Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ٹاملناڈو ، کیرالا اور پڈوچیری میں آج رائے دہی

ٹاملناڈو ، کیرالا اور پڈوچیری میں آج رائے دہی

چینائی / تھروواننتاپورم ۔ /15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ٹاملناڈو اور کیرالا اسمبلیوں کے انتخابات کیلئے /16 مئی دوشنبہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ جن میں دو متعلقہ ریاستوں کے چیف منسٹروں جیہ للیتا اور اومن چنڈی کے علاوہ ان کے دیرینہ کٹر حریفوں زائد از 90 سالہ ایم کرونا ندھی اور وی ایس اچھوتا نندن کی قسمت کا فیصلہ ہوگا ۔ پڈوچیری میں بھی کل ہی رائے دہی ہوگی ۔ ٹاملناڈو ، کیرالا اور پڈوچیری میں موسم گرما کے عروج کے باوجود حریفوں نے دو ماہ تک سخت گیر انتخابی مہم چلائی تھی ۔ آسام ، مغربی بنگال ، ٹاملناڈو ، کیرالا اور پڈوچری اسمبلیوں کے انتخابات کے لئے دو ماہ کے دوران مختلف مرحلوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی /19 مئی کو ہوگی اور اس روز تقریباً تمام نتیجوں کا اعلان ہوجائے گا ۔ ان نتائج کو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ پانچ ریاستی اسمبلیوں کے ان انتخابات کو ’ منی جنرل الیکشن ‘ کہا جارہا ہے ۔ ٹاملناڈو بالترتیب اناڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے مابین اقتدار کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ کیرالا میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جہاں کانگریس کے زیرقیادت متحدہ جمہوری محاذ اور سی پی آئی (ایم) کے زیرقیادت بایاں بازو جمہوری محاذ ایک کے بعد دیگر اقتدار پر قبضہ کیا کرتے رہے ہیں ۔ چنانچہ مرکز میں حکمراں بی جے پی کا ان ریاستوں میں زیادہ اثر و رسوخ نہیں ہے لیکن اس مرتبہ وہ کم سے کم اپنا وجود منوانے کی کوشش کی ہے ۔ ٹاملناڈو کے انتخابی میدان میں اناڈی ایم کے کے سربراہ اور ’’وہیل چیرنشین‘ 91 سالہ کروناندھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان کے علاوہ چیف منسٹر کے عہدہ کے دیگر دو دعویداروں میں فلمی اداکار سے سیاستداں بننے والے وجئے کانت (ڈی ڈی ایم کے ۔ پی ڈبلیو ایف ۔ ٹی ایم سی اتحاد) اور پی ایم کے کے امبومن رام داس شامل ہیں ۔  ٹاملناڈو اسمبلی کی 233 نشستوں کے لئے 3740 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں جہاں 234 حلقوں کے منجملہ 233 حلقوں میں کل ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ ضلع کرور کے حلقہ اروا کرریچی میں /23 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے جہاں ووٹروں کو رشوت دینے سے متعلق امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی غیرقانونی سرگرمیوں کے سبب رائے دہی منسوخ کردی گئی ہے ۔ ٹاملناڈو 1967 سے ڈی ایم کے یا اناڈی ایم کے میں سے کسی ایک دراوڑی جماعت کے واضح انتخاب کیلئے جانا جاتا ہے ۔ اس طرح کیرالا میں بھی کانگریس یا کمیونسٹ محاذ کی حکومت تشکیل پائی ہے جہاں کل 40 اسمبلی حلقوں سے 1203 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں ۔ کانگریس کے چیف منسٹر اور سی پی آئی (ایم) میں چیف منسٹر کے عہدہ کے دعویدار اچھوتا نندن کے علاوہ ان کی پارٹی کے بزرگ لیڈر 92 سالہ پنارائی وجیئن ، وزیر داخلہ رمیش چنتلہ ، سابق وزیر فینانس کے ایم منی ، انڈین یونین مسلم لیگ کے لیڈر و وزیر صنعت پی کے کنھالی کٹی ، بی جے پی کے ریاستی صدر راج یگون ، سابق مرکزی وزیر اور راجگوپال اور کرکٹر سری سانت بھی چند دیگر اہم امیدواروں میں شامل ہیں ۔ کیرالا سے بی جے پی کا کوئی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی تاحال منتخب نہیں ہوا ۔ جہاں اب وہ اپنا کھاتہ کھولنا چاہتی ہے ۔ جس کے لئے بشمول وزیراعظم نریندر مودی ، بی جے پی کے صدر امیت شاہ ، کئی مرکزی وزراء اور سینئر بی جے پی قائدین نے مہم میں سرگرم حصہ لیا تھا لیکن وزیراعظم مودی کی جانب ایک پسماندہ اور تشدد سے متاثرہ افریقی ملک صومالیہ سے کیرالا کے تقابل پر زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا تھا جس سے کیرالا کے عوام میں مودی اور بی جے پی کی مقبولیت متاثر ہوئی ہے ۔ سوشیل میڈیا پر مودی کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ’’پومون مودی‘‘ (مودی واپس جاؤ) درج کیا گیا تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT