Saturday , May 27 2017
Home / شہر کی خبریں / وی آئی پی کلچر کے خاتمہ پر مرکزی حکومت کے فیصلہ پر تلنگانہ میں عمل آوری

وی آئی پی کلچر کے خاتمہ پر مرکزی حکومت کے فیصلہ پر تلنگانہ میں عمل آوری

سرکاری عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کی گاڑیوں سے لال بتی کلچر کا خاتمہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مئی (سیاست نیوز) ملک میں وی آئی پی کلچر کے خاتمہ کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کے فیصلہ پر تلنگانہ حکومت نے سختی سے عمل آوری کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ سرکاری عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کی گاڑیوں پر لال بتی کلچر کو ختم کرنے کی مہم کا اگرچہ عام آدمی کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا ہے لیکن سیاسی قائدین اس فیصلہ سے مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی عین خواہش ہوتی ہے کہ انہیں کوئی ایسا عہدہ حاصل ہو جس کے ذریعہ ان کی گاڑی پر لال یا بلیو رنگ کی بتی اور سائرن کی سہولت حاصل ہو۔ وہ جیسے ہی سڑک پر نکلیں ، ان کیلئے راستہ بآسانی ہموار ہوجاتا ہے لیکن عام آدمی کو وی آئی پی کلچر سے دشواری ہورہی تھی۔ تلنگانہ حکومت میں کئی سیاسی قائدین اور عہدیداروں کی جانب سے گاڑیوں پر لائیٹ برقرار رکھنے کی اطلاع کا چیف سکریٹری ایس پی سنگھ نے سختی سے نوٹ لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری نے تمام محکمہ جات کو ہدایت دی ہے کہ لال اور بلیو لائیٹ فوری طور پر ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے حوالے کردیئے جائیں گے۔ چیف سکریٹری نے سینئر عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ کوئی بھی عہدیدار چاہے وہ کسی کیڈر کا کیوں نہ ہو ، وہ ٹریفک کلیئرنس کیلئے سائرن کے استعمال کے مجاز نہیں ہوں گے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گاڑیوں پر بتی اور سائرن کے استعمال کے خلاف اقدامات کریں۔ مرکزی وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے تلنگانہ حکومت کو علحدہ احکامات حاصل ہوئے ہیں جس کے تحت مرکز اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کی ہدایت دی گئی۔ چونکہ ریاستی حکومت کو فیصلہ پر عمل کرنا ہے ، لہذا اس نے تمام محکمہ جات کو علحدہ طور پر احکامات جاری کئے۔ تمام ضلع کلکٹرس اور ریونیو عہدیداروں کو اس سلسلہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ارکان پارلیمنٹ ، اسمبلی اور کونسل کے علاوہ کارپوریشن کے صدور نشین ابھی بھی لائیٹ اور سائرن کا استعمال کر رہے ہیں۔ چیف سکریٹری نے اس طرح کی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے قانون کے تحت 100 تا 300 روپئے جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان احکامات پر سختی سے عمل کرے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں حکومت کے کئی مشیر ہیں، جنہیں کابینی درجہ دیاگیا۔ ان کی گاڑیوں پر لائیٹ فراہم کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں کے صدور نشین نے بھی اپنی گاڑیوں پر لائیٹ اور سائرن کی سہولت حاصل کرلی تھی۔ ایسے وقت جبکہ یہ وی آئی پی افراد ابھی ان سہولتوں سے بھرپور استفادہ نہیں کرپائے تھے کہ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ ان کیلئے مایوسی کا سبب بن گیا۔ گزشتہ دنوں حکومت نے 10 کارپوریشنوں کے صدورنشین کا تقرر کیا اور یہ تمام لائیٹ کی گاڑیوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ حکومت کے احکامات کے بعد انہیں بادل ناخواستہ سہی گاڑیوں سے لائیٹ اور سائرن کو نکالنا پڑا۔ اس فیصلہ سے اب عوام کو راحت ملے گی کیونکہ کسی بھی شخصیت کیلئے ٹریفک کو روکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT