Monday , April 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / و رفعنا لک ذکرک

و رفعنا لک ذکرک

حافظ محمد صابر پا♥شاہ قادری
حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان اقدس میں کہے جانے والے اشعار کو نعت کہتے ہیں ۔ اﷲ رب العزت کاارشاد گرامی ہے : ’’اے نبی! ہم نے آپ کے ذکر کو رفعت عطا کی ‘‘۔ یہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک پیشنگوئی ہے جو تاقیام قیامت رہے گی ۔حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح (نعت) میں سب سے پہلے جس نے زبان کھولی وہ آپؐ کے مربی چچا حضرت ابوطالب ہیں۔
المواہب اللدنیہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ عنہ  سے یہ روایت منقول ہے کہ حضرت عمرؓ حسب معمول ایک رات مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت لگارہے تھے تو ان کو ایک جھونپڑے میں روشنی نظر آئی ، قریب گئے تو دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت روئی دھنک رہی ہے اور یہ گاتی جاتی ہے ۔ محمدؐ پر پاکیزہ نفوس کا درود ہو ۔ پسندیدہ منتخب حضرات کا ان پر سلام ہو ۔ میں راتوں کو جاگتی ، سحر تک آنسو بہاتی رہوں ، ائے کاش ، مجھے پتہ ہوتا ، موت کی بھی شکلیں ہیں ۔ کہ کیا میں اور میرے حبیب دارِآخرت میں یکجا ہوں گے ۔ حضرت عمر فاروقؓ وہیں بیٹھ کر رونے لگے ، پھر اُٹھے اور اس ضعیفہ کو سلام کیا اور کہا : ’’پھر اپنا کلام سُنائیے ‘‘ ۔
اس ضعیفہ نے درد بھری آواز میں پھر انھیں دہرایا ۔ حضرت فاروقؓ پر پھر گریہ طاری ہوا ، جب ذرا طبیعت ، سنبھلی تو فرمایا کہ عمرؓ کو بھی ذرا اپنی دعا میں یاد رکھئے گا تو اس خاتون نے برجستہ ایک مصرع کا اضافہ کیا ۔ ’’اور عمرؓ کو اے غفار بخش دے ‘‘۔
یہ نعت و مدح وہ تاثر ہے جو ممدوح کو ایک نظر دیکھتے ہی کسی صاحب نظر کے قلب پر منعکس ہوا کرتا ہے۔ مثلاً عبداﷲ بن سلام ( جو پہلے یہودی تھے) اسلام کی جستجو میں پھرتے پھراتے ، بارگاہ اقدسؐ میں پہنچے تو چہرہ انور کو دیکھتے ہی کہا کہ : یہ چہرہ ( انور) کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا اور فوراً ہی اسلام قبول کرلیا ۔
صحابہ کرامؓ کو حضور اکرم ﷺ سے جو والہانہ محبت تھی اس کی ایک جھلک عروہ بن مسعود کے اس بیان سے ظاہر ہے ۔ حضور ؐ وضو کرتے ہیں تو وضو کے بچے ہوئے پانی پر صحابی یوں گرے پڑتے ہیں کہ گویا اب لڑ پڑیں گے ، حضور ؐ کے دہن پاک سے جو شئے نکلتی ہے اس کو زمین پر گرنے نہیں دیتے وہ کسی نہ کسی کے ہاتھ پر روک لیا جاتا ہے جسے وہ سر پر مل لیتے ہیں ۔ حضور کچھ فرماتے ہیں تو سب چپ چاپ ہوجاتے ہیں ۔ تعظیم کا یہ حال ہے کہ حضورؐ کی طرف آنکھ اُٹھاکر نہیں دیکھتے ۔ عروہ نے مزید جو کہا اُس کے ایک ایک لفظ میں نعت و مدح کی شیرینی ہے ، ’’لوگو ! میں نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کادربار دیکھا ہے مگر اصحاب محمدؐ جو تعظیم محمدؐ کی کرتے ہیں وہ تو کسی بادشاہ کو خود اُس کے دربار اور ملک میں بھی حاصل نہیں ہے ‘‘ ۔
حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہؓ سے کسی نے پوچھا کہ رسول اﷲ ﷺ سے تمہاری محبت کیسی تھی ؟
فرمایا : بخدا حضورؐ ہم کو مال ، اولاد ، فرزند و مادر سے زیادہ محبوب تھے ، اور اس سے زیادہ ان کی طلب ہمارے دلوں میں تھی ، جتنی ایک پیاسے کو ٹھنڈے پانی کی طلب ہوتی ہے ۔
اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ سے صحابہ ؓ نے جب حضورؐ کے اخلاق حمیدہ دریافت فرمائے تو ، فرمایا : کیا تم قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرتے ۔ یعنی قرآن مجید سارا کا سارا حضور پاکؐ کے اخلاق حمیدہ ہیں۔ یہ جملہ حضور پاکؐ کی ’’نعت و مدح‘‘ میں ہزاردیوان پر بھاری ہے ۔
صحابہ کرامؓ نے اپنی دل سوزی اور فنائیت کا اظہار جو عمل سے کیا تھا بعد کے لوگوں نے اپنے قول سے کیا ۔ اس سلسلہ میں حضرت ابودجانہؓ کا واقعہ یاد کیجئے کہ وہ حضور پاکؐ کو غزوہ احد کے موقع پر اپنے جسم کے گھیرے میں لئے ہوئے تھے اور سارے تیر جو دشمنوں کی طرف سے آرہے تھے وہ اپنا پشت پر برداشت کرتے رہے تاکہ حضور پاک ﷺ کو ایک تیر بھی نہ لگنے پائے ۔
ہجرت مدینہ کے موقع پر مدینہ منورہ کی لڑکیاں دف ( جوایک ہاتھ سے بجتا ہو) پر یہ اشعار گارہی تھیں  ؎
طلع البدر علینا
من ثنیات الوداع
پہاڑی کے اس موڑ سے جہاں سے قافلے رخصت کئے جاتے ہیں آج چودہویں کا چاند نکل آیا ہے ۔
وجب الشکر علینا
ما دعا للہ داع
جب تک دنیا میں اﷲ کا نام لیوا رہے گا
ہم پر شکر ادا کرنا واجب رہے گا ۔
أیھا المبعوث فینا
جئت بالأمرالمطاع
ائے وہ ذات پاک جس کو ہمارے درمیان بھیجا گیا ہے ۔ آپ واجب الاطاعت حکم لے کر آئے ہیں ۔
(…الخ)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT