Friday , September 22 2017
Home / دنیا / ویانا میں شام کے موضوع پربات چیت حوصلہ افزاء

ویانا میں شام کے موضوع پربات چیت حوصلہ افزاء

 
معتمد عمومی اقوام متحدہ بانکی مون کا بیان‘ شام کے بازار پر حملے سے ہلاکتوں کی تعداد 70ہوگئیں
جنیوا / بیروت ۔ یکم نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون نے  کہاکہ ویانا میں اہم بیرونی ممالک کی چار سال قدیم شام کے بحران پر پہلی بار بات چیت اُن کے لئے حوصلہ افزاء ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شریک ممالک ایک باہمی مفاہمت پر کئی کلیدی مسائل کے سلسلہ میں پہنچ چکے ہیں جن کی وجہ سے اُن کا حوصلہ بلند ہوگیا ہے ۔ وہ بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیب احمر کے سربراہ پیٹر مارگ سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ 17ممالک کے اعلیٰ سطحی سفارت کار بشمول ایران اور اقوام متحدہ و یوروپی یونین نے بے مثال مذاکرات میں شرکت کی ‘ حالانکہ حکومت شام اور اپوزیشن کی نمائندگی موجود نہیں تھی ۔ بات چیت میں شریک ممالک نے مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے کی کوشش کی جن کی وجہ سے کم از کم ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور پناہ گزینوں کا یوروپ کو نقل مقام جاری ہے ۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری اور وزیر خارجہ روس سرجی لاؤروف نے کہا کہ انہوں نے شام کے تنازعہ کے ابھرکر ایک متحدہ سیکولر مملکت میں تبدیل ہونے سے اتفاق کرلیا ہے ‘ تاہم کیری اور لاؤروف نے صدر بشارالاسد کے فوری اقتدار سے دستبرداری کے بارے میں اختلاف رائے کیا ۔ مغرب اور خلیج کی شاہی حکومتیں جن کی قیادت سعودی عرب کررہا ہے چاہتی ہیں کہ بشارالاسد اقتدار سے دستبردار ہوجائیں

لیکن روس اور ایران کا اصرار ہے کہ انہیں منتقلی اقتدار کے سلسلہ میں ایک کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ بعدازاں انتخابات منعقد کئے جاسکتے ہیں اور اُس وقت تک عبوری اتحادی حکومت تشکیل دی جاسکتی ہے ۔ 15دن میں دوبارہ مذاکرات کا انعقاد ممکن ہے ۔ بانکی مون نے اپنے بیان میں کہا کہ کھلم کھلا غیرانسانی حرکتوں کے پیش نظر پوری دنیا کو اس کا متحدہ طور پر جواب دینا چاہیئے ۔ دنیا ایک بار پھر انسانیت کی توثیق کرسکتی ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون سے اپنی وابستگی ظاہر کرسکتی ہے ۔ دریںاثناء بیروت سے شامی رسدگاہ کی اطلاع کے بموجب باغیوں کے زیرقبضہ مشرقی شامی علاقہ کے ایک پُرہجوم بازار میں فضائی حملہ کے نتیجہ میںہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 70 اور زخمیوں کی 550ہوگئیں ۔ یہ علاقہ ڈوما مشرقی غوطہ میں ہے جو اپوزیشن کا سب سے بڑا مستحکم گڑھ ہے ۔ یہ انتہائی وحشیانہ بمباری تھی جس کا نشانہ ایم ایس ایف کی حمایت یافتہ دواخانہ کے قریب کار علاقہ تھا ۔ پہلے دور کے اجتماعی ہلاکتوں کے ردعمل کے طور پر اس دواخانہ میں زخمیوں کے علاج اور مہلوکین کی تدفین میں مدد کی تھی ۔ زخمی ہونیو الے افراد بدترین حد تک زخمی تھے اور ایسے زخموں کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔دو اور افراد شام کی سرکاری افواج کی فضائی بمباری کے دوران ڈوما کے علاقہ میں ہلاک ہوگئے ۔ کل32شہری بشمول 12بچے حملوں میں شہر حلب میں ہلاک ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT