میں پیش کرنے والے سبرامنیم سوامی ہیں ۔ ایودھیا مقدمہ میں سبرامنیم سوامی فریق کی حیثیت سے شامل ہوئے اور مندر کی تعمیر کیلئے عدالت کی منظوری حاصل کرنے کوشاں ہیں۔ ملک میں مسلم پرسنل لا کی بجائے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ اور کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 پر ان کا موقف ہر کسی پر عیاں ہے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسلامی کردار کی مخالفت کے ذریعہ سبرامنیم سوامی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ بی جے پی نے روایتی مسلم دشمن قائد کو اس کام کیلئے آگے کردیا ہے۔ سرسید احمد خاں نے یونیورسٹی اسلامی کردار کے ساتھ قائم کی تھی جسے آج اقلیتی کردار کہا جارہا ہے۔ یونیورسٹی کا حقیقی کردار اسلامی ہے جو فرقہ پرستوں کو برداشت نہیں۔ سبرامنیم سوامی کو اسلام اور مسلمانوں دشمنی شاید اس لئے بھی ہے کہ ان کی دختر نے ایک مسلمان سے شادی کی ۔ یہ ذاتی معاملہ ہے اور اس درون خانہ نمٹنے کے بجائے مسلمانوں سے دشمنی کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ سزا تو خود آپ کو ملنی چاہئے جو اپنی بیٹی پر کنٹرول نہ رکھ سکے۔ سبرامنیم سوامی اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ سماج کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا کام کر رہے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں انہیں مرکزی کابینہ میں شامل کرلیا جائے تاکہ ہندو راشٹر کے ایجنڈہ پر عمل آوری میں سہولت ہو۔ ملک میں مخصوص ذہنیت کی سرپرستی اور کھلی چھوٹ کی تازہ مثال سادھوی پراچی ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ کی کمیٹی کی ہدایت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ظاہر ہے کہ جب کسی کو خوف نہ ہو تو اس طرح کی ہٹ دھرمی پیدا ہوجاتی ہے ۔ سادھوی پراچی نے پارلیمنٹ میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق متنازعہ بیان دیا تھا جس پر راجیہ سبھا کی مراعات کمیٹی نے انہیں طلب کیا ۔ پراچی نے معذرت خواہی سے صاف انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہے۔ اس طرح وہ پارلیمنٹ کی توہین کی مرتکب ہوئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مراعات کمیٹی ان کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گی۔

ملک میں وقفہ وقفہ سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرمیاں دراصل مسلمانوں پر نفسیاتی حملہ ہے، تاکہ انہیں پست ہمت کیا جاسکے۔ سنگھ پریوار کا یہ بھی ایجنڈہ ہے کہ گرو گولوالکر نے اپنی کتاب ’’بنچ آف تھاٹس‘‘ میں یہی نظریہ اور ایجنڈہ پیش کیا ہے۔ ملک میں اسی نظریہ کو عام کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور وقفہ وقفہ سے حملوں کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سنگھ پریوار مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری ثابت کرناچاہتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمان نہ صرف برابر کے شہری ہیں بلکہ دستور نے انہیں اکثریتی طبقہ کے مساوی بنیادی حقوق فراہم کئے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں جھارکھنڈ میں دو مسلمانوں کو بیف کے مسئلہ پر پھانسی دیدی گئی لیکن وہاں کی بی جے پی حکومت نے آج تک خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ واقعہ کو دو ماہ گزر گئے لیکن ریاستی اور مرکزی حکومت کارروائی توکجا مذمت کرنے بھی تیار نہیں۔ مسلمان کی زندگی کی قیمت جھارکھنڈ حکومت کے پاس صرف ایک لاکھ روپئے ہے۔ اطلاعات کے مطابق جھارکھنڈ کے کئی مواضعات میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ان کے مکانات کو نذر آتش کردیا گیا۔ راجیہ سبھا میں جنتا دل یونائٹیڈ کے غلام رسول بلیاوی نے یہ مسئلہ اٹھایا اور تمام اپوزیشن جماعتوں نے جھارکھنڈ حکومت کی بے حسی پر تنقید کی۔ افسوس اس بات پر ہے کہ ایوان میں موجود دونوں مسلم وزراء نے جھارکھنڈ حکومت کو بچانے کی کوشش کی ۔ اقلیتی امور سے تعلق رکھنے والے وزراء نجمہ ہپت اللہ اور مختار عباس نقوی نے بی جے پی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ دادری میں اخلاق کے قتل کے بعد جھارکھنڈ کا یہ واقعہ جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں کی درندگی کی مثال ہے۔ ملک میں یہ طاقتیں مختلف عنوانات سے سر اٹھا رہی ہیں لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی قیادت چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی ، ان طاقتوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ جس انداز سے ان طاقتوں کے خلاف آواز اٹھنی چاہئے، ایسا کسی سطح پر دکھائی نہیں دیتا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسلم ارکان کی کمی نہیں لیکن کسی بھی مسئلہ پر انہیں متحدہ مساعی کرتے دیکھا نہیں گیا۔ سابق میں دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بند کیا گیا

اور دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ حیدرآباد بھی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نشانہ پر رہا۔ مرکزمیں حکومت بھلے ہی کسی پارٹی کی ہو لیکن تحقیقاتی ایجنسیوں میں زعفرانی ذہنیت نے ہر مرحلہ پر اپنے وجود کا احساس دلایا ہے۔ کانگریس پارٹی بھلے ہی سیکولرازم اور مسلمانوں سے ہمدردی کا دعویٰ کرے لیکن یو پی اے دور میں ملک میں پیش آئے بم دھماکوںکے سلسلہ میں مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جانے سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں دھماکوں میں ہندو زعفرانی تنظیموں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔ مالیگاؤں بم دھماکے میں ماخوذ کئے گئے 8 مسلم نوجوانوں کو خصوصی عدالتوں نے بے قصور قرار دیا ہے۔ ان نوجوانوں کو انصاف کے حصول میں 10 سال لگ گئے ۔ ظاہر ہے کہ دس سال کا وقفہ نوجوانوں کے مستقبل کیلئے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ان نوجوانوں کے مستقبل کی تباہی کیلئے کون ذمہ دار ہے۔ کیا کانگریس پارٹی اپنے دور میں مسلم نوجوانوں کو غلط انداز میں ماخوذ کئے جانے پر معذرت خواہی کرے گی ؟ یو پی اے دور میں جب بھی کوئی واقعہ پیش آیا ، انڈین مجاہدین کے نام پر مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بند کیا گیا ۔ یو پی اے کا دس سالہ دور اور نریندر مودی حکومت کے دو سال لیکن آج تک تحقیقاتی ایجنسیاں انڈین مجاہدین کا پتہ چلانے میں ناکام رہیں۔ آج تک اس بات کا علم نہیں ہے کہ ان کا ہیڈکوارٹر کہاں ہے اور کون ان کے عہدیدار ہیں۔ دراصل فرضی دہشت گرد تنظیم کے نام پر تحقیقاتی ایجنسیوں نے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔ بدلتے حالات میں اب تحقیقاتی ایجنسیاں آئی ایس آئی ایس کے نام پر مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا کو ہیلی کاپٹر معاملہ میں رشوت ستانی کو دن رات اچھالنے میں دلچسپی ہے لیکن انہیں دہشت گردی کے الزامات سے بری ہونے والے مسلم نوجوانوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی فرصت نہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوتے تو پھر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کئی دن تک اس خبر کو سرخیوں میں رکھتا۔ میڈیا میں بھی تعصب اور جانبداری صاف طور پر واضح ہوچکی ہے۔ مرکز کی وزارت فروغ انسانی وسائل نے تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے وہاں زعفرانی کلچر عام کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔ تعلیمی نصاب میں غیر محسوس طریقہ سے سیکولرازم کے بجائے زعفرانی رنگ بھرنے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ سی پی ایم کے قائد سیتارام یچوری نے شاید اسی لئے ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ منسٹری کو ہندو راشٹر ڈیولپمنٹ منسٹری قرار دیا۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے ملک کے حالات پر کچھ اس طرح تبصرہ کیا ہے ؎
وہ اور ہوں گے جو خنجر چھپاکے لاتے ہیں
ہم اپنے ساتھ پھٹی آستین لائے ہیں

TOPPOPULARRECENT