Sunday , August 20 2017
Home / فیچر نیوز / وہ سرفروشوں کو تعداد سے ڈراتا ہے

وہ سرفروشوں کو تعداد سے ڈراتا ہے

 

یکساں سیول کوڈ …امت کے اتحاد سے باطل پریشان
اکھلیش یادو … سماج وادی پارٹی پر مضبوط گرفت

رشیدالدین
حق اور باطل کے درمیان معرکہ ہر دور میں ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ باطل نے ہر دور میں الگ الگ انداز میں حق کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے ۔ چراغ حق کو پھونکوں سے بجھانے کی ناکام کوششیں کی گئیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے حق کو غالب رکھا ۔ یوں تو اللہ تبارک تعالیٰ نے اسلام کو اپنے نزدیک پسندیدہ دین قرار دیتے ہوئے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے لیکن ایثار و قربانی میں اضافہ کیلئے امت کو ابتلاء و آزمائش کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مصائب و آلام سے گزر کر ہی ایمان تازہ اور مسلمان کندن کی طرح نکھر جاتے ہیں۔ شریعت اسلامی میں مداخلت اور یکساں سیول کوڈ کے قیام کی تیاریاں اگرچہ ملک میں پہلی مرتبہ نہیں ہے لیکن جس شد و مد سے منظم انداز میں اس مسئلہ کو چھیڑا گیا اس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ عدلیہ اور لا کمیشن کا سہارا لیکر ناپاک منصوبہ پر عمل آوری کی کوشش ہے تاکہ کسی طرح مسلمانوں کو شریعت سے منحرف کردیا جائے۔ اس کیلئے آسان حربہ خواتین کو انصاف رسانی کا نعرہ ہے۔ اسلام میں خواتین کے حقوق کی پامالی ، طلاق اور ایک سے زائد شادیوں کا بہانہ بناکر نام نہاد دانشور خواتین کے حق میں مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں اور حکومت کو اس موقع کا انتظار ہی تھا۔ خواتین کو ان کا جائز حق دینے کے سلسلہ میں خود حکومت میں شامل افراد کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں تو ’’بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی‘‘ کے مصداق کئی سیاہ کارنامے بے نقاب ہوجائیں گے ۔ جنہوں نے اپنی خواتین کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دیا اور فرقہ وارانہ جنونیوں کے ہاتھوں مسلم خواتین پر مظالم کا تماشہ دیکھتے رہے، آج انہیں خواتین سے ہمدردی پیدا ہوچکی ہے ۔ باطل طاقتوں کے آگے امت مسلمہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہوچکی ہے جو دین اور شریعت سے اٹوٹ وابستگی کا اظہار ہے۔ اسے محض اتفاق نہیں کہا جاسکتا کہ جب کبھی بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوتا ہے ، سنگھ پریوار کے ایجنڈہ کو آگے کردیا جاتا ہے ۔ اس حقیقت کے باوجود کہ طلاق اور کثرت ازدواج کا رواج مسلمانوں سے زیادہ اکثریتی طبقہ میں ہے پھر بھی شریعت اسلامی نشانہ پر کیوں ؟ اسلام میں خواتین سے ناانصافی کا دعویٰ کرنے والے پہلے اپنی لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دیکر دکھائیں ۔

شریعت تحفظ کیلئے مسلمانوں میں اتحاد سے بوکھلاہٹ کا شکار عناصر نے اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے ۔ کل تک یکساں سیول کوڈ کے جبری نفاذ کی باتیں کہی گئیں اور گوا کی مثال پیش کی جاتی رہی لیکن اب سرکاری سطح پر کہا جارہا ہے کہ اتفاق رائے کے بعد ہی یکساں سیول کوڈ نافذ کیاجائے گا ۔ حکومت اور سنگھ پریوار اچھی طرح جانتے ہیں کہ یکساں سیول کوڈ پر اتفاق رائے ممکن ہی نہیں ہے۔ اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں سیاسی فائدہ اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ کی تقسیم کے لئے اس مسئلہ کو ہوا دی گئی۔ مسلمانوں پر مسلط کرنے سے قبل بی جے پی پہلے اپنے گھر کی خبر لے۔ ہندو سماج کے سینکڑوں گروپس جو جداگانہ تہذیب اور رواج سے وابستہ ہیں، انہیں کس طرح علحدہ کیا جائے گا ۔ جس طرح مختلف تنازعات کے ذریعہ مسلمانوں کو مشتعل کرنا سنگھ پریوار کی عادت رہی ، ٹھیک اسی طرح اس مرتبہ شریعت کو نشانہ بنایا گیا۔ قابل مبارکباد ہے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، جس نے اس حساس اور جذباتی مسئلہ پر مسلمانوں کو تھامے رکھا اور جوش کے بجائے ہوش اور حکمت کے ذریعہ صورتحال سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ۔ بورڈ نے ملک بھر میں دستخطی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ ملک کے دستوری سربراہ کو مسلمانوں کے احساسات سے واقف کرایا جاسکے ۔ بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی نے مولانا علی میاں کے حقیقی جانشین ثابت ہوتے ہوئے احتجاج سے گریز کا دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے جو ان کی دور اندیشی کا مظہر ہے۔ حکومت کی درپردہ سازشوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مولانا رابع ندوی نے دراصل مسلمانوں کو قبل از وقت اپنی توانائیاں ضائع کرنے سے روک دیا ہے۔ ابھی تو معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے اور لا کمیشن کی رپورٹ بھی باقی ہے۔ ایسے میں ابھی سے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا مصلحت کے بھی خلاف تھا۔

جب بھی ضرورت پڑے گی بورڈ احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔ پرسنل لا بورڈ کی قیادت نے فراست مومنانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو فیصلہ  کیا ہے ، ساری ملت اس کی تابع ہے۔ ایسے وقت جبکہ حکومت دستور میں مذہبی آزادی کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوتوا ایجنڈہ کے نفاذ کی کوشش کی جارہی ہے، ملک کے دستوری سربراہ نے دستور کا تحفظ کیا ہے ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے ہندوستان جیسے کثیر مذاہب و تہذیبوں میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی ہے ۔ انہوں نے دستور کی پاسداری کا حق ادا کیا ہے۔ صدر جمہوریہ کے موقف کے بعد حکومت اگر بعض رہنمایانہ اصولوں کو لازمی دستوری حقوق کی نوعیت دینے کی کوشش کرے گی تو یہ دستور سے کھلواڑ تصور کیا جائے گا۔ لا کمیشن نے  یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر قومی اور ریاستی پارٹیوں سے رائے طلب کی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کرنے کی تجویز ہے۔ مسلمانوں کی جانب سے سوالنامہ کے بائیکاٹ کے بعد لا کمیشن نے تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس سے خواہش کی کہ سوالنامہ کا جواب دینے کیلئے اقلیتی گروپس ، سیاسی جماعتوں اور سرکاری محکمہ جات پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ لا کمیشن کا یہ اقدام دراصل سیاسی جماعتوں کا  امتحان ہے ۔ اب یہ واضح ہوجائے گاکہ مسلمانوں کا حقیقی ہمدرد کون ہے اور کون ووٹ بینک کی طرح استعمال کر رہا ہے ۔ سیکولر پا رٹیوں کیلئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ایک آواز ہوکر دفعہ 44 کی تنسیخ کا مطالبہ کریں تاکہ ہمیشہ کیلئے اس تنازعہ کا خاتمہ ہوسکے۔ قومی اور ریاستی سیاسی جماعتوں میں شامل مسلم قائدین کی ذمہ داری  بنتی ہے کہ وہ اپنی پارٹی قیادت اور برسر اقتدار ہونے پر چیف منسٹر کو یکساں سیول کوڈ کی مخالفت پر مجبور کریں ۔ عام مسلمان بھی اپنے ووٹ کی طاقت کا خوف دلاکر سیاسی جماعتوں پر  اثر اندازہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں سے زبانی ہمدردی کرنے والے جماعتوں کا  پول کھل جائے گا۔

سرکاری عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے حکومت کے موقف سے اختلاف کرنا عام طور پر سیاسی معاملات میں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن شریعت کے مسئلہ پر اختلافی موقف محض جذبہ ایمانی اور ایمانی حرارت کا نتیجہ ہے ۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یویورسٹی کے چانسلر ظفر سریش  والا کا شمار وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی افراد میں ہوتا ہے لیکن جب شریعت کا مسئلہ آگیا تو انہوں نے تعلقات کی پرواہ کئے بغیر مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کی تائید کی۔ سریش والا کبھی بھی بی جے پی سے وابستہ نہیں رہے اور انہوں نے اکابرین امت کے آگے زانوئے ادب طئے کرتے ہوئے اسلام کو سیکھا ہے ۔ اسی نسبت نے ان میں یہ جذبہ ایمانی پیدا کیا  کہ عہدہ کی پر واہ کئے بغیر پرسنل بورڈ کی تائید کی ۔ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو مصلحت کا شکار ہوجاتا ۔ سریش والا نے صرف زبانی انداز میں یکساں سیوکل کوڈ کی مخالفت نہیں کی بلکہ ٹی وی چیانلس پر بی جے پی اور سنگھ پریوار کے نمائندوں کو یہ ثبوت پیش کرتے ہوئے لاجواب کردیا  کہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز گولوالکر نے 8 ستمبر 1972 ء کو آر ایس ایس کے ترجمان ’’سامنا‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے قیام کی مخالفت کی تھی ۔ ظفر سریش والا نے اپنے جذبہ ایمانی کے ذریعہ دیگر سرکاری عہدوں پر فائز شخصیتوں اور سیاسی جماعتوں میں موجود قائدین کو روشنی دکھائی ہے۔

مختلف یونیورسٹیز میں چانسلر ، وائس چانسلر ، مرکزی وزارت اور بی جے پی میں اہم عہدوں پر موجود مسلم شخصیتوں کو بھی اسی طرح کھل کر اظہار خیال کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن جماعتوں میں موجود مسلم قائدین بھی شریعت کے تحفظ کے لئے اپنے موقف کی وضاحت کریں، اس طرح مرکزی حکومت کو یہ پیام جائے گا کہ شریعت اسلامی کے مسئلہ پر سارے مسلمان متحد ہیں ۔ ایک طرف مسلم پرسنل لا کے مسئلہ پر مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے تو دوسری طرف اترپردیش میں  حکمراں جماعت کے خاندانی تنازعہ نے ریاست میں غیر یقینی کی کیفیت  پیدا کردی ہے۔ عملی سیاست میں ہمیشہ کسی ایک کا سکہ نہیں چل سکتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نوجوان قیادتیں ابھرتی ہیں۔ بوڈھی قیادتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نوجوانوں کیلئے راستہ ہموار کریں لیکن اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو ابھی بھی خود کو کرشماتی قائد کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ حالانکہ وہ دن گزر گئے جب ملائم سنگھ یادو سے عوام کی جذباتی وابستگی تھی۔ خاندان میں بعض اقتدار کے خواہشمندوں نے سیاسی جماعتوں میں سازش کے ماہر امر سنگھ کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اکھلیش یادو کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی کوشش کی ہے ۔ اکھلیش یادو نے چیف منسٹر کی حیثیت سے جس طرح ہر طبقہ کی عوام کا دل موہ لیا ، وہ مخالفین کو برداشت نہیں ہورہا ہے۔ ملائم سنگھ یادو اپنے فرزند کے خلاف فیصلے کرنے سے قبل یہ فراموش کرچکے ہیں کہ بی جے پی اور کلیان سنگھ سے دوستی کے بعد ملائم سنگھ عوام میں ناپسندیدہ بن چکے ہیں اور عمر کے اعتبار سے ان کا سیاسی ریٹائر منٹ ضروری ہے۔ اکھلیش یادو نے اس بحران کا انتہائی حوصلہ مندی سے مقابلہ کیا اور وہ تین نومبر کو انتخابی مہم کا  رتھ یاترا کے ذریعہ آغاز کر رہے ہیں۔ ’’ترقی سے کامیابی تک‘‘ کے عنوان سے اکھلیش یادو عوام کے درمیان جائیں گے ۔ اترپردیش میں اکھلیش یادو کا شمار ترقی پسند اور تنازعات سے پاک قائد کی حیثیت سے ہوتا ہے اور کم عمری میں انہوں نے اپنی قیادت کو منوالیا۔ ہونا بھی یہ چاہئے کہ ملک میں نوجوان قیادتیں ابھریں کیونکہ رائے دہندوں کی اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اکھلیش یادو نے اترپردیش میں بی جے پی کی لہر کو روکنے میں اہم رول ادا کیا ہے جس کے نتیجہ میں آج بی جے پی کے پاس اترپردیش میں کوئی ایسا چہرہ نہیں جسے چیف منسٹر کی حیثیت پیش کیا جاسکے۔ بی جے پی میں قیادت کا بحران ہے۔ اور 2014 ء کے لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کے چہرہ سے کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن اب اسمبلی کیلئے بی جے پی کو کسی پاپولر چہرہ کی تلاش ہے۔ راجناتھ سنگھ اترپردیش کے قد آور قائد ضرور ہیں لیکن وہ اپنی عمر کے اعتبار سے اکھلیش یادو کا سامنا نہیں کرسکتے ۔ کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی اپنی بقاء کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ کانگریس نے نئی دہلی سے شیلا ڈکشٹ کو اترپردیش منتقل کیا جس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ کانگریس کی قیادت اترپردیش کے معاملہ میں کسی بھی حکمت عملی سے عاری ہے۔ پارٹی کے یوراج راہول گاندھی اترپردیش کے اپنے دورہ کے بعد شائد تھک کر آرام کر رہے ہیں۔ مایاوتی چاہتی ہیں کہ سماج وادی اور بی جے پی میں ووٹ کی تقسیم کا فائدہ حاصل کر یں۔ منور رانا نے کیا خوب کہا ہے  ؎
بھڑکتے شعلوں کو فولاد سے ڈراتا ہے
وہ سرفروشوں کو تعداد سے ڈراتا ہے

TOPPOPULARRECENT