Saturday , April 29 2017
Home / اداریہ / ٹاملناڈو سیاسی اتھل پتھل کا شکار

ٹاملناڈو سیاسی اتھل پتھل کا شکار

دونوں دلوں میں ایک ہی ارماں ابھی تو ہے
نشتر کوئی قریبِ رگِ جاں ابھی تو ہے
ٹاملناڈو سیاسی اتھل پتھل کا شکار
سیاستداں جب ایک دوسرے کی چالوں کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں بھی وہی کامیاب ہوتا ہے جس کی چال کا شر زیادہ طاقتور و پراثر ہوتا ہے۔ ٹاملناڈو کی چیف منسٹر بننے کا خواب دیکھنے والی ششی کلا اب جیل کی اندھیری کوٹھری میں اپنے خواب کی تعبیر تلاش کریں گی۔ ششی کلا کے ساتھ وہی ہوا جو ایک شاطر سیاستداں کے حریف کا ہوتا ہے۔ اگرچیکہ کارگذار چیف منسٹر او پنیراسیلوم نے اپنی وفاداری نبھانے کی کوشش کی تھی، مگر اندر ہی اندر ایسی شرانگیز چال چلی گئی کہ پانسہ ہی پلٹ گیا۔ سپریم کورٹ میں جاری رشوت ستانی کیس کی سماعت اور فیصلہ کی گھڑی نے ششی کلا کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ سیاستداں بھی عجیب ہوتے ہیں اکثر قانون کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں۔ جیہ للیتا کا ساتھ دینے والی ششی کلا پر رشوت خوری کے الزامات ہیں اور سپریم کورٹ نے بھی کرپشن کیس میں ان کے مواخذہ کو برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ انہیں تقریباً 10 سال تک انتخابات میں حصہ لینے سے روک دے گا۔ 60 سالہ ششی کلا کو ٹاملناڈو کی سرگرم سیاست میں حصہ لینے کی خواہش پر عدالت کی مہر لگ چکی ہے اور انہیں فوری خودسپردگی کا حکم دیا گیا ہے۔ اب وہ اپنی ماباقی چارسال کی میعاد جیل میں ہی کاٹیں گی مگر قانون اور عدالت کے سامنے اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرنے والے لوگ بھی ہیں اور ہوسکتا ہیکہ قانون کے کسی نازک پہلو کے سہارے ششی کلا کو جیل کی چار دیواری سے نکال کر چیف منسٹر کی کرسی تک پہنچانے کی بھی کوشش کی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے ششی کلا کو ایک رکن اسمبلی بننے سے بھی نااہل بنادیا ہے۔ قانون عوامی نمائندگان کے تحت اگر وہ جیل سے رہا ہوکر بھی 6 سال کیلئے چیف منسٹر نہیں بن سکتی۔ تحت کی عدالت نے انہیں اور ان کے دو رشتہ داروں کو چار سال کی قید سنائی تھی اور فی کس 10 کروڑ روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ جیہ للیتا پر بھی چار سال کی سزاء اور 100 کروڑ روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ ششی کلا کا ساتھ دینے والے ارکان اسمبلی اس فیصلہ سے چپ رہیں گے یا پنیراسیلوم کو کرسی پر فائز ہونے کی اجازت دیں گے یہ سوال چند دن میں حاصل ہوسکے گا۔ اصل مسئلہ ٹاملناڈو کی سیاست میں تیسری طاقت کی مداخلت کاری کا ہے۔ او پنیراسیلوم کیلئے چیف منسٹر کی کرسی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ انا ڈی ایم کے میں ششی کلا کیمپ نے وزیرہائی ویز ای کے پلانی سوامی کو لیجسلیچر پارٹی لیڈر منتخب کرلیا ہے اور اب وہ تشکیل حکومت کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ اس انا ڈی ایم کے لئے او پنیراسیلوم کو پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے بھی خارج کردیا۔ ٹاملناڈو کا مسئلہ عدالتوں سے زیادہ سیاسی داؤ پیچ میں محصور ہوچکا ہے۔ اگر پنیراسیلوم کا گروپ مضبوط ہوتا ہے تو پھر گورنر کو دونوں دعویدار کیلئے ایوان اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی راہ ہموار کرنی ہوگی۔ اگر دونوں متحارب گروپ کریس کے حق دار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اسمبلی کا تازہ ہنگامی سیشن طلب کرکے رائے دہی کروائی جاسکتی ہے کیونکہ عدالت نے ششی کلا کو چیف منسٹر کی کرسی پر فائز ہونے سے روکنے والا فیصلہ سنایا ہے۔ کرسی کے پیچھے ہی سے چلائی گئی جیسے کہ سپریم کورٹ کے فوری خودسپردگی کے حکم کو نظرانداز کرکے ششی کلا نے پرسکون طور پر اپنے حامی ارکان اسمبلی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور مستقبل کے لائحہ عمل کو قطعیت دیکر حامی ارکان اسمبلی میں سے ہی انا ڈی ایم کے کا لیجسلیچر پارٹی لیڈر منتخب کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے فوری بعد ششی کلا خود کو قانون کے حوالے کرتی مگر انہوں نے اطمینان کے ساتھ اپنی پارٹی اور مستقبل کی حکومت کو قطعیت دے کر پارٹی قائدین کو اپنے اشاروں پر کام کرنے کیلئے تیار کردیا۔ پولیس کو چاہئے تھا کہ قانون عوامی مائندگیاں کے وقفہ کے تحت 83 ششی کلا کو فوری گرفتار کرتی یا ششی کلا فوری خود کو حوالے کرتی ایسا نہیں ہوا۔ پورا دن گذارنے تک ششی کلا خاص مقام پر پارٹی کارکنوں، قائدین سے خطاب کیا۔ جب قانون کی آنکھ میں اسطرح دھول جھونک دیا جاتا ہے تو حکومت سازی اور آگے کے پروگرام کو مرتب کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ٹاملناڈو کی سیاست یہاں سے مختلف اتھل پتھل اور عدم استحکام کا شکار رہے گی۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نے جو پلان تیار کیا ہے اس پر وہ کس حد تک کامیاب ہوسکتی ہے یہاں ٹاملناڈو کی مقامی سیاست اور سیاسی قائدین کے موقف پر منحصر ہے۔ فلم اسٹار رجنی کانت اور کمل ہاسن بھی ٹاملناڈو کی سیاست میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ٹاملناڈو میں پائی جانے والی عدم مستحکم سیاسی صورتحال کو ختم کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی قدم اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں جنوبی ہند کی یہ ریاست سیاسی کھیل اور ڈرامہ بازی کا ایک گرم گرم اسٹیج بنے رہے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT