Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / ٹاسک فورس آفس دھماکہ کیس ‘ تمام 10 نوجوان بری

ٹاسک فورس آفس دھماکہ کیس ‘ تمام 10 نوجوان بری

12 سال طویل قانونی لڑائی میں کامیابی ۔ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام
حیدرآباد۔ 10 اگست (سیاست نیوز) بیگم پیٹ ٹاسک فورس آفس دھماکہ مقدمہ میں ماخود کئے گئے تمام مسلم نوجوانوں کو عدالت نے بے قصور قرار دیتے ہوئے با عزت بری کردیا ۔ 12 سال کی طویل قانونی لڑائی اور ان نوجوانوں کو قید میں رکھنے کے باوجود استغاثہ ان نوجوانوں کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔ واضح رہے کہ سال 2005ء میں بیگم پیٹ کے ٹاسک فورس آفس میں خودکش حملہ پیش آیا تھا۔ حیدرآباد کی تاریخ میں یہ واحد خودکش حملہ ہے جس میں حملہ آور کے بشمول ایک ہوم گارڈ ہلاک اور ایک پولیس کانسٹبل شدید زخمی ہوگیا تھا۔ حملہ کے بعد سے حیدرآباد، ظہیرآباد اور بیدر (کرناٹک) میں کی گئی گرفتاریوں میں پولیس نے جملہ 20 افراد کے خلاف کارروائی کی تھی اور سال 2006ء میں 10 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی جن میں سید حاجی، شکیل، عبدالکلیم، اجمل علی خاں، عظمت علی، محمود بارود والا، شیخ عبدالواجد، زاہد، نفیق ، ہلال الدین شامل تھے جو بنگلہ دیشی بتایا گیا ہے ۔ ان تمام نوجوانوں کو عدالت نے با عزت بری کردیا ۔ پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ ان نوجوانوں کا تعلق مبینہ طور پر بنگلہ دیش کی دہشت گرد تنظیم حرکت جہاد اسلامی سے بتایا تھا ۔ تاہم اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم جو اس کیس کی تحقیقات کررہی تھی،12 سال کے عرصہ میں بھی ملزمین پر عائد الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی۔ اس کیس میں ملزمین کی گرفتاریوں کے بعد بھی کئی ایک نوجوانوں کو شک کے دائرے میں لیا گیا تھا، جنہیں ہراسانی کا سامنا رہا۔ اس وقت پولیس کیلئے خودکش حملہ آور کی شناخت ایک اہم مسئلہ تھا۔ تاہم تحقیقاتی ایجنسیوں نے ٹاسک فورس آفس میں دستیاب چپل سے اس کے بنگلہ دیشی ہونے کا پتہ چلایا اور اس کی شناخت دالن کی حیثیت سے کی گئی۔ سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے ملزمین حیدرآبادی نوجوانوں پر الزامات عائد تھے کہ انہوں نے اسے ملک پیٹ میں پناہ دی تھی جس کے بعد پولیس نے انہیں حاصل اطلاعات کی بنیاد پر پرانے شہر کے مختلف علاقوں کے علاوہ ملک پیٹ، بیدر اور ظہیرآباد میں کارروائی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کیس میں کل 20 افراد کو ملزمین بنایا گیا تھا جس میں 9 افراد مفرور بتائے گئے ہیں اور 3 فوت ہوگئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق غلام یزدانی اور شاہد بلال بھی اس کیس میں ملزم تھے۔ پولیس نے بالآخر 10 کے خلاف سنگین دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی اور یہ 10 افراد پر الزامات کو ثابت کرنے میں پولیس ایجنسیاں ناکام رہی اور نامپلی کی ساتویں ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے ان ملزمین کو بری کردیا۔ وکلائے صفائی ایم اے عظیم الدین، شیخ سیف اللہ خالد، اوما مہیشور راؤ، ضیاء الدین اور رفعت اللہ خاں نے ملزمین کی جانب سے پیروی کی۔ عدالت نے 53 گواہوں کے بیانات کو قلمبند کیا اور 12 سال بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت کے اس فیصلہ سے ملزمین کے افراد خاندان میں مسرت کی لہر دوڑ گئی اور کہا کہ انہیں ابتداء سے عدلیہ میں یقین تھا اور آج کے فیصلے سے ان کا یقین اور بھی پختہ ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT