Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ٹاملناڈو میں ریاست گیر سطح سے جلی کٹو احتجاجیوں کو ہٹادیا گیا

ٹاملناڈو میں ریاست گیر سطح سے جلی کٹو احتجاجیوں کو ہٹادیا گیا

احتجاجیوں میں چند انتہاپسند بائیں بازو تنظیمیں ، ریولوشنری یوتھ فرنٹ آف انڈیا اور سی پی آئی (ایم ایل) ملوث: پولیس

چینائی/کوئمبتور۔23 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پولیس نے آج بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے جلی کٹو حامی احتجاجیوں کو پوری ریاست ٹاملناڈو کے مختلف مقامات سے خاص طور پر مرینا بیچ سے جو احتجاج کا مرکزی مقام ہے، گرفتار کرلیا۔ سنگ باری اور لاٹھی چارج کے چند مقامات سے واقعات کی اطلاعات ملی۔ مرینا پر پولیس کارروائی علی الصبح شروع ہوئی جبکہ ساحل سمندر کو جانے والی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی اور کثیر تعداد میں پولیس جمعیت تعینات کردی گئی۔ بعض احتجاجی ساحل سمندر پر قطار کی شکل میں کھڑے ہوئے انسانی زنجیر بنارہے تھے۔ انہوں نے منتشر ہونے کی پولیس کی درخواست سننے سے انکار کردیا۔دیگر چند افراد نے ریت پر دھرنا دیا اور قریبی علاقوں میں دوبارہ جمع ہوکر نعرہ بازی کرنے لگے۔ مبینہ طور پر انہوں نے پولیس پر سنگ باری بھی کی۔ پولیس نے آنسو گیاس شل برسائے اور مبینہ طور پر احتجاجیوں کو منتشر کرنے اور ساحل مرینہ کے قریب ٹرپلی کین میں جمع ہونے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ اس پر احتجاجیوں نے پولیس ملازمین پر سنگ باری شروع کردی۔ گزشتہ ایک ہفتے سے جلی کٹو پر عائد امتناع برخواست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج جاری ہے۔ ہفتے کے دن جلی کٹو کی تائید میں آرڈیننس جاری کرنے کے باوجود احتجاج جاری رکھنے کا مظاہرین نے عہد کیا ہے اور کہا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر اس کھیل کو جاری رکھنے کے قطعی فیصلے تک احتجاج جاری رہے گا۔ کوئمبتور میں پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو وی او سی پارک میدان سے زبردستی تخلیہ کروادیا جہاں گزشتہ چھ دن سے دھرنا جاری تھا۔ پولیس نے اپیل سننے سے احتجاجیوں کے انکار پر انہیں زبردستی اٹھاکر دیگر مقامات پر منتقل کردیا۔ خاتون پولیس ملازمین بھی خاتون احتجاجیوں کو جن میں بعض عمررسیدہ اور بعض بچوں کو اٹھائے ہوئے تھیں، منتقل کرتے دیکھا گیا۔ احتجاجیوں نے ہاتھ جوڑ کر پرامن احتجاج سے نہ روکنے کی اپیل کی۔ پولیس کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چند نوجوانوں نے ’اواناشی‘ (انسانی زنجیر) بنائی۔ پولیس نے ہکہ بید چارج کیا تاکہ احتجاجیوں کو منتشر کیا جاسکے۔ بعض احتجاجی نعرہ بازی کررہے تھے۔ پولیس کے بموجب میدان خالی کروادیا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے میدان پر کنٹرول کرلیا ہے۔ مدورائی سے نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ احتجاجیوں نے مبینہ طور پر پولیس پر سنگ باری کی جبکہ احتجاجیوں کو پولیس منتشر ہونے کی ترغیب دے رہی تھی۔ تینی سے موصولہ اطلاع کے بموجب پولیس نے کہا کہ بعض احتجاجی جنہوں نے جلی کٹو کی تائید میں احتجاج کیا ہے، انتہاپسند بائیں بازو کی تنظیموں سے جیسے سی پی آئی (ایم ایل) اور ریولوشنری یوتھ فرنٹ آف انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس کے بموجب کئی احتجاجی اس سوال پر کہ کیا ان کا احتجاج جاری رہے گا؟ حالانکہ جلی کوٹو کی تائید میں آرڈیننس جاری کیا جاچکا ہے۔ احتجاجیوں کی جانب سے کوئی مناسب جواب نہیں ملا۔فوری بعد وہ مقام احتجاج سے منتشر ہوگئے۔ پیرمبلور میں احتجاجی پولیس کی درخواست یا سوال جواب سے پہلے ہی منتشر ہوگئے۔ بعض افراد احتجاج کے مقام سے روانہ ہونے سے قبل پولیس ملازمین سے بغلگیر بھی ہوگئے۔ پولیس نے جلی کٹو کے حقیقی حامیوں سے کہا کہ حکومت کی کارروائی پر انہیں مطمئن ہوجانا چاہئے اور احتجاج ترک کردینا چاہئے کیوں کہ ان کا حقیقی مقصد حاصل ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT