Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / و20ارڈز میں مستحکم موقف، کوئی مفاہمت نہیں

و20ارڈز میں مستحکم موقف، کوئی مفاہمت نہیں

حیدرآباد۔/21جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے گریٹر انتخابات میں تمام 150حلقوں پر پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی پرانے شہر کے ان حلقوں میں بھی سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ کی تیاری کررہی ہے جو مجلس کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ گریٹر انتخابات میں ٹی آر ایس کی انتخابی مہم کے انچارج وزیر پنچایت راج کے ٹی راما راؤ نے اس سلسلہ میں پارٹی قائدین اور کیڈر کو واضح طور پر ہدایات جاری کردی ہیں۔ پارٹی نئے شہر کے علاوہ پرانے شہر میں بھی اپنی طاقت کے مظاہرہ کی خواہاں ہے تاکہ مستقبل میں پارٹی کو پرانے شہر سے اسمبلی کیلئے امیدوار منتخب کرنے کی راہ ہموار ہو۔ ذرائع نے بتایا کہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل مقامی جماعت سے نشستوں کے مسئلہ پر درپردہ مفاہمت کی بات چیت ہوئی تاہم کئی نشستوں کے بارے میں اختلاف رائے کے بعد ٹی آر ایس نے پوری شدت کے ساتھ مجلسی علاقوں میں بھی مقابلہ کی تیاری کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی حلقوں کے انچارج وزراء کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے تمام امیدواروں کے انتخابی اخراجات میں تعاون کریں اور مسلم رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ پارٹی کے داخلی سروے کے مطابق پرانے شہر کے 15تا 20 بلدی وارڈز میں ٹی آر ایس کا موقف مستحکم ہے اور اگر سنجیدگی سے مقابلہ کیا جائے تو 10سے زائد نشستوں پر کامیابی مل سکتی ہے۔ ایسے میں ٹی آر ایس قیادت نے اپنے کیڈر کو اشارہ دیا ہے کہ وہ پرانے شہر میں بھی مقامی جماعت مجلس سے مفاہمت کی پرواہ کئے بغیر پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں مسلم اقلیت کا رجحان ٹی آر ایس کی طرف بڑھتا دیکھا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مختلف فلاحی اسکیمات سے اقلیتی رائے دہندوں میں ٹی آر ایس کے تئیں ہمدردی میں اضافہ ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی مہم میں ٹی آر ایس قائدین اور کیڈر حکومت کے فلاحی اسکیمات کے بارے میں رائے دہندوں کو واقف کرائیں اور مقامی جماعت کو اس کا سہرا اپنے سر باندھنے سے  روکیں۔ پرانے شہر کے  38 بلدی حلقوں میں کئی حلقے ایسے ہیں جہاں برسراقتدار جماعت نے مقامی جماعت کی پرواہ کئے بغیر امیدواروں کے نام کا اعلان کردیا۔ حالانکہ کئی وارڈز میں مسلم امیدواروں کو اکثریتی طبقہ کے امیدوار کو ٹکٹ دینے کیلئے مقامی جماعت کی جانب سے حکومت پر دباؤ بنایا گیا تھا۔ اسی دوران کے ٹی راما راؤ نے پرانے شہر کے کئی بلدی حلقوں میں انتخابی مہم میں حصہ لینے سے اتفاق کرلیا۔ پرانے شہر میں انتخابی مہم کی نگرانی اور امیدواروں کی ممکنہ رہنمائی کی ذمہ داری ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور وزیر صحت لکشما ریڈی کو دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بعض ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو بھی ان حلقوں میں متعین کیا جائے گا جہاں ٹی آر ایس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ پرانے شہر کے علاقوں میں سخت مقابلہ کی تیاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کے ٹی آر نے پرانے شہر کی پسماندگی کیلئے کانگریس اور تلگودیشم کے ساتھ مجلس کو بھی ذمہ دار قرار دیا۔ انتخابی مہم کے دوران اور مختلف ٹی وی مباحثوں میں حصہ لیتے ہوئے کے ٹی آر نے مجلس کا نام لیکر نکتہ چینی کی اور کہا کہ میئر کے عہدہ پر قبضہ کے باوجود پرانے شہر کی ترقی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ انتخابی مہم سے قبل ٹی آر ایس نے مقامی جماعت کے ساتھ مفاہمت پر لب کشائی سے گریزکیا لیکن کے ٹی آر اور رکن پارلیمنٹ کویتا نے مہم کے آغاز کے ساتھ ہی مجلس سے کسی بھی مفاہمت کی تردید کی اور کہا کہ یہ محض اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پروپگنڈہ ہے۔ انہوں نے تلگو چینل T نیوز پر عوامی سوالات کا جواب دیتے ہوئے مجلس سے مفاہمت کی تردید کی اور دوبارہ اس بات کا دعویٰ کیا کہ 150کے منجملہ 100نشستوں پر ٹی آر ایس کی کامیابی کا یقین ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو چیلنج کیا کہ وہ100 نشستوں پر عدم کامیابی کی صورت میں استعفی سے متعلق چیلنج کا جواب دیں۔ کے ٹی آر نے ٹکٹ سے محروم قائدین کو جلد بازی میں غلط فیصلہ سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے تیقن دیا کہ پارٹی انہیں نامزد عہدوں پر تقرر کے ذریعہ اعتراف خدمات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2009ء کے بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس نے مقابلہ نہیں کیا تھا بلکہ 2014کے عام انتخابات میں شہر کے دو اسمبلی حلقوں سے پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی اور گریٹر حیدرآباد میں 22فیصد سے زائد ووٹ ٹی آر ایس کو حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 35 بلدی ڈیویژنس میں ٹی آر ایس کو واضح سبقت حاصل ہے اور انتخابی مہم کے دوران وہ 100 کے

TOPPOPULARRECENT