Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / وہ نرم مزاج ہیں مگر ڈسپلن شکنی کیخلاف سخت فیصلے کرتے ہیں

وہ نرم مزاج ہیں مگر ڈسپلن شکنی کیخلاف سخت فیصلے کرتے ہیں

2019ء کے الیکشن میں اتم کمار ریڈی ہونگے کانگریس کے کیپٹن، آر سی کنٹیا کا انٹرویو
کرن کمار ریڈی کی بغاوت سے کانگریس کو نقصان پہنچا
کے سی آر اور نریندر مودی کا جادو ختم
مسلمانوں نے ٹی آر ایس پر کیا بھروسہ، کے سی آر نے
مسلم تحفظات کو بی جے پی کی چوکھٹ پر پہنچا دیا

 

حیدرآباد ۔ 15 اگست (سیاست نیوز) کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن و انچارج تلنگانہ کانگریس امور آر سی کنٹیا نے کہاکہ وہ نرم مزاج ضرور ہیں مگر فیصلے سخت کرتے ہیں۔ پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والوں اور کھلے عام پارٹی فیصلوں پر اختلاف رائے پیش کرنے والوں کو پارٹی میں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ 2019ء کے عام انتخابات تک اتم کمار ریڈی کانگریس کے ’’کیپٹن‘‘ ہوں گے۔ کانگریس پارٹی جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ظالم اور وعدے وفا نہ کرنے والی ٹی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے متحدہ جدوجہد کرے گی۔ ڈگ وجئے سنگھ کے بعد بحیثیت تلنگانہ کانگریس امور کی ذمہ داری سنبھالنے والے آر سی کنٹیا نے ’’روزنامہ سیاست‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے مکمل اختیارات کے ساتھ تلنگانہ کانگریس امور کی باگ ڈور ان کے (کنٹیا) کے حوالے کی ہے اور ان کے کام کرنے کا اسٹائیل ہی بالکل جداگانہ ہے۔ وہ نرم مزاج کے ضرور ہیں مگر جب بات ڈسپلن شکنی کی ہوجاتی ہے تو سخت فیصلے کرتے ہیں۔ پارٹی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے تو پھر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ تلنگانہ ان کیلئے کوئی نئی ریاست نہیں ہے۔ وہ گذشتہ تین سال سے ریاست میں سکریٹری انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور پارٹی کے قائدین مختلف مذاہب اور طبقات کی آبادی اور ان کے مسائل، حکومت کی کارکردگی اور اس کی کمزوری، کانگریس کی طاقت اور کمیاں اور دوسرے مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں۔ حکومت کے خلاف جمہوری جنگ چھیڑنے سے قبل پارٹی کو اس کا اہل بنانے، خامیاں، کمزوریاں، غفلت، کوتاہی، نظریاتی اختلافات، گروپ بندیوں کا خاتمہ کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ پورے ایکشن پلان کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے۔ چھ ماہ ایک سال قبل پارٹی امیدواروں کا اعلان کرنے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں۔ آر سی کنٹیا نے کہاکہ تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے طلبہ و نوجوانوں کی قربانیوں سے متاثر ہوکر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے، جس کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں تھے۔ صرف عوامی جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دلیرانہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم اس وقت کے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے پارٹی فیصلے کی مخالفت کی، جس سے کانگریس کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کانگریس سے غلطی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت کرن کمار ریڈی کو چیف منسٹر کے عہدے سے برطرف کردیا جاتا تو تلنگانہ میں کانگریس کیلئے صورتحال تبدیل ہوجاتی تھی۔ کرن کمار ریڈی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے آندھرائی وزراء نے بھی باغیانہ تیور دکھائے جس کا بھی تلنگانہ میں اثر پڑا ہے۔ سربراہ ٹی آر ایس کے سی آر نے بھی اس وقت عوام کو گمراہ کیا ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے پر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کردینے کا عوام میں پیغام روانہ کیا۔ آخری وقت میں اتحاد کرنے نہ کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے تجسس پیدا کیا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ارکان خاندان کے ساتھ سونیا گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے عوام میں پائے جانے والے تجسس کو تقویت پہنچائی اور لمحہ آخر میں فیصلہ تبدیل کردیا۔ کیا کانگریس میں چیف منسٹر کے ایک درجن دعویداروں کی وجہ سے پارٹی کو شکست نہیں ہوئی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے مگر 2019ء میں 2014ء کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔ اتم کمار ریڈی 2019ء کے عام انتخابات میں کانگریس کے ’’کیپٹن‘‘ ہوں گے۔ ان کی قیادت میں موجودہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی ٹیم نہ صرف انتخابی مقابلہ کرے گی بلکہ کامیابی بھی دلائیں گی۔ ریاست میں اتم کمار ریڈی کا فیصلہ حرف آخر ہوگا۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ کانگریس کے سینئر قائدین منی شنکرایر اور جئے رام رمیش کی جانب سے کانگریس کی موجودہ پالیسی کو مودی اور امیت شاہ کا مقابلہ کرنے کیلئے ناکافی قرار دیتے ہوئے نئی پالیسی تیار کرنے کے دیئے گئے مشورے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ منی شنکرایر اور جئے رام رمیش کانگریس کی اتھاریٹی نہیں ہے۔ انہوں نے جو بھی بیان دیا ہے وہ ان کی شخصی رائے ہے۔ کانگریس کی پالیسی کی وجہ سے پنجاب میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا ہے۔ گوا اور منی پور میں کانگریس پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ کنٹیا نے کہا کہ ملک میں مودی اور تلنگانہ میں کے سی آر کا جادو ختم ہوگیا ہے۔ سنگاریڈی میں راہول گاندھی کے جلسہ عام کی کامیابی سے ٹی آر ایس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی۔ اکٹوبر تک منڈل سے اضلاع سطح تک تمام کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ رائے دہی تک راہول سندیش یاترا کو منڈل اور اسمبلی سطح تک پہنچاتے ہوئے کانگریس کو مستحکم کیا جائے گا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی کو تبدیل کرنے کے سوال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ راہول گاندھی اتم کمار ریڈی کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ لہٰذا انہیں تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 12 فیصد مسلم تحفظات پر دھوکہ دینے کا آرسی کنٹیا نے چیف منسٹر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد مسلم تحفظات فراہم کیا۔ اسکا بھی ٹی آر ایس کو فائدہ پہنچا کیونکہ مسلمانوں نے کانگریس سے ہونے والے فائدے کے نتائج دیکھنے کے بعد ٹی آر ایس پر 2014ء کے انتخابات میں اپنا بھروسہ جتایا لیکن کے سی آر نے مسلمانوں کے بھروسے کو اسمبلی و کونسل میں بلز منظور کرتے ہوئے بی جے پی اور نریندر مودی کی چوکھٹ پر پہنچا دیا۔ ٹی آر ایس کی جانب سے دھوکہ دینے کا مسلمانوں اور قبائیلی طبقات میں احساس پیدا ہوگیا جو ناراضگی میں تبدیل ہورہا ہے۔ سماج کے ہر طبقہ کو کے سی آر نے دھوکہ دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT