Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / ویومنگ میں کامیابی کے بعد سینڈرس کی نگاہیں نیویارک پرائمری پر

ویومنگ میں کامیابی کے بعد سینڈرس کی نگاہیں نیویارک پرائمری پر

چیین( ویومنگ) ۔10اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) نیویارک کی  اہم پرائمری سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار برنی سینڈرس اور ری پبلکن پارٹی کے ٹیٹ کروز نے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے جس کی وجہ سے صدارتی دوڑ میں سب سے آگے امیدواروں ہلاری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت دھکہ پہنچا ہے ۔ سینڈرس نے ویومنگ میںکلنٹن پر کامیابی حاصل کی جب کہ کروز نے کولوریڈو میں ٹرمپ پر کامیابی حاصل کی ۔ سینڈرس اور کروز کی حالیہ کامیابیوںکو انتہائی اہم نیویارک پرائمری سے قبل اُن کے حوصلے بلند کرنے والی کامیابی سمجھا جارہا ہے ۔ یہ پرائمری 19اپریل کو مقرر ہے ۔ ویرماؤنٹ کے 74سالہ رکن سینٹ نے گذشتہ 9مقابلوں میں سے 8میں حیران کن کامیابی حاصل کی جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی جو بیرون ملک مقیم ہیں ہلاری کلنٹن کی تائید نہیںکی ۔ ویومنگ میں ان کے مخالف امیدوار کو 56فیصد اور ہلاری کلنٹن کو 44فیصد ووٹ حاصل ہوئے ۔ یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کی نامزدگی میں  سب سے چھوٹی ریاست ہے ۔ آج کی پرائمری سے ہر امیدوار کو 7 مندوبین کے ووٹ حاصل ہوئے ۔ اس طرح ہلاری کلنٹن سینڈرس پر اپنی سبقت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ۔

بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینڈرس نے کہا کہ پناما پیپرس اسکینڈل میں جاریہ ہفتہ جو انکشافات ہوئے ہیں وہ انتہائی سخت ہیں ۔ سینڈرس کو مستقل طور پر کلنٹن پر کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں اور وہ پارٹی کی جانب سے بطور امیدوار نامزد کئے جانے کی سمت پیشرفت کررہے ہیں ۔ ہلاری کلنٹن کی اُن پر سبقت حالانکہ برقرار ہیں لیکن اس میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے ۔ دوسری طرف ٹیٹ کروز نے تمام 34 مندوبین کے ویومنگ میں ووٹ حاصل کرلئے ۔ اس طرح ان کے حریف ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت دھکہ پہنچا ۔ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار نامزد ہونے کیلئے 1237 ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے ۔ آج قدامت پسندوں کو ایک اور زبردست کامیابی ری پبلکنس پر حاصل ہوئی ۔ امریکی شہری جنہیں اپنے ملک کے مستقبل کی فکر ہے‘ اُن کی تائید کررہے ہیں ۔ کروز نے ایک پریس کانفرنس میں اس کا انکشاف کیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے تمام امیدوار نیویارک کی اہم پرائمری کو مرکز توجہ بنائے ہوئے ہیں ۔ فلوریڈا کی  کامیابی کے بارے میں ٹیٹ کروز نے اپنے حامیوں سے کہا کہ یہ کامیابی آسان نہیں تھی لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کونسا امیدوار اُن اصولوں اور اقدار کو اہمیت دیتاہے جو امریکہ کو ایک عظیم ملک بناسکتے ہیں ۔ سی این بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو مایوسی پر مبنی اور غیر منظم قرار دیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بااعتماد ساتھیوں میں ان سے جو امیدیں وابستہ کررہی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری نہیں ہوں گی ۔ بروکلین میںہلاری کلنٹن نے کہا کہ انہیں نیویارک پرائمری میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل ہوگی اور وہی اپنی پارٹی کی صدارتی امیدوار نامزد ہوں گی ۔

TOPPOPULARRECENT